data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مسلسل دوسرے دن بھی زبردست تیزی کا سلسلہ جاری ہے، جس نے ملکی مالیاتی حلقوں میں اعتماد کی نئی لہر دوڑا دی ہے۔

کاروباری ہفتے کے وسط میں سرمایہ کاروں کی دلچسپی اور حکومتی معاشی پالیسیوں کے مثبت اثرات کے نتیجے میں مارکیٹ میں غیر معمولی تیزی دیکھی جا رہی ہے۔ بدھ کے روز کاروبار کے آغاز پر ہی انڈیکس میں 1325 پوائنٹس کا اضافہ ہوا، جس کے بعد کے ایس ای 100 انڈیکس 1 لاکھ 66 ہزار 801 پوائنٹس کی سطح تک جا پہنچا۔

دن گزرنے کے ساتھ یہ رفتار مزید تیز ہوتی گئی اور کاروبار کے دوران انڈیکس میں مجموعی طور پر 2057 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جس سے انڈیکس بڑھ کر 1 لاکھ 67 ہزار 533 پوائنٹس کی نئی سطح پر پہنچ گیا۔

اقتصادی تجزیہ کاروں کے مطابق حالیہ استحکام کا تعلق کئی مثبت معاشی عوامل سے ہے جن میں روپے کی قدر میں بہتری، مہنگائی میں معمولی کمی، اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کی بڑھتی دلچسپی نمایاں ہیں۔ اس کے ساتھ ہی حکومت کے جانب سے مالیاتی نظم و ضبط برقرار رکھنے اور نجی شعبے میں اصلاحات کے اعلانات نے بھی مارکیٹ پر اعتماد بحال کیا ہے۔

سرمایہ کاروں کا کہنا ہے کہ مسلسل تیزی اس بات کا ثبوت ہے کہ مارکیٹ میں طویل مدت کے لیے مثبت رجحان پیدا ہو چکا ہے۔

گزشتہ روز بھی اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی کا رجحان دیکھنے میں آیا تھا، جب انڈیکس ایک ہی دن میں 7 ہزار سے زائد پوائنٹس بڑھ کر ایک لاکھ 65 ہزار کی سطح سے اوپر جا پہنچا تھا، جس نے ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاروں کے اطمینان کو بھی بڑھا دیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر معاشی استحکام کے اقدامات تسلسل کے ساتھ جاری رہے تو اسٹاک ایکسچینج مزید بلندیوں کو چھو سکتا ہے۔

دوسری جانب بروکرز اور مارکیٹ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حکومتی مالی پالیسیوں میں واضح سمت کا ہونا، آئی ایم ایف پروگرام پر پیش رفت اور توانائی شعبے میں اصلاحات کا عندیہ سرمایہ کاروں کے اعتماد میں اضافے کا باعث بن رہا ہے۔ سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا ہو رہے ہیں اور غیر ملکی سرمایہ کار ایک بار پھر پاکستان کے مالیاتی شعبے کی طرف متوجہ دکھائی دے رہے ہیں۔

.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سرمایہ کاروں

پڑھیں:

پاکستان میں سونا پھر ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟

مقامی اور عالمی دونوں مارکیٹوں میں سونے کی قیمتوں میں آج نمایاں اضافہ دیکھا گیا، جس کے باعث فی تولہ سونا ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب جا پہنچا ہے۔

عالمی مارکیٹ میں سونا 53 ڈالر بڑھ کر 4218 ڈالر فی اونس ہوگیا، جب کہ مقامی مارکیٹ میں فی تولہ سونا 5300 روپے مہنگا ہو کر 4 لاکھ 44 ہزار 162 روپے تک جا پہنچا۔

مقامی صرافہ مارکیٹ کے مطابق، پاکستان میں فی تولہ سونا 5300 روپے بڑھ کر 4 لاکھ 44 ہزار 162 روپے کا ہوگیا۔

اسی طرح 10 گرام سونا بھی 4544 روپے مہنگا ہو کر 3 لاکھ 80 ہزار 797 روپے کا ہو گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز عالمی اور مقامی مارکیٹوں میں سونے کی قیمتیں مستحکم رہی تھیں، تاہم آج اچانک اضافہ دیکھنے میں آیا۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا مضبوط اور جدید کیپٹل مارکیٹ کے قیام کا عزم — وزیرِ خزانہ
  • پاکستان میں سونا پھر ہزاروں روپے مہنگا، فی تولہ قیمت میں کتنا اضافہ ہوا؟
  • سرمایہ کاروں کی بھرپور دلچسپی : ہفتے بھر میں اسٹاک ایکسچینج میں 5 سطحیں بحال
  • حکومت متحرک، مستحکم اور جامع کیپٹل مارکیٹ کے قیام کیلیے پْرعزم ہے، وزیر خزانہ
  • ملک میں سونے کی قیمت دو روز سے مستحکم
  • پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں تیزی،1 لاکھ 66 ہزار کی نفسیاتی حد بحال
  • اسٹاک ایکسچینج میں پھر تیزی، انڈیکس 167,000 کی حد عبور کر گیا
  • اسٹاک مارکیٹ میں زبردست تیزی،2184 پوائنٹس کااضافہ،ایک لاکھ 65ہزار پوائنٹس کی حدبحال
  • اسٹاک ایکسچینج میں تیزی برقرار، انڈیکس میں 1,200 پوائنٹس سے زائد اضافہ
  • پاکستان سٹاک ایکسچینج میں تیزی، ایک لاکھ 64 ہزار پوائنٹس کی حد بحال