Jasarat News:
2026-07-24@03:03:58 GMT

یو ایس بی پورٹس کے مختلف رنگ اس کے بارے میں کیا بتاتے ہیں؟

اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

ہر یونیورسل بس سیریل (USB) میں ایک معیاری انٹرفیس ہوتا ہے، جو مختلف مقاصد جیسے ڈیٹا ٹرانسفر اور پاور سپلائی کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

1990 کی دہائی میں ماہرین نے USB ٹیکنالوجی ایجاد کی، جس کا پہلا ورژن 1995 میں USB 1.

0 کے طور پر پیش کیا گیا۔ یہ 12 میگا بائٹس فی سیکنڈ کی رفتار سے ڈیٹا منتقل کرنے کی صلاحیت رکھتا تھا۔

وقت کے ساتھ USB ٹیکنالوجی میں بہتری آتی گئی، اور حالیہ برسوں میں زیادہ کارآمد اور ہمہ جہت USB Type-C کنیکٹرز مقبول ہو گئے ہیں۔ تاہم، پرانے Type-A کنیکٹرز اور پورٹس اب بھی کئی ڈیوائسز میں استعمال ہو رہے ہیں۔

Type-A کنیکٹرز میں ایک دھاتی کیسنگ ہوتی ہے، جو USB-C سے مشابہ نظر آتی ہے، لیکن اس کے اندر ایک مخصوص رنگ والا پلاسٹک بھی موجود ہوتا ہے۔ یہ پلاسٹک صرف خوبصورتی کے لیے نہیں بلکہ تین اہم افعال انجام دیتا ہے: میٹل کنیکٹر کو سہارا دینا، درست کنیکشن میں مدد فراہم کرنا، اور اپنی رنگت کے ذریعے کنیکٹر کی صلاحیت ظاہر کرنا۔

اسی وجہ سے USB کنیکٹرز میں مختلف رنگوں جیسے سفید، سیاہ، نیلا، پیلا، نارنجی اور سرخ کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہر رنگ مختلف USB ورژن اور خصوصیات کی نشاندہی کرتا ہے۔

سفید رنگ USB 1.0 یا 1.1 کی نمائندگی کرتا ہے، جن کی رفتار 1.5 سے 12 Mbps تک ہوتی ہے۔ یہ ابتدائی اور نسبتاً سست ورژنز ہیں۔ سیاہ رنگ USB 2.0 کا اشارہ دیتا ہے، جو زیادہ سے زیادہ 480 Mbps کی رفتار اور بہتر چارجنگ فراہم کرتا ہے۔ نیلا رنگ USB 3.0 کو ظاہر کرتا ہے، جو 5 Gbps تک کی تیز رفتار ڈیٹا ٹرانسفر کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پیلا رنگ عام طور پر USB 2.0 یا 3.0 پورٹس میں پایا جاتا ہے، لیکن اس کا مطلب ہے کہ یہ پورٹ “Always On” ہوتی ہے — یعنی کمپیوٹر سلیپ موڈ میں ہو تب بھی ڈیوائسز چارج ہوتی رہتی ہیں۔ نارنجی رنگ بھی USB 3.0 سپورٹ کی علامت ہے، مگر اس کا استعمال محدود کمپنیوں تک ہے۔ اگر کنیکٹر کا پلاسٹک سرخ رنگ کا ہو تو یہ جدید USB ورژنز جیسے USB 3.1 یا USB 3.2 کی نشاندہی کرتا ہے، جو مزید تیز رفتار اور بہتر پاور ڈیلیوری کی خصوصیات رکھتے ہیں۔

یہ رنگ صارفین کو آسانی سے یہ پہچاننے میں مدد دیتے ہیں کہ کون سا USB پورٹ کس رفتار اور فنکشن کی صلاحیت رکھتا ہے۔

ویب ڈیسک مقصود بھٹی

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

پڑھیں:

کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے

کراچی سے دوسرے شہروں میں جانے کے لیے شہر میں جگہ جگہ قائم بس اڈے دو سال پہلے ختم کرکے شہر سے باہر منتقل کر دیے گئے تھے، شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

حکومت نے مسافروں کی سہولت کے لیے مفت شٹل سروس شروع کی تھی تاکہ مختلف مقامات سے مسافروں کو کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے، مگر یہ شٹل سروس اب ٹرمینل تک محدود نہیں رہی بلکہ روٹ پرمٹ کے بغیر کمرشل بنیادوں پر کراچی سے حیدرآباد تک بھی چلائی جا رہی ہے۔ 

محکمہ ٹرانسپورٹ سندھ نے اگست 2024 میں آپریشن کرتے ہوئے شہر کے مختلف انٹر سٹی بس اڈے ختم کیے اور بڑی کوچز کے شہر میں داخلے پر پابندی عائد کی تھی۔ 

مسافروں کی سہولت کے لیے وزیر ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن نے مفت شٹل سروس شروع کرنے کا اعلان کیا تھا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا تھا کہ تقریباً 50 شٹل گاڑیاں چلائی جا رہی ہیں تاکہ مسافروں کو مختلف مقامات سے کراچی بس ٹرمینل پہنچایا جا سکے۔ لیکن شٹل سروس کیلئے مخصوص گاڑیاں اپنے اصل کام کے بجائے کمرشل بنیادوں پر مسافروں کو براہ راست کراچی سے حیدرآباد لے جارہی ہیں۔

ادھر ٹرانسپورٹرز اپنی سواریاں مختلف ذرائع سے کراچی بس ٹرمینل تک پہنچا رہے ہیں، جس کے اضافی اخراجات بھی انہیں خود برداشت کرنا پڑ رہے ہیں۔

محکمہ ٹرانسپورٹ کا بتانا ہے کہ اس روٹ کے لیے شٹل سروس کے پاس کوئی روٹ پرمٹ موجود نہیں۔

جیو نیوز نے اس حوالے سے کراچی بس ٹرمینل انتظامیہ سے مؤقف لینے کی کوشش کی، مگر ان کی جانب سے کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ 

متعلقہ مضامین

  • مشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، سیکریٹری جنرل اقوام متحدہ
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • چینی سائنسدانوں کی اہم پیش رفت، نیند بڑھانے والا قدرتی مالیکیول دریافت
  • دیو ہیکل بحری جہاز "ایم ایس سی ڈیلیٹا” کراچی پورٹ پہنچ گیا