اسلام آباد کچری حملہ : افغانستان ملوث منصوبہ بندی ٹی ٹی پی سر براہ نورولی نے کی : عطاتارڑ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
اسلام آباد (اپنے سٹاف رپورٹر سے) وفاقی وزیر برائے اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے کہا ہے کہ جی الیون کچہری میں خودکش حملے کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ خوارج نور ولی محسود نے اسلام آباد میں بڑی تباہی کا منصوبہ بنایا تھا، حملے کے فوری بعد سکیورٹی اداروں نے پوری کارروائی کو ٹریس کر کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا۔ انٹیلی جنس بیورو اور کائونٹر ٹیررزم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے مشترکہ کارروائی کے دوران خودکش حملے میں ملوث چار دہشت گردوں کو گرفتار کیا۔ منگل کو یہاں پی ٹی وی ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر اطلاعات نے کہا کہ جی الیون اسلام آباد کچہری میں 11 نومبر کو ہونے والے خودکش حملے کی تحقیقات میں اہم پیشرفت ہوئی ہے۔ اس واقعے کے محرکات، اس میں شامل عناصر، منصوبہ بندی کرنے والوں اور متعلقہ تنظیم کے بارے میں حقائق قوم کے سامنے رکھنا ضروری ہے۔ سکیورٹی انتظامات اچھے تھے، انٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی نے خودکش حملے کے 48 گھنٹے کے اندر چار ملزموں کو بڑی مہارت سے گرفتار کیا، یہ آپریشن دونوں اداروں کا مشترکہ اقدام تھا۔ حملے میں ملوث عناصر میں سب سے پہلے ساجد اللہ عرف شینا کو حراست میں لیا گیا جس کے بعد کامران خان، محمد ذالی اور شاہ منیر کو بھی انٹیلی جنس بیورو اور سی ٹی ڈی نے گرفتار کر لیا۔ ساجد اللہ عرف شینا خودکش بمبار کو لے کر آیا۔ اس نے 2015ء میں تحریک طالبان افغانستان میں شمولیت اختیار کی اور مختلف افغان تربیتی کیمپوں میں ٹریننگ لی۔ 2023ء میں اس کی ملاقات داد اللہ نامی کمانڈر سے ہوئی جس کے ذریعے اس حملے کی مکمل منصوبہ بندی فتنہ الخوارج ٹی ٹی پی کے سربراہ نور اللہ محسود نے کی۔ داد اللہ باجوڑ کا رہاشی ہے اور اس وقت افغانستان میں موجود ہے، خودکش حملے کے سلسلے میں ساجد اللہ عرف شینا نے اگست 2025ء میں افغانستان جا کر داد اللہ سے ملاقات کی۔ فتنہ الخوارج کے دہشت گرد عبداللہ جان عرف ابو حمزہ سے شیگل ڈسٹرکٹ میں ملے اور وہاں رات گزاری، وہاں سے کابل پہنچے جہاں ان کی داد اللہ سے ملاقات ہوئی۔ داد اللہ نے انہیں نور ولی محسود کے احکامات پہنچائے کہ راولپنڈی اسلام آباد کے مضافات میں خودکش حملے کرنے ہیں، انہوں نے کابل میں پوری پلاننگ کی، ان کا ہدف راولپنڈی اور اسلام آباد میں کسی بڑی تخریبی کارروائی کو انجام دینا تھا۔ خود کش حملہ آور افغانستان کا رہائشی تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: اسلام ا باد خودکش حملے داد اللہ حملے کے
پڑھیں:
واشنگٹن مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل جامع معاہدے کے قریب؟ سفارتی پیشرفت کے باوجود بڑے چیلنجز برقرار
واشنگٹن میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کے بعد لبنان اور اسرائیل کے درمیان ایک وسیع تر سیاسی و سیکیورٹی معاہدے کی امیدیں پیدا ہوئی ہیں، تاہم زمینی صورتحال اب بھی نازک ہے اور جنوبی لبنان میں جھڑپوں اور فضائی حملوں کا سلسلہ مکمل طور پر نہیں رک سکا۔ ان مذاکرات کا مقصد لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ بندی کو مضبوط بنانا، سرحدی سلامتی کے معاملات حل کرنا اور ایک ایسے فریم ورک پر اتفاق رائے پیدا کرنا ہے جو مستقبل میں ایک جامع سیاسی سمجھوتے کی بنیاد بن سکے۔
یہ بھی پڑھیں:لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان
اس سلسلے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ حزب اللہ اسرائیل کی جانب سے متبادل اقدامات کی صورت میں مکمل جنگ بندی کے لیے آمادہ ہے، کیونکہ لبنانی قیادت جزوی یا محدود سیز فائر کے بجائے ایک جامع اور مستقل معاہدے کی حامی ہے۔ یاد رہے کہ اپریل 2026 میں واشنگٹن میں اسرائیل اور لبنان کے درمیان کئی دہائیوں بعد براہِ راست مذاکرات کا آغاز ہوا تھا، جن میں سرحدی تنازعات، جنوبی لبنان کی سلامتی، جنگ بندی کے نفاذ اور طویل المدتی سیاسی انتظامات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
Day one of direct Israel–Lebanon talks in Washington, DC has concluded, US State Department spokesperson Tommy Pigott says, adding “progress continues” on political and security tracks, with another round scheduled for tomorrow.
???? LIVE coverage ⤵️ https://t.co/tsxQueIYdS
— Al Jazeera English (@AJEnglish) June 3, 2026
تاہم سفارتی پیشرفت کے باوجود زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ اسرائیل نے حالیہ دنوں میں جنوبی لبنان میں فضائی حملے جاری رکھے جبکہ حزب اللہ اور اسرائیلی افواج کے درمیان کشیدگی مکمل طور پر ختم نہیں ہوئی، یہی وجہ ہے کہ مذاکراتی عمل کو ابھی حتمی کامیابی قرار نہیں دیا جا رہا۔ اگرچہ امریکی قیادت کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ اسرائیل اور حزب اللہ نے فائرنگ روکنے پر اتفاق کر لیا ہے، تاہم بعد میں دونوں جانب سے متضاد بیانات اور بعض مقامات پر جھڑپوں کی اطلاعات سامنے آئیں، جس سے واضح ہوا کہ مستقل امن کے لیے مزید مذاکرات درکار ہیں۔
یہ بھی پڑھیں:اسرائیل کا لبنانی شہر ’صور‘ خالی کرنیکا حکم، شدید حملوں سے کشیدگی بڑھ گئی
اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو ممکنہ معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے مرحلہ وار انخلا، لبنانی فوج کی تعیناتی، سرحدی سلامتی کے نئے انتظامات اور اقوام متحدہ کی قرارداد 1701 پر عمل درآمد جیسے نکات شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم حزب اللہ کے اسلحے اور اس کے مستقبل کے کردار کا معاملہ اب بھی سب سے بڑا اختلافی نکتہ تصور کیا جا رہا ہے۔ مجموعی طور پر واشنگٹن مذاکرات مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی کے خاتمے کی جانب ایک اہم قدم ضرور ہیں، لیکن لبنان، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان دیرپا امن کے لیے ابھی کئی سیاسی اور سیکیورٹی رکاوٹیں عبور کرنا باقی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل امریکا لبنان واشنگٹن