کراچی میں غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کیخلاف سرچ آپریشن، 15 گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 17th, October 2025 GMT
کراچی:
پولیس نےسہراب گوٹھ کے مختلف علاقوں میں کومبنگ اورسرچ آپریشن کرکے 15 غیر قانونی طور پر مقیم افغانی باشندوں کو حراست میں لے لیا۔
ترجمان ایسٹ پولیس کے مطابق سہراب گوٹھ کے مختلف علاقوں میں آپریشن کیا گیا، جس کا مقصد جرائم پیشہ عناصر، منشیات فروشوں اور غیر قانونی طور پر مقیم افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے علاقے میں امن و امان کو یقینی بنانا تھا۔
کارروائی کے دوران علاقے کے داخلی و خارجی راستوں کو سیل کر کے گھروں، دکانوں اور ہوٹلوں کی باریک بینی سے تلاشی لی گئی۔بائیو میٹرک تلاش ڈیوائسز کے ذریعے متعدد مشتبہ افراد کی شناخت و تصدیق بھی عمل میں لائی گئی۔
آپریشن کے دوران 31 گھروں، ہوٹلوں اور دکانوں کی تلاشی لی گئی جب کہ 15 غیر قانونی طور پر مقیم افغانی باشندوں کو حراست میں لیا گیا۔ آپریشن میں ایس ایچ اوز، افسران و جوان، انٹیلیجنس اسٹاف، تلاش ڈیوائس آپریٹرز اور لیڈیز پولیس نے حصہ لیا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک
ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے فرار ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔اسپیشل انویسٹی گیشن (ایس آئی ایو) نے دعویٰ کیا ہےکہ گلشنِ معمار، عمر بروہی گوٹھ میں گرفتار ڈاکوؤں کی نشاندہی پر ان کے فرار ساتھیوں کی گرفتاری کے لیے چھاپا مارا تو ملزمان نے فائرنگ کردی جس سے پولیس اہلکار بھی زخمی ہوگیا۔ایس آئی یو کا کہنا ہے کہ فائرنگ کےدوران ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے مارے گئے۔13 جولائی کو کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان ڈاکٹر آکاش جاں بحق ہوگیا تھا جب کہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہوگئے تھے۔ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں پولیس نے تفتیشی رپورٹ جوڈیشل مجسٹریٹ جنوبی کی عدالت میں جمع کرائی تھی جس میں واردات میں نامعلوم خاتون کے ملوث ہونے کاانکشاف بھی کیا گیا تھا۔پولیس نے بتایا تھا کہ کلفٹن تین تلوار کے قریب ڈکیتی واردات کے دوران ڈاکٹر آکاش کو فائرنگ کرکے قتل کرنے کے واقعے میں گرفتار ملزمان کے بینکوں کے باہر رقم چھیننے اور تاجر کو لوٹنے کے واقعات میں ملوث ہیں۔