ملٹری آپریشن سے دہشت گردی کو ختم نہیں کرسکتے،عمران خان
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: پاکستان تحریک انصاف کے پیٹرن انچیف عمران خان کا کہنا ہے کہ فوج کا دشمن نہیں ہوں بطور سیاستدان پالیسی پر اس لیے تنقید کرتا ہوں تاکہ کوئی حل نکلے۔
راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں وکلاءاور پارٹی رہنماو ¿ں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اپنی فیملی فوج میں ہے، فوج سے میری کوئی دشمنی نہیں ہے بلکہ فوج کو پسند کرتا ہوں، فوج بھی میری ہے، ملک بھی میرا ہے اور شہدا بھی ہمارے ہیں لیکن جس چیز سے ملک کو نقصان ہو رہا ہو ا ±س پر تنقید کرنا فرض ہے۔
غداری کے سرٹیفکیٹ بانٹنا بند ہونا چاہیے، افغانستان پر حملوں کے نتیجے میں دہشت گردی بڑھنے کا خطرہ ہے اس لیے دہشت گردی کے خاتمے کا حل سیاسی طور پر نکالنا چاہیے۔
عمران خان نے کہا کہ دہشتگردی کو ختم کرنے کےلیے آپ کو ایک پالیسی بنانی ہے، صرف ملٹری آپریشن کے ذریعے دہشت گردی کو ختم نہیں کرسکتے، اس کےلیے آپ کو سیاسی حل بھی ڈھونڈنا ہے۔
میں سیاست دان ہوں اور میں سمجھتا ہوں کہ ہر چیز کا حل سیاست میں سیاسی طریقے سے بھی ہونا چاہیے اور یہ ہو ہی نہیں سکتا کہ دہشت گردی کا خاتمہ افغانستان سے بات کیے بغیر ممکن ہو۔
افغانستان سے جنگ کے بعد دہشت گردی میں اضافہ ہوگا، افغان حکومت کو لے کر دہشت گردی کا خاتمہ کرنا ہوگا، نئی حکومت ایسی پالیسی بنائے کے بغیر نقصان دہشت گردی کا خاتمہ ہو، اگر دہشت گردی کے خاتمے کےلیے ملٹری آپریشن ضروری ہے تو سیاسی قیادت کو اعتماد میں لینا ضروری ہے۔
Faiz alam babar
ویب ڈیسک
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
سکیورٹی فورسز کی مختلف کارروائیوں میں 17 دہشت گرد جہنم واصل
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق بلوچستان کے مختلف اضلاع میں کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا۔ اسلام ٹائمز۔ آئی ایس پی آر کے مطابق 24 مئی ٹرین حادثے کے بعد سکیورٹی فورسز نے بلوچستان کے مختلف اضلاع میں میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز کئے، آپریشن کا سلسلہ مستونگ، نوشکی، زہری، خضدار اور کیچ میں شروع کیا گیا۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق کارروائیوں کے دوران سکیورٹی فورسز نے دہشتگردوں کے ٹھکانوں کو مؤثر طریقے سے نشانہ بنایا، شدید فائرنگ کے تبادلے میں ہندوستانی پراکسی فتنہ الہندوستان سے تعلق رکھنے والے 17 دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا گیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک دہشت گردوں کے قبضے سے اسلحہ، گولہ بارود، دھماکہ خیز مواد اور دیسی ساختہ بم بھی برآمد ہوئے، ہلاک دہشت گرد علاقے میں دہشت گرد کی متعدد کارروائیوں میں ملوث تھے۔ پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے مطابق علاقوں میں کلیئرنس آپریشنز جاری ہے، عزمِ استحکام کے تحت انسداد دہشتگردی مہم پوری قوت سے جاری رہے گی، ملک سے بیرونی سرپرستی میں ہونے والی دہشتگردی کا خاتمہ کیا جائے گا۔