پاکستان سے لڑائی افغان طالبان کی تنہائی میں اضافہ
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
12 اکتوبر کو پاکستانی وزارت خارجہ نے ایک بیان جاری کیا ہے ۔ اس میں افغان طالبان، فتنہ خوارج (ٹی ٹی پی ) فتنہ ہندوستان (بی ایل اے ) کی جانب سے پاکستان پر بلااشتعال حملے کو پر امن ہمسائگی اور تعاون کے خلاف قرار دیا ہے۔
بیان میں کہا گیا کہ پاکستان نے اپنے دفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے حملے کو منتشر کیا اور حملہ آوروں کو بھاری نقصان بھی پہنچایا۔ اس بیان کے آخر میں یہ کہا گیا ہے کہ ’ہمیں امید ہے کہ اک دن افغان عوام آزاد ہوں گے اور ان پر ایک حقیقی نمائندہ حکومت کی حکمرانی ہو گی‘۔
افغان عوام کی آزادی اور ان کی ایک حقیقی نمائندہ حکومت۔ ترجمان نے یہ تان اٹھائی اور اس کے ساتھ ہی یاری ٹٹ گئی تڑک کر کے۔ گیت کا پہلا مصرعہ اور بھی سوادی ہے جو بے قدروں (افغان طالبان) کے ساتھ لگائی یاری کا ذکر کرتا ہے۔ پاکستان نے ڈبل گیم کرنے کے الزامات سہے کس کے لیے ایک سئیاں تیرے واسطے۔ یہ الزامات افغان طالبان کی مدد کے لیے نہیں لگائے جاتے تھے تو کس کے لیے لگتے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈیجیٹل اکانومی پاکستان کا معاشی سیاسی لینڈ اسکیپ بدل دے گی
سیکیورٹی فورسز کے جوان دہشتگردوں کا مقابلہ کرتے اپنے لوگوں کو بچانے کی قیمت جان دے کر ادا کر رہے ہیں۔ ہر 3 دہشتگردوں کو ٹھکانے لگاتے سیکیورٹی فورسز ایک جوان کی جان کا نذرانہ دے رہی ہیں۔
دوشنبے میں افغانستان پر ہونے والے اجلاس میں پاکستانی مندوب محمد صادق نے کہا کہ دہشتگردوں میں افغان باشندوں کی تعداد 70 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔
پاکستان نے ایران کے میزائل حملوں کا فوری جواب دیا۔ انڈیا کی غلط فہمی دور کی۔ ٹرمپ کسی سالگرہ پر بھی گیا ہو وہاں کیک کاٹتے پھونک مارتے بتاتا ہے کہ ایسے پھونک مار کے پاکستان نے انڈیا کے سات جہاز گرائے۔ انڈییا کے ساتھ معرکہ پاکستان کے ایک نئے تعارف کا باعث بنا۔ دنیا کو معلوم ہوا کہ یہ کوئی فیل ہوتی ریاست نہیں ہے۔ ہر قسم کے فوجی خطرے سے نپٹنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
قطر پر جب اسرائیل نے حملہ کر کے حماس کو ننشانہ بنایا۔ اس کے فوری بعد پاک سعودی دفاعی معاہدے کا اعلان ہو گیا۔ جس میں کہا گیا کہ ایک پر حملہ دونوں پر حملہ تصور ہوگا وزیر اعظم شہباز شریف کو شرم الشیخ میں جس طرح ٹرمپ نے دنیا بھر سے آئے لیڈروں کی موجودگی میں اپنی تقریر کے دوران بات کرنے کا موقع دیا۔ اس سے یہ تو پتا لگتا ہے کہ ٹرمپ کو پاکستان سے سچا پیار ہو گیا ہے۔ اس کی وجہ انڈیا کے خلاف فوجی طاقت کے مظاہرے کے علاوہ کیا ہے؟
مزید پڑھیے: افغانستان میں انٹرنیٹ کی بندش، پاکستان کے لیے موقع، افغانوں کے لیے مصیبت
اس پاکستان کے جس نے اپنی دفاعی طاقت اور پوزیشن نو دریافت کی ہے۔ فوجی درجن درجن کی تعداد میں دہشتگردی کا مقابلہ کرتے جان دیں گے۔ نتیجہ اس کے علاوہ کیا نکلنا تھا کہ افغانستان کے اندر دہشتگردوں کے ٹھکانوں اور قیادت کو نشانہ بنایا جاتا۔ اس کے جواب میں اگر افغان طالبان پورے پاک افغان باڈر پر لڑائی چھیڑ کر جواب دیں گے تو پھر وہی ہونا تھا جو ہوا۔ اپنے مورچے چھوڑ کر بھاگنا پڑا، چوکیاں قبضہ کروائیں۔
