سندھ کے دیہی علاقے پکا چنگ کے عبدالکریم آرائیں نے گزشتہ ساڑھے چار برسوں میں سوشل میڈیا کے درست استعمال کو اپنی پہچان بنا لیا ہے۔ وہ روزانہ 2 سے 3 موٹیویشنل اور اصلاحی ویڈیوز بنا کر نہ صرف لاکھوں نوجوانوں کو خود اعتمادی اور مثبت سوچ کی راہ دکھاتا ہے بلکہ آن لائن کونسلنگ کے ذریعے دنیا کے 50 سے زیادہ ملکوں میں ہزاروں افراد کی زندگیوں میں تعمیری تبدیلی بھی لا رہا ہے۔

’وی نیوز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے عبدالکریم آرائیں نے کہاکہ ان کا مقصد انسان کو اپنی شخصیت پہچاننے اور اپنی اہمیت کا احساس دلانے پر زور دینا ہے۔ ان کے مطابق جب آپ کو اپنی قدر و قیمت کا اندازہ ہو جائے، تب ہی آپ زندگی میں بڑے فیصلے اور کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا پر پوسٹ کرنا کس وقت ذہنی صحت کے لیے مضر ہوتا ہے؟

انہوں نے کہاکہ وہ اپنے فالوورز کو یہ پیغام دیتے ہیں کہ کسی کے دھوکہ دینے یا چھوڑ جانے سے زندگی رک نہیں جاتی، اس لیے اپنی زندگی دوسروں کے لیے برباد کرنے کے بجائے خود کے لیے جئیں اور اپنی خوشی کو مقدم رکھیں۔

عبدالکریم کے مطابق آج کے دور میں سب سے بڑا مسئلہ تنہائی اور منفی سوچوں کا ہے، جس کی وجہ سے لوگ اندر ہی اندر گھٹتے ہیں اور خودکشی کے رجحانات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے پاس پاکستان سمیت دنیا کے قریباً 5 ہزار سے زیادہ افراد آن لائن کونسلنگ لے کر کامیاب زندگی گذار رہے ہیں، جنہیں وہ کبھی مفت اور کبھی فیس کے عوض مشورے فراہم کرتے ہیں۔

انہوں نے انکشاف کیاکہ ان کے کلائنٹس میں بڑی تعداد ڈاکٹرز کی ہے، جو خود بھی ذہنی دباؤ اور ڈپریشن کا شکار ہوتے ہیں لیکن اپنے مسائل کسی سے بیان نہیں کر پاتے۔

انہوں نے کہاکہ اسی طرح زیادہ تر کیسز تعلقات میں دھوکہ دہی کے بعد سامنے آتے ہیں، حتیٰ کہ میاں بیوی بھی ایک دوسرے کو دھوکہ دے رہے ہوتے ہیں، جس کے نتائج نہایت خطرناک ہوتے ہیں۔ اس کا سب سے آسان حل باہمی اعتماد اور بچوں کی بہتر تربیت ہے۔

عبدالکریم آرائیں نے افسوس کا اظہار کیاکہ پاکستان کے بڑے شہروں میں بھی منشیات کے استعمال اور غیر اخلاقی رویوں کے باعث نوجوان پیچیدہ مسائل میں گرفتار ہیں، جبکہ خواتین میں ذہنی دباؤ کے کیسز تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ ان کے مطابق مشترکہ خاندانی نظام بھی بعض اوقات ذہنی دباؤ کی بڑی وجہ بن جاتا ہے۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ سوشل میڈیا کے غلط استعمال کے بجائے اس سے مثبت فائدہ اٹھائیں۔ ’یہی پلیٹ فارم ان کے لیے ذریعہ روزگار بھی بنا اور لوگوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے کا سبب بھی۔‘

یہ بھی پڑھیں: سوشل میڈیا فلٹرز سے نوجوانوں میں پیدا ہوتے نفسیاتی مسائل کا حل کیا ہے؟

عبدالکریم آ رائیں نے مزید کہاکہ یہ کام میں نے اپنے دوستوں کی اصلاح سے شروع کیا تھا، جو آج ایک بڑا مشن بن چکا ہے۔ اس سے جہاں میری آمدنی میں اضافہ ہوا ہے وہیں مجھے اس بات کی بے حد خوشی ہے کہ میں لوگوں کی زندگیاں بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو رہا ہوں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

wenews زندگی میں تبدیلی سندھ کا نوجوان سوشل میڈیا مثبت استعمال نوجوان وی نیوز.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: زندگی میں تبدیلی سندھ کا نوجوان سوشل میڈیا مثبت استعمال نوجوان وی نیوز سوشل میڈیا انہوں نے کے لیے

پڑھیں:

نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا

 

 

بھارت میں نیٹ (NEET) امتحان کے مبینہ پیپر لیک کے خلاف دہلی سے شروع ہونے والا احتجاج اب ملک کے مختلف شہروں تک پھیل گیا ہے۔ طلبہ کی جانب سے امتحانی نظام میں شفافیت، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی اور اصلاحات کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں، جبکہ دہلی یونیورسٹی نے اپنے طلبہ اور اساتذہ کو جنتر منتر پر جاری احتجاج میں شرکت سے گریز کرنے کی ہدایت جاری کر دی ہے۔

پیپر لیک کے خلاف احتجاج اب صرف دارالحکومت دہلی تک محدود نہیں رہا۔ ممبئی، کولکاتا، بنگلورو، حیدرآباد، پٹنہ، لکھنؤ، چندی گڑھ اور دیگر شہروں میں بھی طلبہ تنظیموں نے ریلیاں، دھرنے اور احتجاجی مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔ متعدد مقامات پر طلبہ نے امتحانی نظام میں اصلاحات، پیپر لیک میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی اور شفاف امتحانی عمل کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔

Huge crowd of students floods roads of Nashik.

Student protest is now getting pan India surge. pic.twitter.com/tW5HlH2LuY

— VIZHPUNEET (@vizhpuneet) July 23, 2026

ادھر اپوزیشن جماعتیں بھی طلبہ کی حمایت میں میدان میں آ گئی ہیں۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہول گاندھی اور ’انڈیا اتحاد‘  کے دیگر رہنماؤں نے احتجاجی طلبہ سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے وفاقی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ دہرایا ہے۔

دوسری جانب نیٹ دہلی یونیورسٹی نے اپنے سرکاری بیان میں کہا ہے کہ جنتر منتر پر ہونے والے اجتماعات سپریم کورٹ کی ہدایات کے تحت منظم کیے جاتے ہیں اور کسی بھی غیرقانونی مظاہرے میں شرکت کرنے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ایسے اقدامات طلبہ کی سلامتی، تعلیمی مستقبل اور پیشہ ورانہ مواقع کو متاثر کر سکتے ہیں، اس لیے انہیں احتجاجی سرگرمیوں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ، نئی دہلی میں طلبہ کے احتجاج پر لاٹھی چارج

یونیورسٹی نے سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی جعلی اور گمراہ کن خبروں سے بھی خبردار کرتے ہوئے طلبہ کو غیر مصدقہ معلومات شیئر نہ کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

بھارتی حکومت کا کہنا ہے کہ پیپر لیک معاملے کی تحقیقات جاری ہیں اور ذمہ داروں کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی، تاہم طلبہ تنظیموں نے واضح کیا ہے کہ مطالبات کی منظوری تک احتجاج جاری رہے گا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بھارت احتجاج دہلی احتجاج نیٹ پیپر لیک

متعلقہ مضامین

  • زندگی کا مقصد
  • ایچ آئی وی کے خلاف حکومت سندھ موثر اقدامات کر رہی ہے، وزیر صحت
  • ’میری قبر پہلے ہی تیار ہے‘، موت کی تیاریوں سے متعلق عطا اللہ خان عیسیٰ خیلوی کا حیران کن بیان
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • یورپی یونین کا گوگل پر 89 کروڑ یورو جرمانہ، سرچ انجن پر اجارہ داری کے غلط استعمال کا الزام
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی