Jasarat News:
2026-06-03@00:59:27 GMT

جنگ بندی؛ حماس کی فتح: ایمان کی طاقت کا اثبات

اشاعت کی تاریخ: 13th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

اللہ اکبر! وللہ الحمد! غزہ میں جنگ بندی کا اعلان ہوچکا ہے۔ یہ کوئی معمولی لمحہ نہیں، بلکہ ایمان و یقین کے اْن مناظر میں سے ہے جو تاریخ میں کبھی کبھار رقم ہوتے ہیں۔ شہر ِ عزیمت — غزہ — آج اللہ اکبر اور الحمدللہ کے نعروں سے گونج رہا ہے۔ اہل ِ غزہ اور اہل ِ ایمان خوشی سے نہال ہیں، دوہری خوشی سے؛ ایک اس لیے کہ اْن کے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو جنگ کی مشقتوں سے کچھ لمحوں کا سکون نصیب ہو رہا ہے، اور دوسرا اس لیے کہ اسلام کے مقابلے میں صہیونیت کی بدترین شکست اور ذلت و رسوائی تاریخ کے صفحات پر ایسی سیاہی سے درج ہوگئی ہے جو قیامت تک مٹ نہیں سکتی۔دو سال سے زائد عرصہ تک دنیا کی بڑی طاقتوں، جدید ترین ٹیکنالوجی، بم و بارود، اسلحہ اور شیطانی حربوں سے آراستہ غاصب قوتیں ایک چھوٹے سے علاقے پر چڑھ دوڑیں مگر نتیجہ؟ ناکامی، شرمندگی اور رسوائی! محمد الضیف، اسماعیل ہنیہ، یحییٰ السنوار، محمد السنوار، استاد ابو عبیدہ اور ان جیسے بہادر قائدین کے وہ الفاظ آج حرف بہ حرف سچ ثابت ہوگئے کہ: ’’ہماری مرضی کے بغیر تم کچھ حاصل نہیں کرسکو گے، ایک قیدی بھی نہیں!‘‘ یہ صرف الفاظ نہیں تھے، بلکہ ایک عہد تھا، عہد ِ صبر، عہد ِ ثبات، عہد اللہ پر توکل کا۔ اور آج وہ عہد ایک حقیقت بن چکا ہے۔ جس دشمن نے خود کو ’’دیوارِ دفاع‘‘ کہا، وہ آج اپنی دیواروں کے اندر بھی محفوظ نہیں۔ جس نے ’’حدید‘‘ (آئرن ڈوم) کو اپنا مذہب بنا لیا تھا، آج اس کے سائے میں بھی اس کے شہری کانپ رہے ہیں۔

اللہ اکبر اور الحمدللہ کے نعروں کے ساتھ شہر ِ عزیمت نے اس معاہدے کا استقبال کیا۔ یہ معاہدہ تحریک ِ مزاحمت کی بھی فتح ہے، مجاہدین کی بھی، اور اْس ایمان و عزیمت کی بھی جو ملبوں کے بیچ سر اٹھا کر کھڑا رہا۔ یہ صرف ایک جنگ بندی نہیں، بلکہ ایک اعتراف ہے کہ صہیونی منصوبہ ناکام ہوگیا، اور ایمان کی قوت نے مادی طاقت کو زیر کردیا۔ اہل ِ غزہ نے یہ معاہدہ اپنے لہو سے لکھوایا ہے، اپنی قربانیوں سے، اپنے عزم سے، اپنے بچوں کی شہادت سے۔ اس معاہدے کی خاص بات یہ ہے کہ تمام شرائط مجاہدین کی مرضی سے طے پائیں: مستقل جنگ بندی۔ دشمن کا مکمل انخلا۔ قیدیوں کی مطلوبہ واپسی۔ عالمی ضمانت۔ تحریک اور قیادت کی مکمل حفاظت۔  یہ وہ معاہدہ نہیں جو ٹرمپ نے پیش کیا تھا، نہ وہ جس پر غاصب نے خود حامی بھری تھی، نہ وہ جسے خلیجی ریاستوں نے اپنی سفارتی ’’دانائی‘‘ کے نام پر تھوپنے کی کوشش کی تھی۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس پر ’’جیالوں نے دستخط کیے‘‘ اور جس کا اعلان اْس وقت تک ممکن نہ تھا جب تک مجاہدین ِ عزیمت نے حامی نہ بھر لی۔ یہ جنگ بندی دراصل صہیونیت کی شکست کا دوسرا نام ہے۔ یہ شکست محض عسکری نہیں بلکہ نظریاتی، نفسیاتی اور سیاسی سطح پر بھی مکمل ہے۔ غاصب طاقت جو خود کو ’’ناقابل ِ شکست‘‘ کہتی تھی، آج اپنی ساکھ، اپنی عسکری برتری، حتیٰ کہ اپنے اخلاقی جواز سے بھی محروم ہوچکی ہے۔

