Express News:
2026-06-03@01:06:59 GMT

زباں فہمی269 ؛ کچھ بہرائچ کے بارے میں، (حصہ اوّل)

اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT

علم کا خزینہ ہے سرزمین بہرائچ

 فضل کا نگینہ ہے سرزمین بہرائچ

حسن ساری دنیا کا اس کے حسن پر قرباں

ایسا آبگینہ ہے سرزمین بہرائچ

جس نے بھی اسے دیکھا ہوگیا فدا اس پر

دلربا حسینہ ہے سرزمین بہرائچ

صورتیں یہاں کیا کیا خاک میں ہیں خوابیدہ

  علم کا دفینہ ہے سرزمین بہرائچ

علم کے سمندر میں خوشہ چینی کرنے کو

 گویا ایک سفینہ ہے سرزمین بہرائچ

کسب علم کے جذبے آکے یاں نکھرتے ہیں

بام فن کا زینہ ہے سرزمین بہرائچ

زندگی نبھانے کے گر بھی یہ سکھاتی ہے

  جینے کا قرینہ ہے سرزمین بہرائچ

پروفیسر طاہر محمودبہرائچی۔

(سابق صدرنشیں، قومی اقلّیتی کمیشن، حکومتِ ہند)

تاریخ کے اوراق پلٹیں تو بہت سے علاقوں اور مُلکوں کے متعلق ایسا مواد نظر آتا ہے کہ قاری نظراَنداز نہیں کرسکتا۔ خطہ ہند میں بھی ایسے بہت سے مقامات ہیں جن کی اپنی تاریخ ہے اور بھرپور ہے۔ ایسا ہی ایک شہر بہرائچ ہے۔ اس شہر کو یہ شرف حاصل ہے کہ یہاں نہ صرف مشائخ عُظام کی ایک کثیر تعداد زمانہ قدیم سے قدم رنجہ فرماتی رہی ہے بلکہ ’سیّد الشہداء فی الہند‘ (ہندوستان کے شہیدوں کے سردار) کے لقب سے ملقب، حضرت سیدسالار مسعود غازی رحمۃ اللّہ علیہ (ورود، شہادت: 1033ء)کی وہاں آمد وشہادت وتدفین بھی تاریخی اعتبارسے اس کی اہمیت اجاگر کرتی ہے۔

(ضمنی بات یہ ہے کہ سلطان محمودغزنوی کے بھانجے اور شیخ ابوالحسن خرقانی کے مُرید، سیّد موصوف سے بھی بہت پہلے اس سرزمین پر متعدد اَفراد بشمول اولیاء شہید ہوئے، مگر یہ لقب محض عُرف ہے، فی الحقیقت یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ انھیں اوّلیت حاصل ہوئی)۔ حضرت کو ’سلطان الشہداء‘ بھی کہا جاتا ہے۔ سیّد سالار کا مزار مرجع خلائق ہے جہاں مسلمانوں کے علاوہ ہندو بھی حاضر ہوتے ہیں۔

حقیقت یہ ہے کہ سید سالار سے قبل کی تاریخ بہت کم معروف ہے۔ مذہبی حوالے سے دیکھا جائے تو بُدھ مت کے پیروکار بھی اسے اہم جانتے ہیں، کیونکہ یہاں ایک بُدھ خانقاہ (Buddhist monastery) کے آثار بھی موجود ہیں۔ شراوستی کے جنگلات میں مہاتما گوتم بُدھ نے گیان دھیان میں زندگی کے پچیس بہترین سال بسر کیے تھے۔ یہاں سیاحت وزیارت کے لیے آنے والے مسلمان سیاحوں میں سب سے مشہور، ابنِ بطّوطہ اور چینی بُدھ سیاحوں میں ہوان سانگ بھی شامل تھے۔

نیپال کی سرحد سے ملنے والا یہ شہر، بھارتی ریاست اُترپردیش میں، دریائے گھانگھرا کی شاخ، دریائے سرجو (سَریو) کے کنارے، ہمالیہ کی گود میں اور ریاستی صدرمقام لکھنؤ سے ایک سو پچیس کلومیٹر (125 kilometres) دُور شِمال مشرق میں واقع ہے۔ جنوب مغرب میں لکھنؤ اور شِمال میں نیپال گنج (نیپال) کے درمیان ایک ریل لائن بھی موجود ہے۔ بہرائچ سے ملحق اضلاع میں بارہ بنکی، گونڈا، بلرام پور، لکھِم پور، شرَوَستی اور سِیتا پور شامل ہیں۔ بہرائچ تجارتی مرکز ہے جہاں، خصوصاً ہمسایہ ملک نیپال کے ساتھ، زراعتی مصنوعات اور لکڑی کا کاروبار خوب ہوتا ہے۔ بہرائچ کی فصلوں میں چاول، مکئی، گندم اور چَنا شامل ہیں، جبکہ یہاں شکر سازی کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