پاکستان افغانستان کے درمیان اس تناؤ کے دوران امیر خان متقی انڈیا کے دورے پر تھے۔ واپس کابل پہنچنے پر ان کا کہنا تھا کہ وقت آ گیا ہے کہ انڈیا کے ساتھ تعلقات کو مکمل بحال کیا جائے۔ یہ لائن ایک کامیاب دورے کا پتا ہی بتاتی ہے۔ حال یہ ہے کہ ہمارے بھارت مہان نے پاک افغان تناؤ پر ایک لفظ نہیں کہا اور پاکستان کو مشتعل کرنے سے گریز کیا ہے اور افغان طالبان کی حمایت میں بھی کچھ نہیں بولا۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ افغان طالبان نے افغانستان کے اندر ایک طرح سے دنیا بھر کے عسکریت پسندوں کے لیے اقوام متحدہ ہی بنا رکھی ہے۔ سنٹرل ایشیا، روس، چین، یورپ، پاکستان ہر ملک کو یہاں موجود دہشتگرد گروپوں سے حقیقی خطرات لاحق ہیں۔
ان گروپوں کے خلاف کارروائی سے افغان طالبان انکاری ہیں اور افغانستان پر ہونے والے اجلاسوں میں ہر بار افغان طالبان حکومت سے ان کے خلاف کاروائی کا مطالبہ ہوتا ہے۔
پاک افغان تناؤ کے دوران کسی ملک کا افغان طالبان کے حق میں کوئی بیان نہیں آیا۔ کئی اہم ملکوں نے اس پر بات کرنے سے ہی گریز کیا۔ جن ملکوں نے تحمل کا مظاہرہ کرنے کو کہا انہوں نے بھی اک طرح سے حوصلہ افزائی ہی کی جیسے چاہتے ہوں کہ افغان طالبان کی طبعیت سیٹ ہو اور ان کو ایک ریئلیٹی چیک دیا جائے۔
پاکستانی وزارت خارجہ کے اس بیان کہ ’ہمیں امید ہے کہ اک دن افغان عوام آزاد ہوں گے اور ان پر ایک حقیقی نمائندہ حکومت کی حکمرانی ہو گی‘ کو اک بار غور سے پڑھ لیں۔ حالات جس طرف جا سکتے ان کی سمجھ آ جائے گی۔ پاکستان نے عارضی فائر بندی مشروط طور پر ہی کر رکھی ہے۔
مزید پڑھیں: پاکستان کی بڑی آبادی کو چھوٹی سوچ کے ساتھ ترقی نہیں دی جا سکتی
اگر دوبارہ کوئی دہشتگرد حملہ ہوا تو اک بار پھر افغانستان کے اندر مسلح گروپوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا۔ امریکا سمیت بہت سے ملک اس صورتحال پر خوش ہونگے کہ افغان طالبان کے ساتھ اسکور سیٹل کرنے کا ایک نادر موقع سب کے ہاتھ آیا ہے۔ خواتین کی تعلیم پر پابندی اور لوگوں کو ریلیف کی فراہمی میں ناکامی نے افغان طالبان کے خلاف پہلے ہی افغانوں کو مشتعل کر رکھا ہے۔
مسائل کے حل کی ایک اور چابی بھی پاکستان کے پاس ہے اس کی طرف حوالدار بشیر کا ابھی دھیان نہیں گیا شاید۔ افغان طالبان کے پاکستان مخالف راہنماؤں کی جائدادیں کاروبار اور اکاؤنٹ پاکستان میں موجود ہیں۔ ان پر تالا لگے تو ان کو اعتدال نرمی دوستی کے بھولے سبق یاد آ جائیں گے۔ ورنہ سفارتی تنہائی دکھ بھری تو ہو ہی جائے گی۔ اور ایسا کرنا بنتا بھی ہے کہ چند لوگوں نے دونوں ملکوں کے عوام کو اپنی پالیسیوں کا یرغمال بنا رکھا ہے۔
ادارے کا کالم نگار کی رائے کے ساتھ متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
وسی بابا نام رکھا وہ سب کہنے کے لیے جن کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔ سیاست، شدت پسندی اور حالات حاضرہ بارے پڑھتے رہنا اور اس پر کبھی کبھی لکھنا ہی کام ہے۔ ملٹی کلچر ہونے کی وجہ سے سوچ کا سرکٹ مختلف ہے۔ کبھی بات ادھوری رہ جاتی ہے اور کبھی لگتا کہ چپ رہنا بہتر تھا۔
افغانستان پاک افغان تناؤ پاک افغان کشیدگی پاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: افغانستان پاک افغان تناؤ پاک افغان کشیدگی پاکستان افغان طالبان کے افغان طالبان کی افغانستان کے پاکستان نے پاکستان کے پاک افغان انڈیا کے کہ افغان کے ساتھ کے خلاف اور ان کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس