قومی سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے، سرفراز بگٹی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
اپنے بیان میں وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی نے کہا کہ پاکستانی عوام اپنی مسلح افواج کیساتھ مضبوط اتحاد میں کھڑے ہیں، جو ہر جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ بلوچستان سرفراز بگٹی نے کہا ہے کہ ہماری افواج ہر جارحیت کا بھرپور جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ قومی سلامتی اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔ انہوں نے سماجی رابطوں کی ویب سائٹ پر اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان ہمیشہ امن، استحکام اور باہمی احترام کے اصولوں پر کاربند رہا ہے۔ تاہم یہ واضح رہے کہ قومی سلامتی اور دفاع پر کسی قسم کا سمجھوتہ ممکن نہیں ہے۔ پاکستانی عوام اپنی مسلح افواج کے ساتھ مضبوط اتحاد میں کھڑے ہیں، جو ہر جارحیت کا بھرپور اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔ سرحد پار سے دہشت گرد گروہوں کی سرگرمیاں ایک سنگین تشویش کا باعث ہیں، اور ہم امید کرتے ہیں کہ افغانستان اس حقیقت کا ادراک کرے گا کہ ایسی سرگرمیاں نہ صرف پاکستان بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔
’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔
پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے
اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔
اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم
مزید :