بہرائچ کی وجہ تسمیہ

اس بابت منقول بعض روایات کی رُو سے یہ شہر پہلے بھڑائچ کہلاتا تھا کیونکہ سیّد سالار کے والد ساہوسالار کی سترکھ (بارہ بنکی) میں وفات کے بعد، مفتوح راجاؤں نے وہاں سے بہرائچ تک بغاوت کردی، جنگ چھِڑگئی اور یوں اس جگہ کا نام بھڑائچ پڑا۔ ایک دوسری حکایت کے مطابق یہاں زمانہ قدیم میں بھڑ نامی قوم رہا کرتی تھی، اس لیے یہ نام رکھا گیا۔ بہرحال وجہ جو بھی ہو یہ با ت واضح نہیں ہوسکی کہ بھڑائچ سے بہرائچ کب اور کیسے بنا۔ {مجھے ذاتی طور پر لسانی قیاس سُوجھا ہے کہ شاید اس نام کا کوئی تعلق بھڑوچ (Bharuch) سے ہو جو بھارتی ریاست گجرات کا ایک شہر اور ضلع ہے۔

بھڑوچ ایک تاریخی مقام ہے جس کے Red-blood مالٹوں کی خلیجی ممالک میں بہت مانگ ہے}۔ یہ قوم آفتاب پرست تھی اور اِن پر قدیم آریہ فاتحین کی زبان وتہذیب کا اثر کم کم ہوا تھا، مابعد گوتم نے یہاں بُدھ مت کا پرچار کیا اور پھر ایک مدت بعد یہ علاقہ بھی ویدک یعنی برہمن مذہب کی اقلیم میں شامل ہوگیا جسے آج ہندومَت کہا جاتا ہے۔ بھڑ قوم سے سیّدسالار کی بھی تین جنگیں ہوئیں;ابتدائی دو معرکوں میں سالار موصوف فاتح رہے، آخری جنگ میں جام شہادت نوش فرمایا۔

سیّد سالار مسعود غازی ۔ایک مختصر تعارف

وطنِ مالوف غزنی (افغانستان) سے ہند آنے والے ساہو سالار کو ’سیّد الاولیاء‘ حضرت بدیع الدین شاہ ِ مدار نے فرزند کی ولادت کی بِشارت دیتے ہوئے اُس کا نام مسعود رکھنے کی ہدایت کی اور ساتھ ہی یہ پیش گوئی بھی کی کہ مسعود کُفار سے مقابلے میں شہید ہوجائے گا۔ ’غازی میاں‘، ’بالے میاں‘ اور ’بالا پِیر‘ کے مختلف عُرف سے مشہور ہونے والا اُن کا یہ بیٹا 1015ء میں اجمیر میں پیدا ہوا تو ساہو سالار اُسے شاہ ِ مدار کے پاس لے گئے۔

(اب یہاں منقولہ تفصیل خالص روحانی ہے اور ہر کس وناکس کو قبول نہ ہوگی، اس لیے اسے نقل کرنے سے گریز بہتر ہے)۔ {ضمناً عرض ہے کہ ’’مَرے کو مارے شاہِ مدار‘‘ کی نسبت سے مشہور صوفی بزرگ حضرت بدیع الدین شاہ ِ مدار نے ایک حکایت کے مطابق، کراچی میں ریگل، اکبر روڈ، موٹرسائیکل بازار کے علاقے میں چلّہ کھینچا تھا جس کی یاد گار آج تک موجود ہے اور ناواقف عوام نے اُسے بھی حضرت کا دوسرا مزار مشہور کردیا تھا}۔ وہ عَلوی سادات گھرانے سے تعلق رکھتے تھے جس کا سلسلہ نسب سیدنا علی بن ابوطالب (کرم اللہ وجہہ الکریم) کے فرزند حضرت محمد (عُرف محمد بن حنفیہ) تک منتج ہوتا ہے۔

