WE News:
2025-11-29@13:47:27 GMT

پاکستان سے لڑائی افغان طالبان کی تنہائی میں اضافہ

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

12 اکتوبر کو پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے ۔ اس میں افغان طالبان، فتنہ خوارج (ٹی ٹی پی ) فتنہ ہندوستان (بی ایل اے ) کی جانب سے پاکستان پر بلااشتعال حملے کو پر امن ہمسائگی اور تعاون کے خلاف قرار دیا ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے حملے کو منتشر کیا اور حملہ آوروں کو بھاری نقصان بھی پہنچایا۔ اس بیان کے آخر میں یہ کہا گیا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ اک دن افغان عوام آزاد ہوں گے اور ان پر ایک حقیقی نمائندہ حکومت کی حکمرانی ہو گی‘۔

افغان عوام کی آزادی اور ان کی ایک حقیقی نمائندہ حکومت۔ ترجمان نے یہ تان اٹھائی اور اس کے ساتھ ہی یاری ٹٹ گئی تڑک کر کے۔ گیت کا پہلا مصرعہ اور بھی سوادی ہے جو بے قدروں (افغان طالبان) کے ساتھ لگائی یاری کا ذکر کرتا ہے۔ پاکستان نے ڈبل گیم کرنے کے الزامات سہے کس کے لیے ایک سئیاں تیرے واسطے۔ یہ الزامات افغان طالبان کی مدد کے لیے نہیں لگائے جاتے تھے تو کس کے لیے لگتے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل اکانومی پاکستان کا معاشی سیاسی لینڈ اسکیپ بدل دے گی

سیکیورٹی فورسز کے جوان دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے اپنے لوگوں کو بچانے کی قیمت جان دے کر ادا کر رہے ہیں۔ ہر 3 دہشتگردوں کو ٹھکانے لگاتے سیکیورٹی فورسز ایک جوان کی جان کا نذرانہ دے رہی ہیں۔

دوشنبے میں افغانستان پر ہونے والے اجلاس میں پاکستانی مندوب محمد صادق نے کہا کہ دہشتگردوں میں افغان باشندوں کی تعداد 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔

پاکستان نے ایران کے میزائل حملوں کا فوری جواب دیا۔ انڈیا کی غلط فہمی دور کی۔ ٹرمپ کسی سالگرہ پر بھی گیا ہو وہاں کیک کاٹتے پھونک مارتے بتاتا ہے کہ ایسے پھونک مار کے پاکستان نے انڈیا کے سات جہاز گرائے۔ انڈییا کے ساتھ معرکہ پاکستان کے ایک نئے تعارف کا باعث بنا۔ دنیا کو معلوم ہوا کہ یہ کوئی فیل ہوتی ریاست نہیں ہے۔ ہر قسم کے فوجی خطرے سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

قطر پر جب اسرائیل نے حملہ کر کے حماس کو ننشانہ بنایا۔ اس کے فوری بعد پاک سعودی دفاعی معاہدے کا اعلان ہو گیا۔ جس میں کہا گیا کہ ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا وزیر اعظم شہباز شریف کو شرم الشیخ میں جس طرح ٹرمپ نے دنیا بھر سے آئے لیڈروں کی موجودگی میں اپنی تقریر کے دوران بات کرنے کا موقع دیا۔ اس سے یہ تو پتا لگتا ہے کہ ٹرمپ کو پاکستان سے سچا پیار ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ انڈیا کے خلاف فوجی طاقت کے مظاہرے کے علاوہ کیا ہے؟

مزید پڑھیے: افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش، پاکستان کے لیے موقع، افغانوں کے لیے مصیبت

اس پاکستان کے جس نے اپنی دفاعی طاقت اور پوزیشن نو دریافت کی ہے۔ فوجی درجن درجن کی تعداد میں دہشتگردی کا مقابلہ کرتے جان دیں گے۔ نتیجہ اس کے علاوہ کیا نکلنا تھا کہ افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور قیادت کو نشانہ بنایا جاتا۔ اس کے جواب میں اگر افغان طالبان پورے پاک افغان باڈر پر لڑائی چھیڑ کر جواب دیں گے تو پھر وہی ہونا تھا جو ہوا۔ اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگنا پڑا، چوکیاں قبضہ کروائیں۔

پاکستان افغانستان کے درمیان اس تناؤ کے دوران امیر خان متقی انڈیا کے دورے پر تھے۔ واپس کابل پہنچنے پر ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات کو مکمل بحال کیا جائے۔ یہ لائن ایک کامیاب دورے کا پتا ہی بتاتی ہے۔ حال یہ ہے کہ ہمارے بھارت مہان نے پاک افغان تناؤ پر ایک لفظ نہیں کہا اور پاکستان کو مشتعل کرنے سے گریز کیا ہے اور افغان طالبان کی حمایت میں بھی کچھ نہیں بولا۔

اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان نے افغانستان کے اندر ایک طرح سے دنیا بھر کے عسکریت پسندوں کے لیے اقوام متحدہ ہی بنا رکھی ہے۔ سنٹرل ایشیا، روس، چین، یورپ، پاکستان ہر ملک کو یہاں موجود دہشتگرد گروپوں سے حقیقی خطرات لاحق ہیں۔

ان گروپوں کے خلاف کارروائی سے افغان طالبان انکاری ہیں اور افغانستان پر ہونے والے اجلاسوں میں ہر بار افغان طالبان حکومت سے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ ہوتا ہے۔

پاک افغان تناؤ کے دوران کسی ملک کا افغان طالبان کے حق میں کوئی بیان نہیں آیا۔ کئی اہم ملکوں نے اس پر بات کرنے سے ہی گریز کیا۔ جن ملکوں نے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا انہوں نے بھی اک طرح سے حوصلہ افزائی ہی کی جیسے چاہتے ہوں کہ افغان طالبان کی طبعیت سیٹ ہو اور ان کو ایک ریئلیٹی چیک دیا جائے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے اس بیان کہ ’ہمیں امید ہے کہ اک دن افغان عوام آزاد ہوں گے اور ان پر ایک حقیقی نمائندہ حکومت کی حکمرانی ہو گی‘ کو اک بار غور سے پڑھ لیں۔ حالات جس طرف جا سکتے ان کی سمجھ آ جائے گی۔ پاکستان نے عارضی فائر بندی مشروط طور پر ہی کر رکھی ہے۔

مزید پڑھیں: پاکستان کی بڑی آبادی کو چھوٹی سوچ کے ساتھ ترقی نہیں دی جا سکتی 

اگر دوبارہ کوئی دہشتگرد حملہ ہوا تو اک بار پھر افغانستان کے اندر مسلح گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکا سمیت بہت سے ملک اس صورتحال پر خوش ہونگے کہ افغان طالبان کے ساتھ اسکور سیٹل کرنے کا ایک نادر موقع سب کے ہاتھ آیا ہے۔ خواتین کی تعلیم پر پابندی اور لوگوں کو ریلیف کی فراہمی میں ناکامی نے افغان طالبان کے خلاف پہلے ہی افغانوں کو مشتعل کر رکھا ہے۔

 مسائل کے حل کی ایک اور چابی بھی پاکستان کے پاس ہے اس کی طرف حوالدار بشیر کا ابھی دھیان نہیں گیا شاید۔ افغان طالبان کے پاکستان مخالف راہنماؤں کی جائدادیں کاروبار اور اکاؤنٹ پاکستان میں موجود ہیں۔ ان پر تالا لگے تو ان کو اعتدال نرمی دوستی کے بھولے سبق یاد آ جائیں گے۔ ورنہ سفارتی تنہائی دکھ بھری تو ہو ہی جائے گی۔ اور ایسا کرنا بنتا بھی ہے کہ چند لوگوں نے دونوں ملکوں کے عوام کو اپنی پالیسیوں کا یرغمال بنا رکھا ہے۔

ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

وسی بابا

وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔

افغانستان پاک افغان تناؤ پاک افغان کشیدگی پاکستان.

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: افغانستان پاک افغان تناؤ پاک افغان کشیدگی پاکستان افغان طالبان کے افغان طالبان کی افغانستان کے پاکستان نے پاکستان کے پاک افغان انڈیا کے کہ افغان کے ساتھ کے خلاف اور ان کے لیے

پڑھیں:

افغانستان کی طالبان رجیم پورے خطے کیلیے بڑا خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا ہے کہ افغانستان کی طالبان رجیم پورے  خطے کے لیے بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

سینئر صحافیوں سے گفتگو کے دوران پاک فوج کے ترجمان لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ طالبان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے لیے مسلسل بڑھتا ہوا خطرہ بن چکی ہے۔

نجی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ رواں برس کے دوران ملک بھر میں دہشتگردی کے خلاف شروع کیے گئے آپریشنز میں مجموعی طور پر 1873 عسکریت پسند مارے گئے، جن میں افغان شہریت رکھنے والے عسکریت پسند بھی شامل ہیں۔

ترجمان نے واضح کیا کہ ریاستی اداروں پر الزام تراشی اور سوشل میڈیا پر پھیلایا جانے والا پروپیگنڈا حقیقت سے کوسوں دور ہے، جبکہ دہشتگردی کے بیشتر واقعات کے بنیادی محرکات کی جڑیں پاکستان سے باہر موجود ہیں۔

