ابھیشیک بچن نے 25 سال بعد پہلا فلم فیئر ایوارڈ کس کردار پر حاصل کیا ؟
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
بالی ووڈ کے جونیئر بچن کہلائے جانے والے ابھیشیک بچن نے بالآخر 25 سالہ فلمی سفر کے بعد وہ کارنامہ سرانجام دے دیا جس کا انتظار نہ صرف انہیں بلکہ ان کے مداحوں کو بھی برسوں سے تھا۔
بھارتی میڈیا کے مطابق ابھیشک بچن نے پہلا فلم فیئر ایوارڈ برائے بہترین اداکار حاصل کرلیا۔ یہ ایوارڈ انھیں 2024 کی فلم "I Want To Talk” میں بھرپور کردار ادا کرنے پر دیا گیا۔
یہ ایک سچی کہانی پر مبنی فلم ہے۔ جس میں ابھیشیک بچن نے کینسر سے جنگ جیتنے والے شخص کردار ادا کیا ہے جس کی اپنی بیوی علیحدگی ہے اور بیٹی بھی اسے اچھا نہیں سمجھتی۔
فلم “I Want To Talk” ایک ایسے شخص کی اپنے آپ سے جنگ کی کہانی ہے جس میں وہ شخص بولنا چاہتا ہے… مگر لفظوں کا ساتھ نہیں ملتا۔
ابھیشیک نے ایسے شخص کا کردار نبھایا ہے جو اپنی زندگی، جذبات اور تعلقات کے درمیان کہیں کھو گیا ہے۔
وہ بولنا چاہتا ہے، سب کچھ کہنا چاہتا ہے، مگر زبان نہیں… صرف آنکھیں بولتی ہیں لہذا فلم میں ڈائیلاگز کم ہیں لیکن اظہار زیادہ ہے۔
فلم میں ابھیشیک کا کردار غصے سے نہیں بلکہ ٹوٹے ہوئے شخص کے صبر سے لڑتا نظر آتا ہے۔ ہر سین میں تھکن نہیں اور اندر لگی آگ جھلکتی ہے۔
ابھیشک بچن نے اس فلم میں بہت جاندار کردار نبھایا اور بااعتماد اداکاری کی لیکن فلم فیئر ایوارڈ لیتے ہوئے اسٹیج پر ان کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں۔
ذریعے ابھیشیک نے ثابت کر دیا کہ وہ صرف بچن خاندان کی پہچان نہیں بلکہ اپنی محنت اور فن کے بل پر بھی کھڑے ہیں۔
A post common by Team Abhishek Bachchan (@bachchanjrfc)
ایوارڈ لیتے ہوئے کانپتی آواز کے ساتھ انہوں نے کہا کہ مجھے یاد نہیں کہ کتنی بار میں نے آئینے کے سامنے یہ تقریر دہرائی تھی۔ آج یہ خواب حقیقت بن کر میرے سامنے ہے۔
انھوں نے کہا کہ زندگی کے اس اہم اور تاریخی موقع پر میری فیملی میرے سامنے موجود ہے اور یہ میرے لیے بہت اہم ہے۔
ابھیشیک بچن نے اپنے والدین امیتابھ اور جیا بچن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ آپ میرا اثاثہ ہوں جن کے بغیر میں کچھ نہیں۔
اپنی اہلیہ ایشوریہ رائے اور بیٹی آرادھیا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ کا شکریہ! آپ دونوں نے مجھے خواب دیکھنے کی ہمت اور اُنہیں پورا کرنے کا حوصلہ بھی دیا۔
یاد رہے کہ ابھیشیک بچن نے 1999 میں فلم "ریفیوجی” سے اپنے کیریئر کا آغاز کیا۔ انھوں نے اپنے فنی کیریئر میں فلاپ فلمیں، تنقید اور ناکامی کا بھی سامنا کیا لیکن کبھی ہمت نہ ہاری۔
یہاں تک کہ ایک انٹرویو میں ابھیشک بچن نے انکشاف کیا تھا کہ شروع میں مسلسل ناکامیوں پر اداکاری چھوڑنے کا فیصلہ کرلیا تھا لیکن والد نے سمجھایا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ سیکھتے جاؤ گے۔
ابھیشیک کے بقول وہ دن اور آج کا دن پر روز نئی امنگ کے ساتھ آغاز کرتا ہوں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ابھیشیک بچن نے کہا کہ
پڑھیں:
اسرائیل کا غزہ سمیت تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا ضروری ہے: پاکستان
