بھارت کالعدم دہشتگرد تنظیموں کی پشت پناہی کر رہا ہے، پاکستان
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-01-14
نیویارک (صباح نیوز) پاکستان نے اقوام متحدہ سے شکایت کی ہے کہ بھارت کالعدم تنظیموں جیسے بی ایل اے، ٹی ٹی پی اور مجید بریگیڈ کی پشت پناہی کر رہا ہے، جس کے نتیجے میں ہزاروں پاکستانی شہری بھارتی حمایت یافتہ دہشت گردی کا نشانہ بن چکے ہیں۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کمیٹی میں پاکستانی نمائندے آصف خان نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ علاقائی امن و استحکام کیلیے شدید خطرہ ہے۔آصف خان نے کہا کہ پاکستان نے مئی میں بھارت کی اشتعال انگیز جارحیت پردفاع کا حق استعمال کرتے ہوئے منہ توڑ جواب دیا۔ بھارت کی منافقت کو بے نقاب کر تے رہیں گے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ بھارت دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت نہیں بلکہ سب سے بڑی گمراہ ریاست بن چکا ہے، آر ایس ایس اور بی جے پی حکومت نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا حصہ بنا دیا ہے، جبکہ بھارت میں اقلیتوں پر مظالم کی متعدد بین الاقوامی رپورٹس موجود ہیں۔انہوں نے خبردار کیا کہ بھارت کا غیر ذمہ دارانہ رویہ خطے کے امن و استحکام کیلیے سنگین خطرہ ہے، تاہم پاکستان کشمیری عوام کی منصفانہ اور پرامن جدوجہد آزادی کی حمایت جاری رکھے گا۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاکستانی طلبہ نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں مباحثہ جیت لیا
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251129-01-5
لندن (صباح نیوز) آکسفورڈ یونیورسٹی میں پاک بھارت مباحثہ پاکستانی طلبہ نے دو تہائی اکثریت سے جیت لیا، دونوں ممالک کے آکسفورڈ یونیورسٹی کے طلبہ نے اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کیا۔ اسٹوڈنٹس یونین کے موجودہ صدر موسیٰ ہراج نے پاکستانی ٹیم کی قیادت کی، بھارتی طلبہ مباحثے میں اٹھائے گئے سوالات کا خاطر خواہ جواب نہ دے پائے۔ ڈیبیٹ ہال میں پاکستانی ٹیم کو 106 جبکہ بھارتی ٹیم کو صرف 50 ووٹ مل سکے۔ یہ کامیابی نہ صرف تعلیمی حلقوں میں پاکستان کی مثبت شناخت کو مزید مضبوط کرتی ہے بلکہ عالمی جامعات میں پاکستانی طلبہ کی بڑھتی ہوئی صلاحیتوں اور تحریکی سوچ کا ایک واضح مظہر بھی ہے۔ مباحثہ اس قرارداد پر منعقد ہوا کہ ”بھارت کی پاکستان پالیسی دراصل عوامی جذبات بھڑکانے کی حکمتِ عملی ہے جسے سیکیورٹی پالیسی کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔’’بھارت نے ابتدائی طور پر اعلیٰ سطح کے مقررین جیسے جنرل نروا نے، ڈاکٹر سبرامنیم سوامی اور سچن پائلٹ کو مباحثے کے لیے نامزد کیا تھا، تاہم انہوں نے شرکت سے انکار کر دیا جس کے بعد بھارت نے جے سائی دیپک، پنڈت ستیش شرما اور دیورچن بنرجی پر مشتمل ایک نسبتاً کم درجے کا پینل میدان میں اتارا۔ اس کے برعکس پاکستان نے بڑی فراخ دلی سے اپنے اعلیٰ سطحی نمائندوں کو شامل نہ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے آکسفورڈ میں زیرِ تعلیم پاکستانی طلبہ موسیٰ ہراج، اسرار خان کاکڑ اور احمد نواز خان کو پورے اعتماد سے نمائندگی دی۔