برّعظیم میں رواج کے مطابق، امیرالمؤمنین موصوف کی ’غیرفاطمی‘ اولاد کو بھی سادات شمار کیا جاتا ہے ، ورنہ ماقبل یہ سختی کی جاتی تھی کہ سیدہ فاطمۃ الزَہراء (رضی اللہ عنہا ) کے سواء، کوئی علوی اولاد، سیّد نہ کہلائے۔ سالار کی، بہرائچ کی تیسری جنگ میں شہادت کے مدتوں بعد، اُن کا مقبرہ اُن کے ایک عقیدت مند بادشاہ سلطان فیروزشاہ تغلق نے تعمیر کروایا تھا۔ سلطان پہلے 1340ء میں اور پھر 1374ء میں بہرائچ کے دورے پر، درگاہ میں حاضر ہوا، اُس کی دیوار اونچی کروائی اور دیگر عمارتیں بھی تعمیر کروائیں۔ ایک مشہور صوفی بزرگ مِیر سیّد اَمِیر ماہ بہرائچی سے شرفِ ملاقات اور اس باب میں گفتگو کے بعد، روایت کے مطابق، سلطان فیروز کا دُنیا سے جی اُچاٹ ہوگیا اور اُس نے بقیہ زندگی عبادت میں زیادہ بسر کی۔ سالارشہید کے کوائف کتابوں کے علاوہ انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہیں، مگر اِن کی نقل وترسیل میں بے احتیاطی صاف نظر آتی ہے۔

سید سالار مسعود کی شہادت کا واقعہ اس طرح منقول ہے:

’’24 رجب المرجب 424ھ کو 18 سال کی عمر میں بہرائچ میں جام شہادت نوش کیا۔ شیخ وجیہ الدین اشرف لکھنوی لکھتے ہیں کہ حضرت سکندر دیوانہ شہید، حضرت سید سالار مسعود غازی کے رفقا میں اہم مقام رکھتے تھے۔ حضرت سکندر دیوانہ، صاحب کمال درویش، خواجہ ابراہیم ادہم کے سلسلہ سے تھے، سالار شہدا (سالار مسعودغازی) کے عشق میں ہمیشہ اپنے ہاتھ میں ڈنڈا لیے رہتے اور لشکر کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر رہتے۔ یہ شعار سلسلہ ادہمیہ کے مریدوں کا ہے کہ سردار پاؤں برہنہ رکھتے ہیں اور محبوب کی سواری کے آگے آگے پیدل چلتے ہیں۔ سالار شہدا کے مصاحبین میں سب سے زیادہ افضل تھے۔ حضرت سالار شہدا کو اپنے ہاتھوں سے سہارا دے کر درخت گل چکاں کے نیچے لٹا دیا اور ان کا سر اپنی گود میں لے لیا اور زار و قطار روئے، سالار شہدا نے ایک بار آنکھ کھولی اور کلمہ’ہو‘ پڑھا۔ جان مشاہدہ جاناں میں قربان کردی، حاضرین نے دل بریاں اور چشم گریاں کے ساتھ تلواریں کھینچیں اور کافروں کے لشکر پر ٹوٹ پڑے اور شہید ہوگئے، سکندر دیوانہ پر بھی چند تیر لگے، آپ بھی شہید ہوگئے۔

سید ابراہیم نے سالار شہدا کو درخت گل چکاں کے سائے میں دفن کیا اور سکندر دیوانہ کو حضرت (سالار شہدا) کی قبر سے کچھ فاصلہ پر دفن کیا، سکندر دیوانہ سے کچھ ہٹ کر اپنے لیے قبر تیار کی اور وہیں اسپ مادیہ خنگ (سفید گھوڑی) کو دفن کیا، باقی شہدا جن کی لاشیں سورج کنڈمیں تھیں، ان پر مٹی ڈال کر تودہ بنا دیا اور اس جگہ پر تا قیامت تک کفارکی پرستش کو موقوف کر دیا اور مسلمانوں کی زیارت گاہ بنا دیا‘‘۔

اردو اَدب میں بہرائچ اور سالارشہید کا ذکر نثر ونظم میں خوب ملتا ہے۔ اس موضوع پر کہے گئے اشعار کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے۔

بہرائچ میں ’شکارنامہ‘ تصنیف کرنے والے میر تقی میر نے کہا:

چلے ہم جو بہرائچ سے پیش تر

ہوئے صید دریا کے واں پیش تر

اپنے وقت کے مستند سخنور انشاء اللّہ خاں انشاءؔ بھی جب بہرائچ آئے تو انھوں نے یہ مشہور شعر کہا:

دل کی بہرائچ نہیں ہے ترک تازی کا مقام

ہے یہاں پر حضرت مسعود غازیؒ کا مقام

انشاءؔ کے کُلّیات میں شامل کلام میں ٹھاکر ٹپررہا اسٹیٹ ضلع بہرائچ کی شاہی مسجد کی تعمیر پر فارسی اور اردو میں تاریخی قطعات بھی منقول ہیں۔ انشاءؔ کا بہرائچ کے لیے دیگر کلام بھی محفوظ ہے:

یو ں چلے مژگان سے اشکِ خو ن فشاں کی میدنی

جیسے بہرائچ چلے بالے میاں کی میدنی

لخت دل مسعود نیلے گہوڑے داغ ہی

جلوئہ انوار سے کرو بیان کے میدنی

مِراۃ مسعودی (فارسی) از عبدالرحمٰن چشتی کو اُردوکے قالب میں ڈھال کر ’آئینہ مسعودی‘ کا نام دینے والے نامور نعت گو شاعر خواجہ اکبرؔ وارثی میرٹھی (صاحبِ میلادِ اکبرؔ) نے اس شہر کی بابت کہا تھا:

چپے چپے پر مزاراتِ شہیداں دیکھیے

دید کے قابل ہیں بہرائچ کے میداں دیکھیے

ہر طرف ہے بارش انوار عرفاں دیکھیے

بارگاہ سیدِ سالارِ ذی شاں دیکھیے

تحریک آزادی کے دبنگ قائد، اردو غزل کے محسن حسرت ؔ موہانی نے سالار موصوف کو یوں خراج پیش کیا:

اے عشق تری فتح بہر حال ہے ثابت

مر کر بھی شہیدانِ محبت ہوئے غازی

سرسیّد سے خواجہ الطاف حسین حالیؔ کی عقیدت پر طنز کرتے ہوئے اکبرالٰہ آبادی نے یوں اظہار ِخیال کیا تھا:

سیّد کی سرگزشت کو حالی سے پوچھئے

غازی میاں کا حال دفالی سے پوچھئے

اپنے وطن میں ’’شہنشاہ طنز ومزاح ‘‘ کے لقب سے مشہور، جناب شوقؔ بہرائچی نے درگاہ حضرت سید سالار مسعود غازیؒ پر لگنے والے سالانہ میلے کے پس منظر کی بابت یہ شعر ارشاد کیا:

ہر سمت جو جلاجل و قرنا کا شور ہے

غازی میاں کے بیاہ کا ساماں ہے غالباً

اُنہی کا یہ شعر بھی ہے:

یہی وہ عیسیٔ دوراں، مسیحائے زمانہ ہیں

یہیں ہوتے ہیں صحت یاب، گر آتے ہیں کوڑھی بھی

ضیاء ؔالقادری بدایونی، استادِ شکیل ؔبدایونی کے شعر میں سالار موصوف کو یوں خراج عقیدت پیش کیا گیا:

وہ جس کے فیض سے دارالفیوض بہرائچ

وہ جس کی ذات سے دارالاماں ہندوستاں

تحریک آزادی کے ایک اور رہنما اور مشہور شاعر علامہ انور صابری نے مزارِ سالار پر حاضری کے وقت اپنی کیفیت ِ قلبی یوں بیان کی:

مزار حضرت مسعود غازی پر ہوا حاضر

ہے بہرائچ میں دل کی قوتیں بیدار کرنے کو

بسرتی ہے مسلسل عرش سے جو آستانے پر

بہ اندازنظر آن رحمتوں کو پیار کرنے کو

اردو کی نامورناول نگار وافسانہ نگار قرۃ العین حیدر نے اپنے افسانہ ’’آگ کا دریا‘‘ میں بہرائچ کا ذکر اس طرح کیا ہے:’’ بہرائچ کی چھوٹی سی آبادی میں پیلے رنگ کے کچے مکان اِدھر اُدھر بکھرے تھے، خاک آلود راستوں پر سے بیل گاڑیاں گزر رہی تھیں، اور اُداسی کی سی بے رنگ بے نام کیفیت سارے میں طاری تھی۔ سنا تھا کسی زمانہ یہاں ایک عظیم الشان شہرآباد تھا۔ جسے شراوستی کہتے تھے۔ اس کے سوم ونشی بادشاہ بڑے جاہ وجلال والے تھے اور نجومیوں نے شراوستی کے سوہل دیو سے کہا تھا کہ ایک وقت آنے والا ہے جب اُتَر سے دیوزاد بلندو بالا تُرک آکر تمہارا خاتمہ کردیں گے اور غزنی کے محمود کا ایک سپہ سالار ادھر آیا جس کا نام مسعود غازی تھا اور اس مسعود غازی نے سوہل دیو کا خاتمہ کردیا‘‘۔ یہ سوہل دیو،سوہر۔یا۔سہیر بھی کہلاتا تھا اور اُسے سہواً سہیل بھی لکھا گیا۔

بہرائچ کے ایک مقامی شاعر جمال الدین بابا جمالؔ بہرائچی کا شعر ملاحظہ فرمائیں:

تو وہاں ہے جو کہ ہے مسعود غازی کا دیار

یعنی بہرائچ کہ جس میں ہیں شہیدوں کے مزار

یہ موضوع بہت بھرپور ہے اور ہم کوشش کریں گے کہ اس کی مختلف جہتوں پر دستیاب مواد قارئین کی نذر کیا جائے۔

۔جاری۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ہے سرزمین بہرائچ سالار مسعود غازی د سالار مسعود سکندر دیوانہ سالار شہدا بہرائچ کی بہرائچ کے سید سالار کے مطابق سے مشہور نے والے ہے اور کا نام

پڑھیں:

3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی

اسلام ٹائمز: یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔ تحریر: ڈاکٹر نذر حافی

3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی شام جب امام خمینیؒ کی رحلت کی خبر آہستہ آہستہ تہران کی فضا میں پھیلنے لگی تو گویا ایک قوم پر سکوتِ غم  طاری ہوگیا۔ وہ شخصیت جس کی آواز نے انقلاب کو جنم دیا تھا، اب خاموش ہو چکی تھی۔ آنکھیں اشک بار تھیں، دل سوگوار تھے اور فضائیں غم و اندوہ سے بوجھل تھیں۔ سید حسن عارفی نے  3 جون 1989ء کے حوالے سے اپنی یادداشت طبیبِ دلھا میں لکھا ہے کہ 3 جون 1989ء (13 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی نصف شب سے حضرت امام خمینیؒ کا بلڈ پریشر گرنا شروع ہوگیا اور غنودگی میں اضافہ ہونے لگا۔ صبح 5 بجے، اگرچہ جسم کا درجۂ حرارت 36 ڈگری سینٹی گریڈ تھا، لیکن امام عزیزؒ کو سردی محسوس ہو رہی تھی۔

3 جون 1989ء کی صبح 9 بج کر 14 منٹ پر ہمارے عزیز امام کو دل کی دھڑکن تیز ہونے، کمزوری، نقاہت اور شریانی بلڈ پریشر کے بتدریج کم ہونے کی علامات ظاہر ہوئیں۔ صبح 10 بجے ڈاکٹر سیم فروش نے ضروری طبی اقدامات کیے، اور گردوں کے اخراجی مسئلے کے باعث ڈاکٹر قدس اور ڈاکٹر رہبر کو بھی طلب کیا گیا۔ نس میں دی جانے والی رطوبت (سرم) اور خون کے پروٹین کی تیاری (البیومن) دیے جانے کے باوجود، اور پیشاب کے اخراج میں رکاوٹ کی وجہ سے، بلڈ پریشر مسلسل کم ہوتا جا رہا تھا۔ حضرت امام قدرے غنودگی میں تھے، لیکن مکمل طور پر ہوش و حواس میں تھے۔

حضرت امام کی حالت کی سنگینی سے اہلِ خانہ، قریبی افراد اور ملکی ذمہ داران کو آگاہ کر دیا گیا۔ طبی ٹیم کے تمام ارکان کو طلب کر لیا گیا۔ امام عزیز ملاقاتوں، لوگوں کی آمد و رفت اور اپنی بگڑتی ہوئی حالت سے پوری طرح باخبر تھے اور مسلسل ذکرِ الٰہی میں مشغول تھے۔ وہ برابر سورۂ حمد اور دیگر سورتیں تلاوت کر رہے تھے اور جانتے تھے کہ وہ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات گزار رہے ہیں۔ حضرت امام خمینی نے دوپہر کی نماز عین شرعی وقت پر ادا کی اور دوپہر کے کھانے میں صرف مائعات (پانی اور پتلی اشیاء) استعمال کیے۔ دوپہر 2 بج کر 30 منٹ پر انہیں پہلی مرتبہ قے ہوئی، اور انہوں نے فوراً حکم دیا کہ ان کے تمام کپڑے بدل دیے جائیں اور بستر کی چادریں بھی تبدیل کر دی جائیں۔