دنیا کی سب سے بڑی فوج، سب سے زیادہ فی کس فوجی بجٹ، سب سے جدید ہتھیار، سب کچھ ہونے کے باوجود، ایک چھوٹے سے علاقے کے خلاف اس کی ناکامی صرف ایک فوجی ناکامی نہیں، بلکہ ایک آئیڈیولوجیکل کرائسس ہے۔ صہیونیت کا بنیادی دعویٰ یہ تھا کہ ’’یہودی قوم کو دنیا کے خلاف ایک مضبوط قلعہ چاہیے‘‘، مگر آج وہ قلعہ ہی گھیرے میں ہے۔ اس کے شہری خوفزدہ ہیں، اس کی فوج مایوس ہے، اور اس کے حامی مغربی ممالک بھی اب اس کے خلاف اخلاقی موقف اپنانے پر مجبور ہو رہے ہیں۔ غزہ نے دنیا کو یہ بتا دیا کہ طاقت توپ و تفنگ سے نہیں، ایمان کے یقین اور مقصد کی پاکیزگی سے پیدا ہوتی ہے۔ غزہ کے لوگ محاصرہ، بھوک، بمباری، ظلم اور تنہائی کے باوجود ثابت قدم رہے، کیونکہ اْن کا یقین رب العالمین پر تھا، کسی سپر پاور پر نہیں۔ جب دنیا کے تمام دروازے بند ہو جائیں، تو اللہ کا دروازہ کھلا رہتا ہے۔ جب تمام راستے بند ہو جائیں، تو اللہ کا راستہ کھلا رہتا ہے۔ غزہ نے یہی سبق دیا: اللہ کی مدد اْس وقت آتی ہے جب انسان اپنی آخری سانس تک جدوجہد کرتا ہے۔

قرآنِ کریم کہتا ہے: ’’سلام ہو تم پر تمہارے صبر کے بدلے، کیا ہی خوب ہے آخرت کا انجام!‘‘۔ اہل ِ غزہ نے اس آیت کو اپنے کردار سے زندہ کردیا۔ انہوں نے صبر کو شکایت نہیں بننے دیا، بلکہ اسے ایمان کا استعارہ بنایا۔ وہ جانتے تھے کہ ظلم جتنا بڑھتا ہے، اللہ کی نصرت اْتنی قریب آتی ہے۔ اور آج پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ یہ نصرت اْنہی کے لیے ہے جو اللہ پر توکل کرتے ہیں۔غزہ کی فتح محض اہل ِ فلسطین کی نہیں، یہ پوری امت ِ مسلمہ کی فتح ہے۔ یہ ثبوت ہے کہ جب ایمان پر یقین اور مقصد پر خلوص ہو تو طاقتور سے طاقتور دشمن بھی جھکنے پر مجبور ہوجاتا ہے۔ لیکن یہ لمحہ صرف فخر کا نہیں، بلکہ یاددہانی کا بھی ہے۔ کیا ہم نے غزہ کے لیے کچھ کیا؟ کیا ہم نے اْن کے خون کو اپنا خون سمجھا؟ کیا ہم نے اْن کی آواز کو اپنی آواز بنا لیا؟ یا ہم صرف سوشل میڈیا پر ’’ری ایکشن‘‘ لگا کر اپنا فرض ادا سمجھ بیٹھے؟

