نیو کراچی میں پولیس کی چھاپہ مار کارروائی، 8 بھتہ خور گرفتار، مقدمہ درج
اشاعت کی تاریخ: 18th, October 2025 GMT
کراچی:
نیو کراچی صنعتی ایریا پولیس نے خفیہ ذرائع اور ٹیکنیکل بنیادوں پر کامیاب چھاپہ مار کارروائی کے دوران تاجر سے 5 لاکھ روپے بھتہ طلب کرنے کے الزام میں 8 بھتہ خوروں کو گرفتار کرلیا۔
اس حوالے سے ایس ایس پی ڈسٹرکٹ سینٹرل ذیشان شفیق صدیقی نے بتایا کہ تاجر محمد عرفان جو کہ پرنٹنگ پریس کے مالک ہیں ان کی شکایت پر بھتہ طلب کرنے کا مقدمہ نمبر 577 سال 2025 بجرم دفعات 384 ، 385 ، 506 اور 25 ٹیلیگراف ایکٹ کے تحت نیو کراچی صنعتی ایریا پولیس نے درج کیا تھا۔
بھتہ خوروں نے تاجر کو فون کال کے ذریعے 5 لاکھ روپے بھتہ طلب کیا تھا اور نہ دینے پر مدعی کو جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی تھیں، تاہم مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس نے بھتہ خوروں کی گرفتاری کے لیے کوششیں شروع کر دیں۔
انھوں نے بتایا کہ پولیس نے سخت جدوجہد کے بعد خفیہ اطلاع پر کامیاب چھاپہ مار کارروائی کے دوران بھتہ طلب کرنے میں ملوث 8 ملزمان سلمان ولد طاہر حسین ، عاقب ولد جاوید ، عبدالرحمٰن ولد جاوید ، توصیف ولد عقیل ، فہد ولد اکبر ، مزمل ولد اکرم عدنان ولد جمیل اور عامر ولد جمیل کو گرفتار کرلیا جبکہ پولیس نے بھتہ خوروں سے مجموعی طور پر 12 موبائل فونز برآمد کیے ہیں جس میں 9 موبائل فونز ٹچ اسکرین جبکہ 3 کیپیڈ موبائل فون اور 3 پرس بھی برآمد ہوئے ہیں۔
پولیس گرفتار بھتہ خوروں کا کرمنل ریکارڈ چیک کر رہی ہے اور اس حوالے سے مزید تفتیش کا عمل جاری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھتہ خوروں پولیس نے بھتہ طلب
پڑھیں:
پی ٹی آئی کے اہم رہنما گلگت بلتستان سے نکال دیے گئے
گلگت: گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے کے ایک اہم واقعے نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں کے خلاف ہونے والی اس کارروائی نے ملکی سیاست میں ایک نئی صورتحال پیدا کر دی ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری جنرل سلمان اکرم راجہ، شوکت بسرا، نعیم پنجوتھہ اور ظہیر بابر کو دیامر پولیس نے گلگت بلتستان کی حدود سے باہر منتقل کر دیا۔ بتایا جاتا ہے کہ کارروائی کے بعد ان رہنماؤں کو خیبر پختونخوا کی حدود میں چھوڑ دیا گیا۔
تاحال پولیس یا ضلعی انتظامیہ کی جانب سے اس اقدام کی وجوہات کے حوالے سے کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی۔ تاہم سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس پیش رفت کے اثرات آنے والے دنوں میں مزید نمایاں ہو سکتے ہیں۔
گلگت بلتستان سے صوبہ بدر کیے جانے والے رہنماؤں کے حوالے سے مختلف سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں کی جانب سے ردعمل کا سلسلہ بھی شروع ہو چکا ہے۔ بعض حلقے اس کارروائی کو سیاسی سرگرمیوں پر قدغن قرار دے رہے ہیں جبکہ دیگر اس کے پس منظر میں سکیورٹی یا انتظامی وجوہات کا امکان ظاہر کر رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق واقعے کے مزید حقائق سامنے آنے کے بعد صورتحال مزید واضح ہو سکے گی۔ اس دوران سیاسی کارکنوں اور عوامی حلقوں کی نظریں حکام کے ممکنہ مؤقف اور آئندہ پیش رفت پر مرکوز ہیں۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر اس معاملے پر تفصیلی وضاحت سامنے نہ آئی تو یہ معاملہ مزید سیاسی تنازع کی شکل اختیار کر سکتا ہے۔