اسٹاک ایکسچینج میں منافع کے حصول کا رجحان، ابتدائی تیزی زائل
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں بدھ کے روز اتار چڑھاؤ کا سلسلہ جاری رہا، جہاں کاروباری سیشن کے اختتام پر بینچ مارک کے ایس ای 100 انڈیکس معمولی اضافے کے ساتھ 210 پوائنٹس اوپر بند ہوا۔
کاروبار کا آغاز مثبت رجحان سے ہوا جب سرمایہ کاروں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور پاکستانی حکام کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے پر پہنچنے کی خبر کا خیرمقدم کیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس میں 7 ہزار پوائنٹس کا اضافہ
اسی دوران کے ایس ای-100 انڈیکس ایک موقع پر 167,561.
Market Close Update: Positive Today! ????
???????? KSE 100 ended positive by +210.4 points (+0.13%) and closed at 165,686.4 with trade volume of 893.8 million shares and value at Rs. 56.07 billion. Today's index low was 165,357 and high was 167,562. pic.twitter.com/JCXhVZyhj4
— Investify Pakistan (@investifypk) October 15, 2025
تاہم، سیشن کے دوسرے حصے میں منافع کے حصول کے باعث ابتدائی تیزی کم ہوگئی، کیونکہ سرمایہ کار بدلتے ہوئے مارکیٹ رجحان کے باعث محتاط نظر آئے۔
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 165,686.38 پوائنٹس پر بند ہوا، جو کہ 210.36 پوائنٹس یعنی 0.13 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
مزید پڑھیں:اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ، انڈیکس 1,400 پوائنٹس گر گیا
اہم پیش رفت کے طور پر، آئی ایم ایف اور پاکستان کے درمیان 37 ماہ کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی کے تحت دوسرے جائزے اور 28 ماہ کے ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹی کے پہلے جائزے کے لیے اسٹاف لیول معاہدہ طے پا گیا۔
آئی ایم ایف کے بدھ کے روز جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ اسٹاف لیول معاہدہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری سے مشروط ہے۔
منظوری کے بعد، پاکستان کو تقریباً 1 ارب ڈالر ای ایف ایف کے تحت اور 200 ملین ڈالر آر ایس ایف کے تحت دستیاب ہوں گے، جس سے دونوں پروگراموں کے تحت مجموعی ادائیگیاں تقریباً 3.3 ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی۔
منگل کے روز اسٹاک مارکیٹ میں تاریخی ریکوری دیکھی گئی تھی، جب تیزی کے رجحان نے بھرپور واپسی کی۔
مزید پڑھیں:پاکستان اسٹاک مارکیٹ کی تاریخی بلندی کا ملک کی معیشت سے کتنا تعلق ہے؟
کے ایس ای 100 انڈیکس 7,032.60 پوائنٹس کے بڑے اضافے کے ساتھ 165,476.02 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
بین الاقوامی سطح پر، بدھ کے روز ایشیائی منڈیوں میں بھی محتاط بہتری دیکھنے میں آئی، جس کی وجہ امریکی فیڈرل ریزرو کے چیئرمین جیروم پاول کے نرم لہجے میں دیے گئے بیانات اور وال اسٹریٹ پر بینکوں کے بہتر منافع رہے۔
تاہم، امریکا اور چین کے مابین تجارتی کشیدگی نے سرمایہ کاروں کے اعتماد کو محدود رکھا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس آئی ایم ایف ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسیلٹی پاکستان اسٹاک ایکسچینج تیزی رجحان ریزیلینس اینڈ سسٹین ایبلٹی فیسیلٹیذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس ا ئی ایم ایف پاکستان اسٹاک ایکسچینج تیزی اسٹاک ایکسچینج میں کے ایس ای 100 انڈیکس کے روز
پڑھیں:
پی آئی اے کے نصف طیارے بند، پھر بھی اربوں کا منافع؛ نجکاری دسمبر کے آخر میں متوقع
لاہور:پی آئی اے کے نصف طیارے بند ہونے کے باوجود قومی ایئرلائن اربوں روپے کا منافع کما رہی ہے جب کہ کمپنی کی نجکاری دسمبر کے آخر میں متوقع ہے۔
قومی ایئرلائن پی آئی اے کی نجکاری کا معاملہ ایک بار پھر لٹک گیا ہے اور اب دسمبر کے پہلے ہفتے کے بجائے یہ عمل آخری ہفتے میں متوقع ہے۔ دوسری جانب پی آئی اے نے 14 سے 16 جہازوں کے ساتھ اندرون و بیرون ممالک فضائی آپریشن کے ذریعے رواں مالی سال کے 6 ماہ میں 11 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا قبل از ٹیکس منافع حاصل کیا ہے۔
پی آئی اے ذرائع کے مطابق قومی ایئرلائن نے کم تعداد میں جہازوں کے باوجود کینیڈا، برطانیہ، فرانس، سعودی عرب، امارات سمیت دیگر ممالک کے لیے فضائی آپریشن جاری رکھا ہوا ہے۔
گزشتہ برس پی آئی اے نے 26 ارب 20 کروڑ روپے منافع کمایا تھا جب کہ اس سال اب تک 11 ارب 50 کروڑ روپے سے زائد کا منافع حاصل کیا جا چکا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر پی آئی اے کے جہازوں کی کمی پوری کر دی جائے تو گزشتہ برس کی نسبت 2 سے 3 ارب روپے مزید منافع حاصل کیا جا سکتا ہے۔
پی آئی اے کے پاس مجموعی طور پر 32 جہاز موجود ہیں جن میں سے 16 جہاز انجن اور دیگر اسپیئر پارٹس کی خرابی کے باعث آپریشن میں شامل نہیں۔ ذرائع کے مطابق اگر یہ جہاز بروقت فضائی بیڑے میں شامل کر لیے جائیں تو پی آئی اے کی نجکاری کی ضرورت ہی باقی نہیں رہے گی۔
دوسری جانب نجکاری کمیشن کے ذرائع کا کہنا ہے کہ پی آئی اے کی نجکاری آئندہ ماہ کے آخر میں متوقع ہے جو پہلے دسمبر کے اوائل میں ہونا تھی۔ نجکاری میں حصہ لینے والی کمپنیوں میں فوجی فرٹیلائزر، حبیب رفیق، یونس برادرز اور ایئر بلیو شامل ہیں۔ دسمبر میں ہونے والی بڈنگ میں یہ دیکھا جائے گا کہ پی آئی اے کو کونسی کمپنی خریدتی ہے۔
پی آئی اے ذرائع کے مطابق جو بھی کمپنی پی آئی اے کو خریدے گی اسے 300 سے 400 ارب روپے تک کی اضافی سرمایہ کاری کرنا ہوگی، جو ایک بڑا چیلنج ہے۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں اندرون و بیرون ممالک موجود اربوں روپے مالیت کی پراپرٹیز شامل نہیں، یہ پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے نام منتقل کر دی گئی ہیں۔ نجکاری میں صرف اسلام آباد، کراچی، پشاور اور راولپنڈی کے 4 مین دفاتر شامل ہیں۔