احمد شریف چوہدری کے مطابق اس سال ملک کے مختلف حصوں میں 66 ہزار سے زیادہ انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیاں کی گئیں۔ خیبر پختونخوا میں 12 ہزار 857 اور بلوچستان میں 34 ہزار سے زائد کارروائیاں اس کے علاوہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ 4 نومبر 2025 سے جاری سلسلے میں مزید 4 ہزار سے زائد کارروائیاں ہوئیں جن کے دوران 206 دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا۔

ترجمان نے اس غلط فہمی کی بھی سختی سے تردید کی کہ پاک افغان سرحد کی نگرانی میں اداروں کی کوئی کوتاہی موجود ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دشوار گزار پہاڑی علاقوں میں پھیلی یہ سرحد ایسی ہے جہاں 20 سے 25 کلومیٹر کے فاصلے پر بھی پوسٹیں قائم کرنا بعض اوقات مشکل ترین ہوتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں بارڈر مینجمنٹ دو طرفہ بنیادوں پر ہوتی ہے مگر افغانستان میں طالبان حکومت کی جانب سے دہشتگردوں کو سہولت دینے کے ناقابل تردید شواہد پاکستان نے مسلسل پیش کیے ہیں۔ افغانستان کے سرحدی علاقوں میں قائم غیر منظم گورننس ڈھانچہ دہشتگرد گروہوں اور جرائم پیشہ عناصر کے گٹھ جوڑ کو تقویت دیتا ہے، جس کے باعث نان کسٹم پیڈ گاڑیوں سمیت متعدد غیر قانونی سرگرمیاں پروان چڑھ رہی ہیں۔

ترجمان نے کہا کہ یہ گاڑیاں نہ صرف اسمگلنگ کے جال کا حصہ ہیں بلکہ متعدد خودکش حملوں میں بھی استعمال ہو چکی ہیں۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے دوحا معاہدے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ طالبان نے دنیا سے وعدہ کیا تھا کہ وہ اپنی سرزمین دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونے دیں گے، مگر آج تک اس وعدے پر عملدرآمد نظر نہیں آیا۔ افغانستان میں مختلف دہشتگرد تنظیموں کے مراکز موجود ہیں، جہاں سے انہیں اسلحہ، تربیت اور مالی معاونت فراہم کی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر فریقین چاہیں تو کسی تیسرے ملک کی نگرانی میں قابلِ تصدیق میکانزم بھی بنایا جا سکتا ہے جس پر پاکستان کو کوئی اعتراض نہیں ہوگا۔

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ پاکستان کو افغان عوام سے کوئی شکوہ نہیں، مسئلہ صرف طالبان حکومت کے طرزعمل سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ افغانستان کی نصف آبادی خواتین پر مشتمل ہے مگر طالبان انتظامیہ میں ان کی کوئی نمائندگی نہیں، جس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ رجیم پورے ملک کی نمائندگی نہیں کرتی۔

ترجمان نے بتایا کہ رواں برس اب تک 10 لاکھ کے قریب افغان شہریوں کی باعزت وطن واپسی ممکن بنائی جا چکی ہے، جبکہ صرف نومبر میں 2 لاکھ سے زیادہ افراد واپس گئے۔

بھارت کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ نئی دہلی کی سیاسی اور عسکری قیادت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کے لیے غیر حقیقی بیانات دیتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر کشمیر اور دیگر سرحدی علاقوں میں بھارت کی اشتعال انگیزی جاری رہی تو ایسے اقدامات میں نقصان صرف اور صرف بھارت کو ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا پر ریاست پاکستان کے خلاف پھیلایا جانے والا زہریلا بیانیہ بیرون ملک سے منظم انداز میں چلایا جاتا ہے، جس کا مقصد ملک میں انتشار پیدا کرنا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • افغانستان کی طالبان رجیم پورے خطے کیلیے بڑا خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان رجیم ناصرف پاکستان بلکہ پورے خطے کی سلامتی کیلئے خطرہ بن چکی ہے: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ڈی جی آئی ایس پی آر
  • افغان حکومت نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے اور دنیا کےلیے خطرہ بن چکی ہے، ترجمان پاک فوج
  • افغان طالبان ایک قابلِ تصدیق میکانزم کے تحت معاہدہ کریں: ڈی جی آئی ایس پی آر
  • دہشت گردوں کے حملوں میں اضافہ
  • ’’بلڈ اینڈ بزنس ایک ساتھ نہیں چل سکتے ‘‘
  • طالبان خطے اور دنیا کیلئے مسئلہ بن رہے ہیں
  • وائٹ ہاوس پر فائرنگ، افغان طالبان رجیم پوری دنیا کے امن کیلئے سنگین خطرہ بن گئی
  • وائٹ ہاؤس پر فائرنگ کا واقعہ؛ افغان طالبان رجیم  پوری دنیا کے امن کےلیے سنگین خطرہ