’ایشوریا کی قربانیوں کی بدولت آج میں یہاں کھڑا ہوں،‘ ابھیشیک بچن کا بہترین اداکار کا ایوارڈ جیت کر اہلیہ کو کریڈٹ
اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT
بالی ووڈ اداکار ابھیشیک بچن نے فلم انڈسٹری میں اپنے 25 سال مکمل ہونے پر ایک یادگار سنگ میل عبور کیا ہے۔
بھارتی میڈیا کے مطابق 70ویں فلم فیئر ایوارڈز 2025ء میں ابھیشک بچن نے اپنے 25 سالہ کیریئر میں پہلی بار بہترین اداکار کا ایوارڈ جیتا ہے، یہ ایوارڈ اِنہیں 2024ء کی فلم ’آئی وانٹ ٹو ٹاک‘ میں شاندار اداکاری پر دیا گیا۔
ایوارڈ وصول کرتے ہوئے ابھیشک بچن جذبات پر قابو نہ رکھ سکے اور اِن کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔
ہاتھ میں ایوارڈ اٹھائے اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے اداکار نے کہا، ’اس سال میرے فلمی سفر کو 25 سال مکمل ہوئے، میں نہیں جانتا کہ کتنی بار اس لمحے کے لیے میں نے تقریر کی تیاری کی ہے، یہ ہمیشہ میرا خواب رہا ہے، آج اپنے خاندان کے سامنے یہ ایوارڈ حاصل کرنا میرے لیے بے حد خاص لمحہ ہے۔‘
اُنہوں نے مزید کہا کہ اِن تمام ہدایتکاروں اور پروڈیوسرز کا شکریہ جنہوں نے مجھ پر یقین کیا اور مجھے مواقع دیے، یہ سفر آسان نہیں تھا، مگر بے شک قابلِ فخر رہا۔
ایشوریا اور آردھیا کے نام جذباتی پیغام
ابھیشک بچن نے اپنی تقریر میں اہلیہ ایشوریا رائے بچن اور بیٹی آردھیا کا خاص طور پر ذکر کیا۔
اہلیہ اور بیٹی کو مخاطب کرتے ہوئے اداکار نے کہا کہ ایشوریا اور آردھیا، تم دونوں کا شکریہ کہ تم نے مجھے میرے خواب پورے کرنے کی اجازت دی، میں جانتا ہوں کہ تمہاری قربانیاں ہی وہ وجہ ہیں کہ آج میں یہاں کھڑا ہوں، یہ ایوارڈ میں دو خاص لوگوں کے نام کرتا ہوں، اپنے ہیرو، اپنے والد (امیتابھ بچن) اور اپنی دوسری ہیرو، اپنی بیٹی آردھیا کے نام۔
یاد رہے کہ ابھیشک بچن حال ہی میں ’ہاؤس فل 5‘ میں اکشے کمار، رتیش دیش مکھ، سونم باجوہ اور جیکولین فرنینڈس کے ساتھ نظر آئے تھے۔
اِن کی اگلی فلم ’کِنگ‘ ہے جس میں وہ شاہ رخ خان اور سوہانا خان کے ساتھ اسکرین شیئر کریں گے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ابھیشک بچن
پڑھیں:
لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق
لاہور ( اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء ) لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں مبینہ زیادتی کا شکار ہونے والی 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جان کی بازی ہار گئی۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق لاہور کے علاقہ ماڈل ٹاؤن کے ایک گھر میں ملازمہ کے طور پر کام کرنے والی 18 سالہ لڑکی مبینہ طور پر گینگ ریپ اور بعد ازاں غیر قانونی طبی طریقہ کار کے باعث زندگی کی بازی ہار گئی ہے، متوفیہ نے ہسپتال میں دم توڑنے سے قبل اپنے بیانات ریکارڈ کرادیئے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ لڑکی کا حمل ضائع کرنے کے لیے اسے پہلے رائے ونڈ کے ایک نجی کلینک لے جایا گیا، جہاں حالت بگڑنے پر اسے سروسز ہسپتال منتقل کیا گیا، وہ دو روز تک سروسز ہسپتال میں زیرِ علاج رہنے کے بعد دم توڑ گئی، متاثرہ لڑکی نے اپنے تحریری اور ویڈیو بیانات میں مکان مالک کے بیٹے اور ڈرائیور پر اجتماعی زیادتی کا سنگین الزام عائد کیا تھا، بعد میں مبینہ دباؤ کے تحت لڑکی نے اپنے بیان میں تبدیلی کی اور اپنے آخری بیان میں صرف ڈرائیور کو ہی نامزد کیا۔(جاری ہے)
پولیس نے بتایا کہ لڑکی کے ابتدائی بیانات کی روشنی میں گینگ ریپ کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، تاہم اس کی موت کے بعد مقدمے میں باقاعدہ طور پر قتل کی دفعات بھی شامل کر دی گئی ہیں، ایک نامزد ملزم ڈرائیور کو گرفتار کرکے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا ہے، قتل کی دفعات شامل ہونے کے بعد کیس کی تفتیش جینڈر سیل سے تبدیل کرکے انویسٹی گیشن ونگ کے سپرد کر دی گئی ہے، پولیس نے گھر کے مالکان سمیت ان تمام افراد کو دوبارہ شاملِ تفتیش کرنے کے لیے نوٹسز جاری کر دیئے ہیں جنہیں پہلے کلیئر کر دیا گیا تھا۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ضابطہ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت ریکارڈ کیے گئے بیانات کا دوبارہ باریک بینی سے جائزہ لیا جائے گا، متوفیہ کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا ہے اور موت کی اصل وجہ رپورٹ آنے کے بعد واضح ہوگی، اگر رائے ونڈ کے نجی کلینک کی جانب سے غفلت یا غیر قانونی طریقہ کار کے شواہد ملے تو اس کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