پاکستان نے سیلاب سے ہونے والے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ آئی ایم ایف سے شیئر کر دی
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
پاکستان نے حالیہ سیلاب سے ملک میں ہونے والے نقصانات کی ابتدائی رپورٹ آئی ایم ایف سے شیئر کر دی۔
ذرائع کے مطابق ملک کی معیشت کو سیلاب سے 744 ارب روپے کا نقصان پہنچا، ایک ہزار 37 افراد جاں بحق، ایک ہزار 68 زخمی ہوئے، زرعی شعبہ سب سے زیادہ متاثر، 439 ارب روپے کا نقصان ہوا۔
ذرائع نے کہا کہ 70 اضلاع میں زندگی مفلوج، 65 لاکھ افراد متاثر ہوئے، معاشی ترقی کی شرح 4.
ذرائع کا کہنا تھاکہ پنجاب میں سب سے زیادہ 632 ارب روپے کے نقصانات ہوئے، خیبرپختونخوا میں 51 ارب، سندھ میں 32 ارب، بلوچستان میں 7 ارب کا نقصان ہوا، سیلاب سے 2 ہزار 811 کلومیٹر سڑکیں اور 790 پل تباہ ہوئے۔
ذرائع کے مطابق ملک بھر میں 2 لاکھ 29 ہزار سے زائد مکانات متاثر ہوئے، خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ 509 اموات ریکارڈ ہوئیں۔
زرعی پیداوار کی شرح نمو 4.5 کے مقابلے میں 3 فیصد رہنے کا امکان ہے، کپاس کی پیداوار 33 فیصد کم ہو کر 72 لاکھ بیلز رہ گئی۔
ذرائع نے کہا کہ چاول، مکئی اور گنے کی پیداوار میں بھی نمایاں کمی کا تخمینہ ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کا نقصان سیلاب سے ارب روپے
پڑھیں:
بجٹ 2026-27، پائیڈ کی کم از کم ماہانہ تنخواہ 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز
اسلام آباد، نئے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں کم از کم ماہانہ اجرت یا تنخواہ (minimum wages monthly)کے تعین کے حوالے سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈیویلپمنٹ اکنامکس (پائیڈ) نے اہم سفارشات پیش کر دی ہیں۔
پائیڈ نے مالی سال 2026-27 کیلئے کم از کم ماہانہ اجرت 40 ہزار روپے سے بڑھا کر 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی ہے، جو موجودہ کم از کم اجرت کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافے کے برابر ہے۔
ادارے نے کم از کم اجرت کے تعین کیلئے شفاف اور سائنسی بنیادوں پر مبنی نظام تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ اجرت کا تعلق غربت، مہنگائی اور عوام کی قوتِ خرید سے براہِ راست جڑا ہوا ہے۔
سفارشات کے مطابق سندھ میں کم از کم ماہانہ اجرت 46 ہزار روپے، پنجاب اور خیبرپختونخوا میں 45 ہزار روپے جبکہ بلوچستان میں 45 ہزار 500 روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پائیڈ نے کم از کم اجرت کے نفاذ کو مرحلہ وار یقینی بنانے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرکاری ٹھیکوں اور آؤٹ سورس خدمات میں کم از کم اجرت پر عملدرآمد کو لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔
ادارے کے مطابق پاکستان میں 80 فیصد سے زائد روزگار غیر رسمی شعبے میں ہونے کے باعث کم از کم اجرت کے قانون پر عملدرآمد ایک بڑا چیلنج ہے۔
پائیڈ نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ تمام صوبے سالانہ کم از کم اجرت پر عملدرآمد کی رپورٹ جاری کریں تاکہ نظام کی نگرانی اور مؤثر جائزہ ممکن ہو سکے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ فریم ورک پلاننگ کمیشن کو غور کیلئے بھجوا دیا گیا ہے۔
مزید پڑھیں:سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
پائیڈ کا کہنا ہے کہ کم از کم اجرت کا نظام محض سالانہ اعلان تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ اسے مؤثر طرزِ حکمرانی، نگرانی اور عملدرآمد کے نظام سے جوڑا جانا ضروری ہے۔