Jasarat News:
2026-06-03@05:32:00 GMT

دنیا کا سب سے بدبودار نایاب پھول چوری، پولیس کی تلاش جاری

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

برلن: جرمنی میں دنیا کے سب سے بدبودار اور نایاب پھول نما پودے کو نامعلوم افراد نے چرا لیا، جس کے بعد مقامی پولیس نے تفتیش شروع کر دی ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ پودا، جسے ٹائٹن ایرم  یا لاش کا پھول  (Corpse Flower) بھی کہا جاتا ہے، اپنی ناقابلِ برداشت بدبو کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے،  یہ نایاب پودا رومبر گارڈن، جرمنی سے چوری کیا گیا، جہاں عملے کو معمول کی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ ان کا قیمتی پودا ڈیوڈ  اپنی جگہ سے غائب ہے۔

رپورٹس کے مطابق چوری ہونے والا یہ پھول تقریباً 60 پاؤنڈ وزنی تھا،  جب یہ پھول کھلتا ہے تو اس کی بدبو پورے علاقے میں پھیل جاتی ہے،  بعض مقامی افراد نے اس کی ساخت اور سائز کو دیکھتے ہوئے اسے پھول کے بجائے ایک مکمل پودا قرار دیا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ حقیقت میں ایک پھول ہے کیونکہ یہ بیج سے اگ کر کلی بننے اور پھوٹنے کے مراحل سے گزرتا ہے، اس پودے کا سائنسی نام  Amorphophallus titanium  ہے  جو دنیا کے سب سے بڑے اور بدبودار پھولوں میں شمار ہوتا ہے،  یہ پودا صرف چند سالوں میں ایک بار کھلتا ہے، اور اس کا پھول صرف 24 گھنٹے تک کھلا رہتا ہے، جس کے بعد مرجھا جاتا ہے۔

سائنسدانوں کے مطابق دنیا بھر میں اس کے تقریباً ایک ہزار پودے ہی باقی رہ گئے ہیں، جس کے باعث اس کی چوری ایک بڑا نقصان تصور کی جا رہی ہے۔ پولیس نے اس نایاب پودے کی تلاش کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں اور گارڈن کی سیکیورٹی فوٹیجز بھی حاصل کر لی گئی ہیں۔

چوری کی خبر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جہاں صارفین نے اس  بدبودار مگر قیمتی پودے کی گمشدگی پر حیرت اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 02 جون 2026ء) اخبار کے مطابق جلی ہوئی گاڑی امینڈولارا نامی گاؤں کے قریب ایک پٹرول پمپ پر ملی، جو کالابریا کے وسیع زرعی علاقے میں واقع ہے۔

اخبار کے مطابق پٹرول پمپ کے سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج میں دو افراد کو منی وین کے دروازے باہر سے بند کرتے اور اس کے اندر آتش گیر مائع پھینکتے ہوئے دیکھا گیا۔

رپورٹ کے مطابق اس کے بعد گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی اور دونوں مشتبہ افراد موقع سے فرار ہو گئے۔

فائر بریگیڈ نے آگ بجھانے کے بعد گاڑی کے اندر سے چار لاشیں برآمد کیں۔

مقامی پولیس چیف نے اس اطالوی اخبار سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ’’یہ یقینی طور پر قتل کا واقعہ ہے، اب ہمیں صرف اس کی تفصیلات معلوم کرنا ہیں۔

(جاری ہے)

‘‘

اخبار نے مزید لکھا کہ گزشتہ چند مہینوں کے دوران اس علاقے میں پاکستانیوں کی گاڑیوں اور منی وینز کے نذر آتش کیے جانے کے 14 واقعات پیش آ چکے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق علاقے میں تارکین وطن کے مختلف گروہوں کے درمیان زرعی کام کی تقسیم، رہائشی دستاویزات (ریذیڈنسی پیپرز)، اور رہائش کے مسائل پر کشیدگی پائی جاتی ہے، جسے ممکنہ طور پر اس واقعے کے پس منظر سے جوڑا جا رہا ہے۔

اطالوی حکام اس واقعے کی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہیں تاکہ اکٹھے چار افراد کے اس قتل کے محرکات اور اس کے ذمہ دار افراد کے اس جرم میں کردار کی مکمل طور پر وضاحت ہو سکے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • دنیا شدید گرمی اور تباہ کن موسم کے لیے تیار ہوجائے، اقوام متحدہ نے بڑی وارننگ جاری کردی 
  • مردان: 3 افراد کو قتل کرنیوالے ملزمان انکے 2 بچے چارسدہ روڈ پر چھوڑ کر فرار
  • اسلام آباد میں دکانوں اور کاروباری مراکز کے اوقات میں توسیع، نیا شیڈول جاری
  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • بابوسر ٹاپ 8 جون تک ہر قسم کی ٹریفک کیلئے بند
  • مردان: گھر سے خاتون سمیت 3 افراد کی لاشیں برآمد
  • اٹلی میں چار پاکستانی زرعی مزدوروں کا قتل، دو پاکستانی شہری گرفتار
  • اوباڑو : تیز آندھی اور بارش کے باعث مختلف حادثات میں 50 کے قریب افراد زخمی
  • روینہ ٹنڈن کی والدہ کے گھر بڑی چوری، لاکھوں روپے مالیت کے زیورات غائب
  • کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ کی تلاش جاری، بھارتی سرپرستی اور اور ریاست مخالف پروپیگنڈے کے شواہد برآمد