اسلام آباد (نیوزڈیسک) پاکستان نے فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیلی افواج کا غزہ سمیت مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل انخلا ضروری ہے اور جنگی جرائم اور نسل کشی پر اسرائیل کا احتساب کیا جانا چاہئے۔
غزہ میں 7 اکتوبر 2023 سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت کے دوران اب تک دسیوں ہزار فلسطین جان سے جا چکے ہیں اور پورے کے پورے محلّے، آبادیاں، ہسپتال، سکول اور بنیادی ڈھانچہ ملبے کا ڈھیر بن چکے ہیں، عالمی برادری کی کوششوں کے نتیجے میں 10 اکتوبر 2025 سے غزہ میں فائر بندی کا نفاذ ہوا، تاہم اس کے باوجود بھی اسرائیل کی جانب سے وقتاً فوقتاً حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
29 نومبر کو فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کے عالمی دن کے موقع پر وزیراعظم شہباز شریف اور صدر مملکت آصف علی زرداری نے اپنے الگ الگ پیغام میں کہا کہ حکومتِ پاکستان اور عوام اپنے فلسطینی بھائیوں اور بہنوں کے ساتھ اٹل عزم اور مضبوط وابستگی کے ساتھ کھڑے ہیں۔
صدر مملکت آصف علی زرداری نے فلسطینی عوام کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے واضح کیا کہ فلسطینی عوام کی حمایت پاکستان کے وجود کا حصہ رہی ہے، پاکستان کے قیام سے بھی سات برس قبل 1940 کی مشہور قراردادِ لاہور میں فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی اور ان کی ریاست کے قیام سے متعلق ایک شق شامل تھی۔
وزیراعظم اور صدر دونوں نے غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت کا ذکر کرتے ہوئے مستقل جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی، عام شہریوں کے تحفظ اور اسرائیلی قابض افواج کی جانب سے کیے جانے والے جنگی جرائم پر مکمل احتساب کا مطالبہ کیا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنا ہو گا۔ اسرائیل کو تمام خلاف ورزیوں کا خاتمہ کرنا ہو گا اور انسانی بنیادوں پر امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی یقینی بنانا ہو گی۔
انہوں نے غزہ سمیت مقبوضہ فلسطینی سرزمین سے اسرائیلی افواج کے مکمل انخلا کو ضروری قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ جب دنیا غزہ میں جاری وحشیانہ جارحیت کی مذمت کر رہی ہے تو ہمیں ہرگز یہ اجازت نہیں دینی چاہئے کہ ہماری توجہ مغربی کنارے کی سنگین صورتِ حال سے ہٹ جائے۔
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ غیر قانونی اسرائیلی آبادکاریوں کا مسلسل پھیلاؤ بین الاقوامی قانون کی کھلم کھلا خلاف ورزی اور امن کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ ہے۔
دوسری جانب صدر مملکت آصف علی زرداری نے فلسطینیوں کے مصائب کے خاتمے کی دعا کرتے ہوئے مسجد اقصیٰ میں نماز ادا کرنے کی خواہش کا اظہار کیا کہ میں ایک دن مسجد اقصیٰ میں اپنے فلسطینی بھائیوں کے ساتھ کھڑے ہو کر نماز ادا کر سکوں۔
وزیراعظم اور صدر مملکت نے ایک مرتبہ پھر دہرایا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق، خصوصاً حقِ خود ارادیت اور ایک آزاد، قابلِ عمل اور جغرافیائی طور پر مسلسل ریاستِ فلسطین کے قیام کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتا ہے، جو 1967 سے قبل کی سرحدوں پر مبنی ہو اور جس کا دارالحکومت القدس الشریف ہو۔