غزہ کی فتح ہمارے لیے ایک آئینہ ہے جو ہمیں دکھاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔ اگر ہم ایمان کی طاقت کو سمجھنا چاہتے ہیں، تو ہمیں غزہ کی طرح عمل کرنا ہوگا، قربانی دینی ہوگی، اور اللہ پر بھروسا کرنا ہوگا۔ نہ کہ صرف دعائیں مانگنا۔ یہ معرکہ اْس وقت مکمل ہوگا جب بیت المقدس آزاد ہوگا، اور امت ِ مسلمہ اپنے زخم خوردہ جسم میں ایک روح بن کر اٹھ کھڑی ہوگی۔ جنگ بندی صرف ایک مرحلہ ہے، فتح کا آغاز ہے، نہ کہ اختتام۔ ابھی تک فلسطین کے ہزاروں قیدی جیلوں میں ہیں۔ ابھی تک مغربی کنارے پر ظلم جاری ہے۔ ابھی تک قدس کی مساجد پر قبضہ ہے۔ ابھی تک امت ِ مسلمہ تقسیم ہے، اور اس کی آواز کمزور ہے۔ لیکن غزہ کی فتح نے ہمیں یہ یقین دلایا کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے، اور جو اْس کی راہ میں جدوجہد کرتا ہے، اْس کی مدد ضرور آتی ہے۔

اللم ثبت اقدامہم، اللم انصرہم علی اعدائھم، اللم کن لہم عونا و نصیراً، آمین یا رب العالمین۔  اے اللہ! تو نے اپنے بندوں کی لاج رکھی، تو نے اہل ِ غزہ کو عزت بخشی، تو نے صہیونیت کے تکبر کو مٹی میں ملا دیا۔ ہم تیرے شکر گزار ہیں مگر تیرا شکر پورا ادا نہیں کر سکتے۔ تو نے سچ فرمایا: ’’اور حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لشکر کے لوگ ہی غالب رہتے ہیں‘‘۔ غزہ کے مجاہدین کو سلام وہ جو مٹی میں دفن نہیں ہوئے، بلکہ مٹی کو زندہ کر گئے۔ وہ جنہوں نے اپنی غیرت، اپنے ایمان، اور اپنے خون سے دنیا کو یاد دلایا کہ: اسلام آج بھی زندہ ہے، اور اللہ کا وعدہ آج بھی سچا ہے۔

اللہ اکبر! وللہ الحمد!

غزہ کی فتح، ایمان کی فتح ہے۔

اور ایمان کبھی ہارتا نہیں۔

میر بابر مشتاق.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: غزہ کی فتح اللہ اکبر ایمان کی اللہ کا ابھی تک

پڑھیں:

جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں

دنیا ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ترقی اور بقا کے درمیان فاصلہ تیزی سے کم ہوتا جا رہا ہے۔ ہم نے صدیوں تک یہ سمجھا کہ فطرت ہمارے لیے ایک لامحدود خزانہ ہے جس سے ہم جتنا چاہیں لے سکتے ہیں مگر اب زمین ہمیں بتا رہی ہے کہ ہر نعمت کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ بڑھتی ہوئی گرمی، بے موسم کی بارشیں، خشک سالی، سیلاب اور آلودگی محض موسمی واقعات نہیں رہے بلکہ ایک بڑے ماحولیاتی بحران کی نشانیاں بن چکے ہیں۔

 آج جب یورپ میں گرمی کی نئی لہر ریکارڈ توڑ رہی ہے۔ پرتگال اپنے مئی کے مہینے کا سب سے زیادہ درجہ حرارت دیکھ رہا ہے۔ اسپین، فرانس اور اٹلی میں خطرے کے الارم بج رہے ہیں،یہ انسانی تہذیب کے لیے ایک تنبیہ ہے۔ جنگلات میں آگ لگنے کے خطرات بڑھ رہے ہیں اور دنیا بھر کے ماہرین ماحولیات مسلسل خبردار کر رہے ہیں تو یہ صرف موسم کی تبدیلی کی خبر نہیں بلکہ انسانی طرز زندگی پر ایک سنجیدہ سوالیہ نشان ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہم اب بھی ان انتباہات کو معمول کی خبروں کی طرح نظرانداز کرتے رہیں گے یا اپنے مستقبل کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا شروع کریں گے؟

