پاوری گرل شو میں انٹری کے دوران لڑکھڑا گئیں، ویڈیو وائرل
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
سوشل میڈیا اسٹار سے اداکاری کی دنیا میں قدم رکھنے والی دنانیر مبین ایک بار پھر ایوارڈ شو کے ریڈ کارپٹ پر پیش آنے والے دلچسپ واقعے کے باعث خبروں کی زینت بنی ہوئی ہیں۔
’پاوری ہو رہی ہے‘ وائرل ویڈیو سے شہرت حاصل کرنے والی دنانیر اس وقت امریکا کے شہر ہیوسٹن میں ایک ایوارڈ تقریب میں شریک تھیں، جہاں ریڈ کارپٹ پر چلتے ہوئے وہ اچانک لڑکھڑا گئیں، تاہم انہوں نے توازن بحال کرتے ہوئے خود کو گرنے سے بچا لیا۔
تقریب میں دانانیر نے ہلکے نیلے رنگ کا چمکدار سلکی گاؤن زیب تن کیا ہوا تھا۔ اس سئ قبل بھی ایک ایوارڈ شو میں دنانیر اس ہی طرح لڑکھڑا کر گِر پڑیں تھیں تب انہیں ساتھی اداکار خوشحال خان نے سہارا دیا تھا۔
View this post on InstagramA post shared by Irfan UL Haq (@irfan_views99)
سوشل میڈیا صارفین نے اس واقعے پر مختلف ردِعمل کا اظہار کیا۔ بعض نے ان کے لباس کو غیر موزوں قرار دیتے ہوئے کہا کہ اوور سائز گاؤن اور ہائی ہیلز کے باعث حادثہ پیش آیا، جبکہ کچھ صارفین نے مزاحیہ تبصرے بھی کیے کہ دنانیر ہمیشہ ہی گِر جاتی ہیں۔
اس واقعے کی ویڈیو تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے اور مختلف پلیٹ فارمز پر موضوعِ بحث بنی ہوئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