جنوری 2023بریک ڈاؤن؛نیپرا نے کے الیکٹرک کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 9th, October 2025 GMT
اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)جنوری 2023کے بریک ڈاؤن پر نیپرا نے فیصلہ جاری کردیا،کے الیکٹرک کی آپریشنل ذمہ داریوں میں ناکامی ثابت ہو گئی،نیپرا نے کے الیکٹرک پر2کروڑ50لاکھ روپے جرمانہ عائد کردیا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق نیپرا نے کہاکہ کے الیکٹرک کی وضاحتیں بریک ڈاؤن کا جواز فراہم نہیں کرتیں ،بریک ڈاؤن کی مکمل ذمہ داری نیشنل گرڈ پر نہیں ڈالی جا سکتی،کے الیکٹرک کے جوابات غیراطمینان بخش اور ناقابل قبول قراردے دیئے گئے۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
کلیدی لفظ: کے الیکٹرک نیپرا نے
پڑھیں:
بجلی صارفین کے لیے ایک اور جھٹکا، فی یونٹ نرخ بڑھنے کا امکان
اسلام آباد: بجلی کی قیمت میں اضافہ ایک بار پھر زیر غور آ گیا ہے، کیونکہ اپریل 2026 کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی مد میں بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست نیپرا میں جمع کرا دی گئی ہے۔
نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) میں ہونے والی سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے دوران خطے میں جاری کشیدگی اور جنگی صورتحال کے باعث توانائی کے شعبے کو متعدد چیلنجز کا سامنا رہا، جس کے اثرات بجلی کی پیداوار پر بھی مرتب ہوئے۔
سی پی پی اے کے مطابق اپریل میں درآمدی ایل این جی کی دستیابی نہ ہونے کے برابر تھی، تاہم مئی کے آغاز میں ایل این جی کے معاہدہ شدہ اور اسپاٹ کارگوز موصول ہونے کے بعد ایل این جی سے چلنے والے بجلی گھروں کو دوبارہ فعال کیا گیا، جس سے نظام میں بہتری آئی۔
حکام نے نیپرا کو آگاہ کیا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تقریباً تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ آئندہ دو ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر منصوبہ بندی مکمل کر لی گئی ہے تاکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار میں کسی قسم کی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
سی پی پی اے حکام کا کہنا ہے کہ اگرچہ بجلی کی قیمت میں اضافہ تجویز کیا گیا ہے، تاہم مئی، جون اور جولائی کی فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو بڑے اضافی بوجھ کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ضروری انتظامات اور ایندھن کی دستیابی کو یقینی بنایا جا چکا ہے۔
اب نیپرا درخواست پر تمام فریقین کا مؤقف سننے کے بعد حتمی فیصلہ جاری کرے گا، جس کے بعد یہ طے ہوگا کہ صارفین کو بجلی کے بلوں میں کتنا اضافی بوجھ برداشت کرنا پڑے گا۔