 ہم اکثر سمجھتے ہیں کہ موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ کہیں دور قطب شمالی کے پگھلتے ہوئے گلیشیئرز یا بحرالکاہل کے ڈوبتے ہوئے جزیروں کا مسئلہ ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ مسئلہ اب ہمارے گھروں، ہماری گلیوں اور ہمارے شہروں تک آ پہنچا ہے۔ پاکستان ان ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے سب سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں حالانکہ دنیا میں کاربن کے اخراج میں ہمارا حصہ نہ ہونے کے برابر ہے۔

کراچی اس کی ایک زندہ مثال ہے۔ اس شہر میں گرمی صرف ایک موسم نہیں ،ایک آزمائش ہے۔ مئی اور جون کی دوپہر میں جب سورج آگ برساتا ہے تو سڑکوں پر چلنے والا عام آدمی کسی پناہ گاہ کی تلاش میں ہوتا ہے، لیکن اسے سایہ کہاں ملے؟ ہمارے شہر کی بڑی شاہراہوں پر درخت کم ہوتے جا رہے ہیں۔

نئی سڑکیں بنتی ہیں، فلائی اوور بنتے ہیں، کنکریٹ کے جنگل پھیلتے جاتے ہیں مگر درختوں کی تعداد گھٹتی جاتی ہے۔ میں اکثر سوچتی ہوں کہ ایک مزدور جو صبح سے شام تک دھوپ میں محنت کرتا ہے، ایک خاتون جو بس اسٹاپ پر کھڑی ہے،ایک طالب علم جو پیدل گھر جا رہا ہے، ایک ٹریفک پولیس اہلکار جو گھنٹوں دھوپ میں کھڑا رہتا ہے ان کے لیے شہر نے کیا انتظام کیا ہے؟ ان کے لیے سایہ کہاں ہے؟ کون سا درخت لگایا گیا ہے۔

 یورپ میں جب درجہ حرارت بڑھتا ہے تو حکومتیں عوام کو خبردار کرتی ہیں۔ شہریوں کے لیے حفاظتی ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔ ہمارے ہاں گرمی کا سامنا زیادہ تر فرد کی اپنی ذمے داری سمجھ لیا جاتا ہے، گویا سورج سے بچنا بھی ایک ذاتی مسئلہ ہے اجتماعی نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ درخت صرف خوبصورت منظر کے لیے نہیں ہوتے۔ وہ زندگی ہوتے ہیں ،وہ فضا کو صاف کرتے ہیں ،زمین کو ٹھنڈا رکھتے ہیں ،پرندوں کو گھر دیتے ہیں اور انسانوں کو سانس لینے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ایک درخت کاٹنا صرف ایک درخت کاٹنا نہیں بلکہ آنے والی نسلوں کے حصے کی ٹھنڈک چھین لینا ہے۔

 موسمیاتی تبدیلی کا مسئلہ صرف درجہ حرارت کا مسئلہ بھی نہیں، یہ انصاف کا مسئلہ ہے دنیا کے امیر ممالک نے دو صدیوں تک صنعت کاری کے نام پر فضا میں کاربن بھرا اور آج اس کی قیمت وہ ممالک ادا کر رہے ہیں جو پہلے ہی غربت بے روزگاری اور بنیادی سہولیات کی کمی کا شکار ہیں۔ اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ پریشان کن چیز شاید ہماری بے حسی ہے۔ ہم ہر سال گرمی کے نئے ریکارڈ بنتے دیکھتے ہیں سیلاب آتے دیکھتے ہیں خشک سالی بڑھتی دیکھتے ہیں مگر پھر بھی اسے ایک عارضی خبر سمجھ کر بھول جاتے ہیں۔

