WE News:
2026-07-24@05:22:12 GMT

پاکستان سے لڑائی افغان طالبان کی تنہائی میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

12 اکتوبر کو پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے ۔ اس میں افغان طالبان، فتنہ خوارج (ٹی ٹی پی ) فتنہ ہندوستان (بی ایل اے ) کی جانب سے پاکستان پر بلااشتعال حملے کو پر امن ہمسائگی اور تعاون کے خلاف قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے حملے کو منتشر کیا اور حملہ آوروں کو بھاری نقصان بھی پہنچایا۔ اس بیان کے آخر میں یہ کہا گیا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ اک دن افغان عوام آزاد ہوں گے اور ان پر ایک حقیقی نمائندہ حکومت کی حکمرانی ہو گی‘۔

افغان عوام کی آزادی اور ان کی ایک حقیقی نمائندہ حکومت۔ ترجمان نے یہ تان اٹھائی اور اس کے ساتھ ہی یاری ٹٹ گئی تڑک کر کے۔ گیت کا پہلا مصرعہ اور بھی سوادی ہے جو بے قدروں (افغان طالبان) کے ساتھ لگائی یاری کا ذکر کرتا ہے۔ پاکستان نے ڈبل گیم کرنے کے الزامات سہے کس کے لیے ایک سئیاں تیرے واسطے۔ یہ الزامات افغان طالبان کی مدد کے لیے نہیں لگائے جاتے تھے تو کس کے لیے لگتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل اکانومی پاکستان کا معاشی سیاسی لینڈ اسکیپ بدل دے گی

سیکیورٹی فورسز کے جوان دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے اپنے لوگوں کو بچانے کی قیمت جان دے کر ادا کر رہے ہیں۔ ہر 3 دہشتگردوں کو ٹھکانے لگاتے سیکیورٹی فورسز ایک جوان کی جان کا نذرانہ دے رہی ہیں۔

دوشنبے میں افغانستان پر ہونے والے اجلاس میں پاکستانی مندوب محمد صادق نے کہا کہ دہشتگردوں میں افغان باشندوں کی تعداد 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان نے ایران کے میزائل حملوں کا فوری جواب دیا۔ انڈیا کی غلط فہمی دور کی۔ ٹرمپ کسی سالگرہ پر بھی گیا ہو وہاں کیک کاٹتے پھونک مارتے بتاتا ہے کہ ایسے پھونک مار کے پاکستان نے انڈیا کے سات جہاز گرائے۔ انڈییا کے ساتھ معرکہ پاکستان کے ایک نئے تعارف کا باعث بنا۔ دنیا کو معلوم ہوا کہ یہ کوئی فیل ہوتی ریاست نہیں ہے۔ ہر قسم کے فوجی خطرے سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

قطر پر جب اسرائیل نے حملہ کر کے حماس کو ننشانہ بنایا۔ اس کے فوری بعد پاک سعودی دفاعی معاہدے کا اعلان ہو گیا۔ جس میں کہا گیا کہ ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا وزیر اعظم شہباز شریف کو شرم الشیخ میں جس طرح ٹرمپ نے دنیا بھر سے آئے لیڈروں کی موجودگی میں اپنی تقریر کے دوران بات کرنے کا موقع دیا۔ اس سے یہ تو پتا لگتا ہے کہ ٹرمپ کو پاکستان سے سچا پیار ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ انڈیا کے خلاف فوجی طاقت کے مظاہرے کے علاوہ کیا ہے؟

مزید پڑھیے: افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش، پاکستان کے لیے موقع، افغانوں کے لیے مصیبت

اس پاکستان کے جس نے اپنی دفاعی طاقت اور پوزیشن نو دریافت کی ہے۔ فوجی درجن درجن کی تعداد میں دہشتگردی کا مقابلہ کرتے جان دیں گے۔ نتیجہ اس کے علاوہ کیا نکلنا تھا کہ افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور قیادت کو نشانہ بنایا جاتا۔ اس کے جواب میں اگر افغان طالبان پورے پاک افغان باڈر پر لڑائی چھیڑ کر جواب دیں گے تو پھر وہی ہونا تھا جو ہوا۔ اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگنا پڑا، چوکیاں قبضہ کروائیں۔

