پشاور:

عہدے سے ہٹانے کی خبروں پر گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کا ردعمل سامنے آگیا۔

فیصل کریم کنڈی نے پشاور میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گورنر کی تبدیلی کے حوالے سے مجھے کچھ علم نہیں، اگر میڈیا ہی گورنر لگائے گا تو پھر اللہ حافظ ہے۔

فیصل کریم کنڈی کا کہنا تھا کہ انکی تبدیلی کے حوالے سے پارٹی کا جو فیصلہ ہوگا وہ قبول کریں گے۔

واضح رہے کہ میڈیا کے بعض حلقوں میں گورنر خیبر پختونخوا کو عہدے سے ہٹانے کی خبریں گردش کررہی ہیں۔

نجی ٹی وی کے مطابق نئے گورنر خیبرپختونخوا کے لیے 6 نام زیر غور ہیں جن میں 3 سیاسی شخصیات اور تین سابق فوجی افسران شامل ہیں۔

سیاسی شخصیات میں امیر حیدر خان ہوتی، آفتاب شیر پاؤ اور پرویز خٹک کے نام زیر غور ہیں۔

گورنر کے عہدے کیلئے سابق کور کمانڈر پشاور لیفٹیننٹ جنرل (ر) خالد ربانی، لیفٹیننٹ جنرل (ر) غیور محمود اور لیفٹیننٹ جنرل (ر) طارق خان کے ناموں پر بھی غور کیا جارہا ہے۔

.

ذریعہ: Express News

پڑھیں:

عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم

 

یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ، کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام ردعمل ہے ، تو سچ مچ عمران خان کو کچھ نہ کر دیں

عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ،گھر سے کوئی کھانے کی چیز ان کے پاس نہیں جاتی، عمران خان نارمل قیدیوں سے زیادہ سخت جیل کاٹ رہے ہیں، خصوصی گفتگو

سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی بہن علیمہ خانم نے کہا ہے کہ ان کے بھائی کی صحت سے متعلق سوشل میڈیا پر چلنے والی خبروں کا مقصد دراصل ’لوگوں کا ردعمل جانچنا‘ہے ۔ عمران خان کی بہن علیمہ خانم نے ایک بین الاقوامی خبررساں ادارے سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ انہیں اڈیالہ جیل سے ملنے والی معلومات پر یقین نہیں۔علیمہ خانم کے مطابق انہیں آج تک جیل کے اندر سے کوئی اطلاعات نہیں ملیں۔ ’ہم اگر جائیں گے تو کچھ پتہ چلے گا۔ اگر یہ کچھ بتائیں گے بھی، تو ہمیں یقین نہیں ہے ۔ مجھے یہ نہیں سمجھ آتی کہ اتنا تماشا لگا ہے تو اتنا تو کر سکتے تھے کہ اجازت دے دیتے ‘۔سوشل میڈیا پر چلنے والی عمران خان کی مبینہ موت کی خبروں پر ردعمل دیتے ہوئے علیمہ خان نے کہااس قسم کی خبر کہاں سے نکلی ہے کہ ان کو مار دیا گیا ہے ؟ ہم تک تو کوئی خبر پہنچ ہی نہیں سکتی۔ کسی نے آج ہمیں کہا کہ یہ ٹیسٹ رن کر رہے ہیں، دیکھنے کے لیے کہ لوگوں کا کیا ردعمل آتا ہے ۔ کیونکہ یہ سوچتے ہیں اگر لوگوں کا ردعمل نہیں آتا، اگر قابل انتظام (Manageable) ردعمل ہے ، تو سچ مچ ان (عمران خان) کو کچھ نہ کر دیں۔ علیمہ خانم نے کہا ’صرف ایک بہن کو جانے دیں، ہمارے ایک فیملی ممبر یا ایک وکیل کو جانے دیں۔ ایک دفعہ وہ اندر جا کر دیکھ کر آ کے ہمیں بتا دیں کہ وہ ٹھیک ہیں۔ تین منٹ کے لیے بھی جانے دیں۔ یہ کیوں نہیں کر رہے ؟ یا یہ خود ہی خبریں نکال رہے ہیں‘۔سابق وزیر اعظم سے آخری ملاقات کے حوالے سے انہوں نے بتایاکہ آخری مرتبہ 16 اکتوبر کو ہماری دوسری بہن ڈاکٹر عظمی خان نے عمران خان سے ملاقات کی تھی۔’بقول علیمہ خان: ‘وہ جیل میں جانے سے پہلے اور اب ماشاء اللہ فٹ ہیں اور صحت مند ہیں، لیکن انہوں نے ان کو قید تنہائی میں رکھا ہے ‘۔سابق وزیر اعظم کی بہن نے بتایا کہ ’عمران خان ایک 8×10 کے سیل میں ہیں، اسی میں ٹوائلٹ بھی ہوتا ہے ۔ یہی ہر قیدی کے پاس ہوتا ہے ۔’ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ‘گھر سے کوئی کھانے کی چیز ان کے پاس نہیں جاتی۔ سارا کچھ جیل سے ہی جاتا ہے جبکہ جیل حکام اس کی پرکیورمنٹ کرتے ہیں۔ ان کے پاس ایک مشقتی ہے جو ان کو کھانا بنا کر دیتا ہے ‘۔انہوں نے جیل میں ملنے والی سہولیات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا: ‘عمران خان مکمل آئیسولیشن میں ہیں، سوائے اس مشقتی کے یا جو پولیس گارڈز ہیں، ان کی ملاقات کسی انسان سے نہیں ہو سکتی۔ عمران خان نارمل قیدیوں سے زیادہ سخت جیل کاٹ رہے ہیں۔عمران خان کے اکاؤنٹ میں پیسے جاتے ہیں، جس میں سے جیل والے ان کے لیے سودا لاتے ہیں۔ انہوں نے اپنی روٹین بنائی ہوئی ہے ۔ شاید وہ صحیح کہہ رہے ہیں کہ عمران نے بھی کہا تھا کہ میں ہفتے میں دو دفعہ مرغی کھاتا ہوں، رات کو نہیں کھاتا، دوپہر کو کھا لیتا ہوں۔ وہ زیادہ گوشت نہیں کھاتے ۔ رات کو شاید دلیہ کھا لیتے ہیں، صبح کو دہی اور تھوڑا سا پھل کھا لیتے ہیں۔عمران خان دو چیزیں مانگتے ہیں۔ بچوں سے بات کروا دیں، جو شاید پچھلے ایک سال میں تین یا چار دفعہ کروائی گئی ہے ، حالانکہ ہر ہفتے ہونی چاہیے ۔ یا کہتے ہیں میری کتابیں دے دیں، یہ کتابیں نہیں دیتے ۔علیمہ خان نے عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی پر تنقید کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کیا کبھی کسی نے کلثوم نواز شریف سے سوال کیا تھا کہ ان (نواز شریف) کے فیصلوں پر وہ کتنا اثر انداز ہوتی تھیں؟ آدھی اسمبلی ان کے رشتے داروں سے بھری ہوتی تھی، کیا میاں بیوی مشاورت نہیں کرتے ؟اس سوال پر کہ کیا واقعی کوئی تحریک چلنے جا رہی ہے ؟ علیمہ خانم نے جواب دیا تحریک تو چل رہی ہے ، عمران خان نے جو اعلان کیا تھا، تحریک چل رہی ہے ۔ عمران خان نے سخت ہدایت دی ہے کہ اسلام آباد نہیں آنا۔گذشتہ برس 26 نومبر کو پاکستان تحریک انصاف کے کارکنان اور سکیورٹی اداروں کے اہلکاروں کے درمیان اسلام آباد میں شدید جھڑپیں ہوئی تھیں، جس کے نتیجے میں کئی فراد جان سے گئے اور متعدد زخمی ہوئے تھے ۔حکام نے رہنماؤں اور اہل خانہ سے عمران خان کی ملاقات کا عندیہ تو دیا ہے لیکن ساتھ ہی کچھ ’شرائط‘ بھی عائد کی ہیں۔ انٹرویو کے دوران حکام سے مذاکرات سے متعلق سوال پر علیمہ خانم نے کہاکس سے مذاکرات؟ عمران خان نے تو بڑی دیر پہلے (مذاکرات) بند کر دیے تھے ۔ کہا تھا کہ اس حکومت کے پاس کچھ نہیں ہے۔ اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بھی کسی نے بات نہیں کرنی۔اسٹیبلشمنٹ کی جانب سے پیغامات پر علیمہ خانم نے کہاپتہ نہیں، ہماری طرف سے نہ کوئی پیغام گیا، نہ ہمارے پاس آیا۔عمران خان کے بیٹوں کے پاکستان آنے سے متعلق سوال پر علیمہ خانم نے کہاان کے پاس نائیکوپ کارڈ ہے ، جس کی تجدید ہونا تھی۔ ہمیں بتایا گیا کہ اس حکومت سے (کارڈ کی) تجدید کا کہیں گے تو کارڈ لندن تک پیدل آئے گا اور اس کے آنے میں سال لگا دیں گے ۔ بہتر یہ ہے کہ یہ برطانیہ کے پاسپورٹ پر ویزا کے لیے اپلائی کیا جائے ۔انہوں نے مزید بتایا کہ عمران خان کے بیٹوں نے رواں برس جولائی میں ویزہ کے لیے اپلائی کیا تھا، لیکن انہیں ان دستاویزات کی وصولی تک نہیں دی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • گورنرخیبرپختونخوا کی تبدیلی کا امکان، پارٹی کا فیصلہ قبول کروں گا، فیصل کنڈی
  • گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کیے جانے کا امکان سیاسی اور غیر سیاسی ناموں پر مشاورت
  • گورنر خیبرپختونخوا کو تبدیل کرنے کا امکان؛ فیصل کریم کا لاعلمی کا اظہار
  • خیبر پختونخوا میں گورنر کی تبدیلی کا امکان، قرعہ فال کس کے نام ہو سکتا ہے؟
  • گورنر خیبرپختونخوا فیصل کنڈی کو تبدیل کیے جانے کا امکان
  • گورنرخیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی کو تبدیل کئے جانے کا امکان 
  • عمران خان کی صحت سے متعلق خبروں کا مقصد عوام کا ردعمل جانچنا ہے ،علیمہ خانم
  • پشاور ہائیکورٹ کا ٹک ٹاک سے غیر اخلاقی مواد ہٹانے کا حکم
  • خالد خورشید حکومت گرانے سے متعلق گورنر کے بیان پر تحریک انصاف کا ردعمل سامنے آ گیا