زمین کی تاریخ ہمیں ایک عجیب سبق دیتی ہے۔ سائنس دان بتاتے ہیں کہ اربوں سال پہلے جب زمین کے ماحول میں آکسیجن کی مقدار اچانک بڑھی تھی تو اس وقت موجود بے شمار جاندار اس تبدیلی کو برداشت نہ کر سکے۔ اس واقعے کو بعض اوقات عظیم آکسیجنی تباہی کہا جاتا ہے اور اسے زمین کی اولین عظیم حیاتیاتی تبدیلیوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ زندگی ختم نہیں ہوئی تھی لیکن زندگی کی بہت سی اشکال ختم ہو گئی تھیں۔ کچھ نئی انواع نے جنم لیا اور ارتقا کا سفر آگے بڑھتا رہا۔یہ بات ہمیں یاد رکھنی چاہیے کہ فطرت انسان کے بغیر بھی زندہ رہ سکتی ہے لیکن انسان فطرت کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

آج ہم خود اپنے ہاتھوں سے فضا میں کاربن بھر رہے ہیں۔ کارخانوں کا دھواں، بے ہنگم شہری پھیلاؤ، جنگلات کی کٹائی، فضائی آلودگی اور لامحدود منافع کی دوڑ ہمیں ایک ایسے راستے پر لے جا رہی ہے جہاں ایک نئی ماحولیاتی تباہی کا خطرہ موجود ہے۔ شاید زمین باقی رہے گی، سمندر باقی رہیں گے، پہاڑ باقی رہیں گے اور شاید زندگی کی کوئی نئی شکل بھی باقی رہے، لیکن یہ ضروری نہیں کہ اس دنیا میں انسان اسی طرح موجود رہیں جیسے آج ہیں۔ ارتقا کا عمل رکتا نہیں زندگی کسی نہ کسی صورت اپنا راستہ نکال لیتی ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ کیا ہم اپنی جگہ برقرار رکھ سکیں گے؟

 یہ بات کسی خوف پھیلانے کے لیے نہیں کہی جا رہی بلکہ اس لیے کہ ہم حقیقت کو سمجھ سکیں۔ جو زہر ہم ماحول میں بو رہے ہیں وہ آخرکار ہماری اپنی سانسوں میں شامل ہو رہا ہے۔ جو درخت ہم کاٹ رہے ہیں ان کی کمی ہمارے اپنے جسموں پر گرمی کی صورت میں ظاہر ہو رہی ہے۔ جو دریا ہم آلودہ کر رہے ہیں وہی آلودگی ہماری اپنی زندگیوں میں واپس آ رہی ہے۔اس لیے شاید وقت آ گیا ہے کہ ہم ترقی کے معنی پر دوبارہ غور کریں۔ کیا ترقی صرف اونچی عمارتوں کا نام ہے؟ کیا ترقی صرف نئی شاہراہوں اور بڑے منصوبوں کا نام ہے؟ یا پھر ترقی کا مطلب یہ بھی ہے کہ ایک شہر میں چلنے والا انسان سایہ پا سکے صاف ہوا میں سانس لے سکے اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک قابلِ رہائش دنیا چھوڑ سکے؟

دنیا کی یہ بدلتی حالت شاید ہمیں ایک آخری موقع دے رہی ہے۔ ایک موقع کہ ہم اپنے رویوں پر نظرثانی کریں اپنی ترجیحات بدلیں اور زمین کے ساتھ اپنے رشتے کو دوبارہ سمجھیں، کیونکہ فطرت انتقام نہیں لیتی وہ صرف اپنا توازن بحال کرتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب وہ توازن بحال ہوگا تو کیا ہم اس کا حصہ ہوں گے یا تاریخ کی کسی معدوم نسل کی طرح صرف ایک یاد بن کر رہ جائیں گے۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • بانی پی ٹی آئی نے مجھے وزیر اعلی نامزد کیا کوئی طاقت مجھے نہیں ہٹا سکتی;سہیل آفریدی
  • بحرین نے اپنے شہریوں کو ایران اور عراق کے سفر سے روک دیا
  • رکشہ ڈرائیور نے چالان ہونے پر رکشے کو آگ لگا دی
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • لاہور میں گینگ ریپ کی شکار 18 سالہ گھریلو ملازمہ اسقاطِ حمل کے دوران جاں بحق