شام 3 بجے دل کی دھڑکن مزید سست ہوگئی۔ اپنی بابرکت زندگی کے آخری لمحات میں بھی وہ پوری ہوشیاری اور سختی سے اپنی ظاہری صفائی اور پاکیزگی کا خیال رکھتے تھے۔ وہ مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتیں پڑھتے رہے اور بخوبی جانتے تھے کہ یہ آخری لمحات ہیں۔ تقریباً 3 بجے، بیماری اور شریانی بلڈ پریشر کے شدید زوال کے باعث پیدا ہونے والی کمزوری اور ناتوانی کے عالم میں انہوں نے بلند آواز سے مجھے پکارا۔ میں نے اپنا سر اور کان ان کے لرزتے ہوئے ہونٹوں کے قریب کیے اور عرض کیا: "آقا جان! فرمائیے، میں حاضر ہوں۔" انہوں نے فرمایا: "اگر وضو وقتِ نماز داخل ہونے سے پہلے کیا جائے تو نیت اس طرح ہونی چاہیئے۔"

میں نے فوراً حاج احمد آقا خمینی اور حجت الاسلام و المسلمین جناب آشتیانی کو، جو قریب ہی موجود تھے، ان کی خدمت میں بلا لیا۔ دراصل ان کی آخری درخواست مجھے بلانا تھی اور ان کی آخری گفتگو ایک شرعی اور فقہی مسئلے سے متعلق تھی۔ دوپہر 2 بج کر 59 منٹ پر ان کا دل، سامنے موجود نوارِ قلب (الیکٹرو کارڈیوگرام) کے مطابق دھڑک رہا تھا اور بلڈ پریشر مسلسل گر رہا تھا، لیکن امام عزیز مسلسل سورۂ حمد اور دیگر سورتوں کی تلاوت میں مشغول رہے۔ اگرچہ بلڈ پریشر بہت کم ہو چکا تھا، پھر بھی ان  کے ہوش و حواس قائم تھے۔

اب اہلِ خانہ ایک ایک کر کے پروانوں کی طرح ان کے وجود کی شمع کے گرد جمع ہو رہے تھے، لیکن یہ روشن اور عالم تاب چراغ بجھنے کے قریب تھا۔ ہر لمحہ اس کی نورانی روشنی کم ہوتی جا رہی تھی اور ہمارے دلوں کا غم بڑھتا جا رہا تھا۔ اس وقت جب حضرت امام عزیز کو شدید سانس کی تنگی اور شدید دل کی دھڑکن تکلیف دے رہی تھی اور ان کا بلڈ پریشر انتہائی حد تک گر چکا تھا جس کے باعث جسم کے تمام اعضاء کو خون کی فراہمی متاثر ہوگئی تھی، اور ساتھ ہی کینسر کے خلیات پورے جسم میں پھیل چکے تھے، ہم یہ مشاہدہ کر رہے تھے کہ یہ بے مثال ہستی اس شدید بیماری کے باوجود اپنی صفائی، پاکیزگی اور ظاہری آراستگی کا خاص خیال رکھ رہی تھی۔ اگرچہ پچھلے چند دنوں سے امام عزیز شدید غنودگی کا شکار تھے، لیکن وہ نمازوں کے اوقات کی سختی سے پابندی کرتے اور انہیں وقت پر ادا کرنے کے خواہش مند رہتے تھے۔

اس دن بھی صبح 9 بجے کے بعد ان کی حالت تیزی سے بگڑنے لگی اور بلڈ پریشر مسلسل گرنا شروع ہو گیا۔ غنودگی میں اضافہ تھا، لیکن کبھی کبھار وہ آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ دوپہر 12 بجے سے پہلے کئی بار فرمایا کہ انہیں نمازِ ظہر کا وقت بتایا جائے۔ اس کے بعد وضو اور تیمم کے امتزاج کے ساتھ، شدید کم بلڈ پریشر، تیز دل کی دھڑکن (نوارِ قلب کے مطابق) اور شدید سانس کی تکلیف کے باوجود، محترم جناب حجت الاسلام والمسلمین حاج محمد علی انصاری کے تعاون سے انہوں نے اپنی آخری نمازِ ظہر و عصر ادا فرمائی۔ ان نازک لمحات میں جب امام کی ذات شدید بیماریوں کے خطرے میں تھی، انہوں نے امام حسین علیہ السلام کی سنت پر عمل کرتے ہوئے، جو یومِ عاشورا کے وقت نماز ادا فرماتے ہیں، اس نماز کے ذریعے اپنے مشن کا پیغام عملی طور پر لاکھوں عقیدت مندوں تک پہنچایا۔

ہم انتہائی تکلیف دہ اور مشکل لمحات سے گزر رہے تھے۔ امام عزیز، جن کی کم ہوتی ہوئی بلڈ پریشر نے انہیں شدید کمزوری اور ناتوانی میں مبتلا کر دیا تھا، کبھی کبھار آنکھیں کھول کر اردگرد دیکھتے تھے۔ میں نے یہ احساس دلانے کے لیے کہ آخری لمحات میں بھی طبی ٹیم، خصوصاً میں، ان کی خدمت میں موجود ہے، ان کے دائیں ہاتھ کو اپنے ہاتھوں میں لے لیا۔ حضرت امام نے محسوس کیا کہ آخری وقت میں محبت، عقیدت اور والد و اولاد جیسے پاک جذبات کا تبادلہ ہو رہا ہے، اور ساتھ ہی مرید و مراد کا رشتہ بھی قائم ہے۔ اس لمحے کے بعد انہوں نے میرا ہاتھ بالکل نہ چھوڑا، اور میں بھی یہ جانتے ہوئے کہ آخری لمحات میں مریض کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہیے، مسلسل مانیٹر پر ان کی دل کی دھڑکن دیکھتا رہا اور ان کا ہاتھ نرمی سے تھامے رکھا۔شام 3 بج کر 46 منٹ پر دل کی دھڑکن تیز اور بے ترتیب ہو گئی، اور یہ روشنی امیدوں کے افق پر مدھم پڑنے لگی۔

بلڈ پریشر کا مسلسل گرنا، دل کی دھڑکن کا بے ترتیب اور تیز ہونا، اور علاج کا مؤثر جواب نہ دینا، حضرت امام کی حالت کی شدید خرابی کو ظاہر کر رہا تھا، اور ہر لمحہ کسی بڑے حادثے کا خدشہ بڑھ رہا تھا۔ اسی لیے طبی ٹیم، سرجنز اور نرسیں جدید ترین طبی آلات کے ساتھ امام کے بستر کے قریب موجود تھیں تاکہ فوری اقدامات کیے جا سکیں۔ اچانک شام 3 بج کر 58 منٹ پر دل کے اوپر والے حصے سے نیچے والے حصے تک برقی ترسیل بند ہوگئی، جس کے نتیجے میں دل میں بے ترتیبی (فبریلیشن) پیدا ہوئی اور بلڈ پریشر صفر ہو گیا۔

شام 3 بج کر 58 منٹ پر نوارِ قلب کے مطابق دل نے حرکت بند کر دی، تاہم مکمل طبی تیاری کے ساتھ بار بار برقی جھٹکے (الیکٹروشاک)، سینے پر بیرونی پیس میکر (بجلی سے چلنے والا آلہ) لگانا، سانس کی نالی میں ٹیوب ڈال کر مصنوعی تنفس سے جوڑنا، عارضی طور پر دل کی دھڑکن اور سانس کو بحال کرنے کی کوشش کی گئی، لیکن امام عزیز اس وقت بے ہوشی کی حالت میں تھے۔

شام 10 بج کر 22 منٹ پر پیس میکر (بیرونی برقی محرک آلہ) کام کر رہا تھا، لیکن دل کے عضلات اس کی دی گئی تحریکوں کے باوجود سکڑ نہیں رہے تھے۔ شام 10 بج کر 23 منٹ پر حضرت امام عزیز کا دل، جو اپنی پوری زندگی میں ہر منٹ تقریباً 60 سے 70 مرتبہ، ہر گھنٹے تقریباً 3600 مرتبہ، ہر روز 86400 مرتبہ، ہر سال تقریباً 30936000 مرتبہ، اور اپنی 90 سالہ بابرکت عمر میں مجموعی طور پر تقریباً 2784240000 مرتبہ اللہ کی رضا، اسلام کی سربلندی، کلمۂ لا الٰہ الا اللہ کی بلندی، مستضعفین کی آزادی، ایرانی قوم اور دنیا بھر کے مسلمانوں کی عزت و سربلندی کے لیے دھڑکا تھا، اپنی آخری دھڑکن کے ساتھ ہمیشہ کے لیے رک گیا، اور اپنے چاہنے والوں اور عاشقوں کو غم و اندوہ میں ڈبو گیا۔
’’بگذار تا بگریم چون ابر در بہاران ۔۔۔ کز سنگ نالہ خیزد وقتِ وداع یاران‘‘
اور اس آخری دھڑکن کے ساتھ، انسانیت نے علم، تقویٰ، ایمان، استقامت، تسلیم نہ ہونے والے جذبے اور ایثار کے پیکر پر ایک گہرا اور کاری صدمہ محسوس کیا۔ انہوں نے اس دنیا سے آنکھیں بند کر لیں، لیکن اسلام کی اشاعت اور اس رہنما مکتب کے ذریعے لاکھوں سوئے ہوئے دلوں کو بیدار کر دیا:
’’ای خوش آن رہبر کہ بعد از مرگ زاد ۔۔۔ چشمِ خود بست و چشمِ ما گشاد‘‘
بے شک اس کی روشن شمعِ حیات ظاہراً بجھ گئی تھی، لیکن یہ وہ چراغ تھا جو قافلۂ انسانیت کے حسینی کرداروں کے دل میں ہمیشہ روشن رہتا ہے اور روشنی بکھیرتا رہتا ہے۔ ان کی حیات ایک ایسی نورانی روشنی تھی جس نے 90 سال تک ہماری تاریک دنیا کو منور اور گلزار بنایا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہمارے لیے، ان کے چاہنے والوں اور فرزندوں کے لیے، وہ رخصت نہیں ہوئے۔ وہ زندہ ہیں اور ہمیشہ رہیں گے۔ وہ ہمارے راستے کا چراغ ہیں۔ خدا کی قسم، وہ ہمارے وجود کے ذرے ذرے میں، ہمارے خلیوں، حتیٰ کہ ایٹموں (پروٹونز اور نیوٹرانز) تک میں موجود ہیں، اور جب تک ہم زندہ ہیں، ان کی یاد، ان کی تعلیمات اور ان کے انسان ساز اسلامی پیغام کے تابع رہیں گے:
“ہرگز نمیرد آنکہ دلش زنده شد به عشق ۔۔۔ ثبت است بر جریدۂ عالم دوامِ ما”
سید حسن عارفی کی یادادشت کے بعد اب آیئے  4 جون 1989ء (14 خرداد 1368 ہجری شمسی) کی غمگین اور سوگوار صبح پر ایک نگاہ ڈالئے۔ صبح سویرے ریڈیو سے خبرِ ارتحال نشر ہوئی تو لاکھوں دلوں پر غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا۔ مرد، عورتیں، بوڑھے اور نوجوان سب اپنے محبوب رہبر کی آخری جھلک پانے کے لیے بے تاب تھے۔ جب جسدِ خاکی مصلیٰ تہران میں رکھا گیا تو اشکوں کا ایک سمندر امڈ آیا۔ ہر آنکھ نم تھی اور ہر زبان پر دعا و درود جاری تھا۔

6 جون 1989ء (16 خرداد 1368 ہجری شمسی) کو نمازِ جنازہ کے بعد جب تدفین کے لیے پیکرِ امام کو بہشتِ زہرا کی جانب لے جایا گیا تو جذبات کا طوفان اس قدر شدید تھا کہ لاکھوں سوگوار اپنے آنسوؤں اور عقیدت پر قابو نہ رکھ سکے۔ ہجوم بڑھتا گیا، انتظامات ٹوٹتے گئے، اور ایک ایسا منظر سامنے آیا جس نے ہر دیکھنے والے کو رُلا دیا۔ تابوت مجمع کے دباؤ میں آ گیا، اور تدفین کا عمل وقتی طور پر روکنا پڑا۔

یہ محض ایک جنازہ نہ تھا بلکہ ایک عہد کی رخصتی کا منظر تھا۔ ایک ایسا لمحہ جس میں کروڑوں دل ایک ساتھ دھڑک رہے تھے، ایک ساتھ رو رہے تھے اور ایک ساتھ اپنے قائد کو الوداع کہہ رہے تھے۔ تاریخ نے شاید ہی کبھی ایسا دردناک اور پُرہجوم منظر دیکھا ہو، جہاں عقیدت، محبت، اشک اور جدائی سب ایک ہی منظر میں سمٹ آئے ہوں۔ یوں امام خمینی مٹی کی آغوش میں اتر گئے، مگر ان کی یاد، ان کا پیغام اور ان کا اثر لاکھوں دلوں میں ہمیشہ کے لیے نقش ہوگیا۔

متعلقہ مضامین

  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی