جونیئر کلرک کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کا چارج دینے کیخلاف درخواست پر حکم امتناع
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ ہائیکورٹ نے جونئیر کلرک کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کا ایڈیشنل چارج دینے کیخلاف درخواست پر حکم امتناع جاری کردیا۔
جونئیر کلرک کو ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کا ایڈیشنل چارج دینے کیخلاف درخواست کی سماعت ہائیکورٹ میں ہوئی، جس میں درخواستگزار کے وکیل ملک الطاف جاوید ایڈووکیٹ نے مؤقف دیا کہ حنین نامی شہری کو 2009ء میں گریڈ ون میں نائب قاصد کے عہدے پر بھرتی کیا گیا۔
وکیل نے عدالت کو بتایا کہ مختصر وقت میں 11 سے 16 اور پھر بی ایس گریڈ 17 میں جونیئر کلرک کے عہدے پر ترقی دی گئی۔ سپریم کورٹ کے احکامات کے مطابق افسر کی موجودگی کے باوجود کسی دوسرے کو عہدے کا ایڈیشنل چارج نہیں دیا جاسکتا۔
بعد ازاں عدالت نے ٹاؤن میونسپل کمیٹی نارتھ کراچی میں ڈپٹی ڈائریکٹر ایجوکیشن کے عہدے پر حکم امتناع جاری کردیا۔
عدالت نے سیکریٹری لوکل گورنمنٹ کو 15 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرتے ہوئے فریقین سے بھی جواب طلب کرلیا۔
Tagsپاکستان.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