اسٹاک ایکسچینج میں زبردست تیزی، انڈیکس 7 ہزار پوائنٹس بڑھ گیا
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
گزشتہ روز شدید مندی کے بعد منگل کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں ایک مرتبہ پھر تیزی کا رجحان غالب رہا، کیونکہ جغرافیائی اور سیاسی کشیدگی میں کمی کے آثار سے سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوگیا۔
بینچ مارک کے ایس ای-100 انڈیکس میں کاروباری دن کے دوران 7,000 سے زائد پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی، انڈیکس میں 4,500 پوائنٹس کی گراوٹ
پورے دن خریداری کے غالب رجحان نے انڈیکس کو انٹرا ڈے بلند ترین سطح 165,866.
Market Close Update: Positive Today! ????
???????? KSE 100 ended positive by +7,032.6 points (+4.44%) and closed at 165,476 with trade volume of 586.8 million shares and value at Rs. 44.83 billion. Today's index low was 160,822 and high was 165,867. pic.twitter.com/Zgq1KMcu1O
— Investify Pakistan (@investifypk) October 14, 2025
کاروبار کے اختتام پر کے ایس ای 100 انڈیکس 165,476.02 پوائنٹس پر بند ہوا، جو 7,032.60 پوائنٹس یعنی 4.44 فیصد کا اضافہ ظاہر کرتا ہے۔
اسٹاک ماہرین کے مطابق، یہ اسٹاک ایکسچینج کی تاریخ میں دوسرا سب سے بڑا یومیہ اضافہ ہے، جو صرف 12 مئی 2025 کو ریکارڈ ہونے والے 10,123 پوائنٹس کے اضافے سے کم ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں شدید اتار چڑھاؤ، انڈیکس 1,400 پوائنٹس گر گیا
ابتدائی سیشنز میں گاڑیاں بنانے والی کمپنیوں، سیمنٹ، بینکاری، تیل و گیس کی تلاش، او ایم سیز، توانائی کے شعبے اور ریفائنری سمیت مختلف شعبوں میں وسیع پیمانے پر خریداری دیکھنے میں آئی۔
نمایاں کمپنیوں حبکو، اے آر ایل، ماری، او جی ڈی سی، پی او ایل، پی پی ایل، پی ایس او، ایس ایس جی سی، ایس این جی پی ایل، اور وافی کے شیئرز سبز زون میں بند ہوئے۔
اسٹاک ماہرین کے مطابق، یہ تیزی جغرافیائی و سیاسی کشیدگی میں کمی اور مقامی سطح پر سیاسی حالات میں بہتری کے ساتھ ساتھ نتائج کے سیزن کے آغاز کے باعث سرمایہ کاروں کی نئی دلچسپی سے تقویت پائی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مارکیٹ کی رفتار کا انحصار سیاسی استحکام اور حکومت کی آئی ایم ایف پروگرام پر عملدرآمد کی یقین دہانی پر ہے۔
مزید پڑھیں: اسٹاک ایکسچینج میں انڈیکس پہلی بار ایک لاکھ 69 ہزار پوائنٹس سے تجاوز کرگیا
ایک اہم پیش رفت میں، وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب نے آئی ایم ایف کے مشرقِ وسطیٰ و وسطی ایشیا کے ڈائریکٹر جہاد ازعور سے واشنگٹن ڈی سی میں آئی ایم ایف اور عالمی بینک کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ملاقات کی۔
دونوں فریقین نے پاکستان کے جاری اصلاحاتی ایجنڈے اور میعاری معاشی نظم و ضبط برقرار رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔
پیر کے روز، پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں شدید مندی دیکھی گئی تھی جب منافع کے حصول اور کمزور سرمایہ کار اعتماد نے تمام بڑے انڈیکسز کو منفی زون میں دھکیل دیا۔
کے ایس ای-100 انڈیکس 4,654.77 پوائنٹس یعنی 2.85 فیصد گر کر 158,443.42 پوائنٹس پر بند ہوا تھا۔
مزید پڑھیں: زرعی، صنعتی اور خدماتی شعبوں میں بہتری، معیشت کا حجم 407 ارب ڈالر تک پہنچ گیا
بین الاقوامی مارکیٹس میں، منگل کو ایشیائی اسٹاکس میں ملا جلا رجحان رہا۔ امریکا اور چین کے ممکنہ تجارتی مذاکرات کی خبروں سے کچھ بہتری دیکھی گئی، مگر دونوں ملکوں کے درمیان پائیدار معاہدے کے خدشات برقرار رہے۔
ایم ایس سی آئی کے جاپان کے علاوہ ایشیا پیسیفک انڈیکس اور ایس اینڈ پی 500 فیوچرز ابتدائی اضافے کے بعد مستحکم ہو گئے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
100 انڈیکس آئی ایم ایف او جی ڈی سی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی پی ایل حبکو سرمایہ کار سیاسی کشیدگی عالمی بینک
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: 100 انڈیکس ا ئی ایم ایف او جی ڈی سی پاکستان اسٹاک ایکسچینج پی پی ایل حبکو سرمایہ کار سیاسی کشیدگی عالمی بینک اسٹاک ایکسچینج میں ایم ایف
پڑھیں:
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کیلیے کینیڈا جانیوالے 175 غیر ملکیوں نے سیاسی پناہ مانگ لی
فیفا ورلڈ کپ دیکھنے کے لیے وزٹ ویزہ پر کینیڈا پہنچنے والے درجنوں افراد نے اسائلم کی درخواستیں دائر کر دیں۔
کینیڈا میں ورلڈ کپ کے 13 میچ منعقد ہوئے جن کے لیے حکام نے مجموعی طور پر 26 ہزار سیاحتی ویزے جاری کیے تھے۔ ہزاروں درخواستوں میں سے 50 فیصد سے زائد مسترد کر دی گئی تھیں۔
کینیڈین حکام کے مطابق اب تک 175 افراد سیاسی پناہ کی درخواستیں جمع کرا چکے ہیں جن کا جائزہ امیگریشن اور مہاجرین سے متعلق قوانین کے تحت لیا جائے گا۔
حکام نے یہ واضح نہیں کیا کہ درخواست گزاروں میں کتنے کھلاڑی شامل ہیں، تاہم دستیاب اعداد و شمار کے مطابق گھانا کے 25 جبکہ مصر اور کولمبیا کے 15، 15 شہریوں نے اسائلم کی درخواستیں دی ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس تعداد میں مزید اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔
اس سے قبل کینیڈین حکومت خبردار کر چکی تھی کہ فیفا ورلڈ کپ کے لیے جاری کیے گئے سیاحتی ویزے کینیڈا میں مستقل قیام یا سیاسی پناہ حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں ہیں اور ہر درخواست کا فیصلہ صرف ملکی قوانین کے مطابق کیا جائے گا۔