پاکستان افغانستان کے درمیان اس تناؤ کے دوران امیر خان متقی انڈیا کے دورے پر تھے۔ واپس کابل پہنچنے پر ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات کو مکمل بحال کیا جائے۔ یہ لائن ایک کامیاب دورے کا پتا ہی بتاتی ہے۔ حال یہ ہے کہ ہمارے بھارت مہان نے پاک افغان تناؤ پر ایک لفظ نہیں کہا اور پاکستان کو مشتعل کرنے سے گریز کیا ہے اور افغان طالبان کی حمایت میں بھی کچھ نہیں بولا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان نے افغانستان کے اندر ایک طرح سے دنیا بھر کے عسکریت پسندوں کے لیے اقوام متحدہ ہی بنا رکھی ہے۔ سنٹرل ایشیا، روس، چین، یورپ، پاکستان ہر ملک کو یہاں موجود دہشتگرد گروپوں سے حقیقی خطرات لاحق ہیں۔

ان گروپوں کے خلاف کارروائی سے افغان طالبان انکاری ہیں اور افغانستان پر ہونے والے اجلاسوں میں ہر بار افغان طالبان حکومت سے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ ہوتا ہے۔

پاک افغان تناؤ کے دوران کسی ملک کا افغان طالبان کے حق میں کوئی بیان نہیں آیا۔ کئی اہم ملکوں نے اس پر بات کرنے سے ہی گریز کیا۔ جن ملکوں نے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا انہوں نے بھی اک طرح سے حوصلہ افزائی ہی کی جیسے چاہتے ہوں کہ افغان طالبان کی طبعیت سیٹ ہو اور ان کو ایک ریئلیٹی چیک دیا جائے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے اس بیان کہ ’ہمیں امید ہے کہ اک دن افغان عوام آزاد ہوں گے اور ان پر ایک حقیقی نمائندہ حکومت کی حکمرانی ہو گی‘ کو اک بار غور سے پڑھ لیں۔ حالات جس طرف جا سکتے ان کی سمجھ آ جائے گی۔ پاکستان نے عارضی فائر بندی مشروط طور پر ہی کر رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی بڑی آبادی کو چھوٹی سوچ کے ساتھ ترقی نہیں دی جا سکتی 

اگر دوبارہ کوئی دہشتگرد حملہ ہوا تو اک بار پھر افغانستان کے اندر مسلح گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکا سمیت بہت سے ملک اس صورتحال پر خوش ہونگے کہ افغان طالبان کے ساتھ اسکور سیٹل کرنے کا ایک نادر موقع سب کے ہاتھ آیا ہے۔ خواتین کی تعلیم پر پابندی اور لوگوں کو ریلیف کی فراہمی میں ناکامی نے افغان طالبان کے خلاف پہلے ہی افغانوں کو مشتعل کر رکھا ہے۔

 مسائل کے حل کی ایک اور چابی بھی پاکستان کے پاس ہے اس کی طرف حوالدار بشیر کا ابھی دھیان نہیں گیا شاید۔ افغان طالبان کے پاکستان مخالف راہنماؤں کی جائدادیں کاروبار اور اکاؤنٹ پاکستان میں موجود ہیں۔ ان پر تالا لگے تو ان کو اعتدال نرمی دوستی کے بھولے سبق یاد آ جائیں گے۔ ورنہ سفارتی تنہائی دکھ بھری تو ہو ہی جائے گی۔ اور ایسا کرنا بنتا بھی ہے کہ چند لوگوں نے دونوں ملکوں کے عوام کو اپنی پالیسیوں کا یرغمال بنا رکھا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

افغانستان پاک افغان تناؤ پاک افغان کشیدگی پاکستان.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان پاک افغان تناؤ پاک افغان کشیدگی پاکستان افغان طالبان کے افغان طالبان کی افغانستان کے پاکستان نے پاکستان کے پاک افغان انڈیا کے کہ افغان کے ساتھ کے خلاف اور ان کے لیے

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • افغانستان: نورستان میں تباہ کن سیلاب، ہلاکتیں 40 سے تجاوز کر گئیں، متاثرین خوراک اور صاف پانی سے محروم
  • سلامتی کونسل میں پاکستان نے بھارت کو لاجواب کر دیا
  • بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • افغانوں کو شناختی کارڈ اجراء، دہشتگردوں سے مبینہ روابط، ملزموں کا ریمانڈ 
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • آئی ٹی برآمدات میں اضافہ حکومتی اقدامات اور پالیسیوں کا ثمر ہے، وزیراعظم شریف