پاک افغان جھڑپ میں پاک فوج کے 23بہادر جوان شہید اور 29زخمی، 200سے زائد دہشت گرد ہلاک
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
پاک افغان جھڑپ میں پاک فوج کے 23بہادر جوان شہید اور 29زخمی، 200سے زائد دہشت گرد ہلاک WhatsAppFacebookTwitter 0 12 October, 2025 سب نیوز
اسلام آباد (سب نیوز)پاک افغان بارڈر پر افغانستان کی طرف سے بلا اشتعال فائرنگ پر پاک فوج نے بھرپور جوابی کارروائی کرتے ہوئے 200 سے زائد دہشت گرد ہلاک اور کہیں زخمی ہوگئے جبکہ جھڑپوں کے دوران پاکستان کے 23 بہادر جوانوں نے جام شہادت نوش کیا اور 29 فوجی زخمی ہوئے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)کے مطابق 11 اور 12 اکتوبر 2025 کی درمیانی شب افغان طالبان اور بھارتی سرپرستی میں سرگرم فتنہ الخوارج نے پاکستان پر پاک افغان سرحد کے مختلف مقامات پر بلااشتعال حملہ کیا۔ دشمن کی بزدلانہ کارروائی میں فائرنگ اور محدود نوعیت کے حملے شامل تھے، جس کا مقصد سرحدی علاقوں کو غیر مستحکم کر کے دہشت گردی کو فروغ دینا اور اپنے ناپاک عزائم کو تقویت دینا تھا۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک افواج نے دشمن کی اس کارروائی کا فوری اور بھرپور جواب دیتے ہوئے نہ صرف حملہ پسپا کیا بلکہ دشمن کو فیصلہ کن نقصان بھی پہنچایا۔ پاک فوج نے حقِ دفاع استعمال کرتے ہوئے طالبان کے کیمپس، پوسٹس، دہشت گردوں کے تربیتی مراکز اور معاون نیٹ ورکس پر بھرپور جوابی کارروائی کی۔ اس دوران ٹھیک ٹھیک نشانے پر مبنی فائرز اور فضائی حملوں کے ساتھ ساتھ زمینی سطح پر چھاپہ مار کارروائیاں بھی کی گئیں، جن کا ہدف افغان سرزمین پر موجود دہشت گرد ڈھانچے اور تنظیمیں تھیں، جن میں فتنہ الخوارج فتنہ الہندستان اور داعش سے وابستہ عناصر شامل تھے۔
ترجمان نے بتایا کہ کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے اور کولیٹرل ڈیمیج سے بچنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے گئے۔آئی ایس پی آر کے مطابق متعدد طالبان ٹھکانے تباہ کر دیے گئے جب کہ 21 افغان پوسٹوں کو عارضی طور پر قبضے میں لے کر ناکارہ بنایا گیا۔ دہشت گردوں کے متعدد تربیتی کیمپ بھی غیر موثر بنا دیے گئے جو پاکستان میں حملوں کی منصوبہ بندی کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ جوابی کارروائیوں میں دشمن کو بھاری نقصان پہنچا۔
خفیہ اطلاعات اور نقصانات کے تخمینے کے مطابق جوابی کارروائی کے دوران 200 سے زائد طالبان اور دہشت گرد ہلاک ہوئے جب کہ زخمیوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ ان کارروائیوں سے دشمن کے انفراسٹرکچر کو سرحدی پٹی کے ساتھ ساتھ اندرونی علاقوں میں بھی شدید نقصان پہنچا، جو ٹیکٹیکل سے آپریشنل سطح تک پھیلا ہوا ہے۔دشمن کی اس جارحیت کے دوران 23 پاکستانی جوانوں نے مادرِ وطن کے دفاع میں جامِ شہادت نوش کیا جب کہ 29 اہلکار زخمی ہوئے۔ترجمان پاک فوج نے شہدا کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں قومی دفاع کی تاریخ میں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق پاکستان کی مسلح افواج ہر قیمت پر ملک کی سالمیت، عوام کی جان و مال اور قومی سرحدوں کے تحفظ کے لیے ہمہ وقت تیار ہیں۔ ہمارا عزم غیر متزلزل ہے اور ہم کسی بھی جارحیت یا دہشت گردی کو برداشت نہیں کریں گے۔ پاکستان خطے میں امن اور تعمیری سفارت کاری کو ترجیح دیتا ہے لیکن افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال کرنے کی اجازت ہرگز نہیں دے گا۔آئی ایس پی آر کے بیان میں طالبان حکومت کے رویے پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ یہ اشتعال انگیز کارروائی اس وقت ہوئی جب طالبان کے وزیر خارجہ بھارت کے دورے پر ہیں، جو خطے میں دہشت گردی کا سب سے بڑا سرپرست ہے۔
پاکستان نے طالبان حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین سے دہشت گرد تنظیموں بالخصوص فتنہ الخوارج، فتنہ الہندستان اور داعش کے خاتمے کے لیے فوری اور قابلِ تصدیق اقدامات کرے۔ بصورت دیگر پاکستان اپنے عوام کے دفاع کے لیے دہشت گرد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا حق استعمال کرتا رہے گا۔آئی ایس پی آر کے مطابق گزشتہ شب کی کارروائی پاکستان کے اس موقف کو درست ثابت کرتی ہے کہ طالبان حکومت نہ صرف دہشت گرد گروہوں کو پناہ دے رہی ہے بلکہ بھارت کے ساتھ مل کر خطے کو غیر مستحکم کرنے کے عزائم رکھتی ہے۔ اگر طالبان حکومت نے اپنی روش نہ بدلی تو پاکستان اس خطرے کے مکمل خاتمے تک چین سے نہیں بیٹھے گا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبروزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، پاک، افغان سرحد پر جاری کشیدگی پر گفتگو وزیراعظم کی نواز شریف سے ملاقات، پاک، افغان سرحد پر جاری کشیدگی پر گفتگو افغان حکومت کی جانب سے بلااشتعال فائرنگ و سرحدی حملے قابل تشویش ہیں ،عاطف اکرام شیخ ایران کی پاک افغان کشیدگی پر ثالثی کی پیشکش، دونوں ممالک کو مذاکرات کا مشورہ پاکستان کی جوابی کارروائیاں طالبان کے عسکری ڈھانچے اوردہشت گرد عناصر کے خلاف ہیں، اسحاق ڈار فیلڈ مارشل کی قیادت میں بہادر افواج نے دشمن کو عبرتناک سبق سکھایا، رانا ثنااللہ ذبیح اللہ مجاہد کا 58 پاکستانی فوجی شہید کرنے کا دعویٰCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: آئی ایس پی آر کے مطابق جوابی کارروائی دہشت گرد ہلاک طالبان حکومت پاک افغان کے دوران پاک فوج کے لیے
پڑھیں:
بھارتی سرپرستی میں ملک دشمن پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
سیکیورٹی اداروں نے کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان کیا ہے، جبکہ ان کی تلاش کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں جاری ہیں۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کارروائی کے دوران حبیبہ پیرجان کی رہائش گاہ سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک دہشتگردوں سے متعلق ریکارڈ، ریاست مخالف مواد اور بھارتی فنڈنگ کے شواہد برآمد ہوئے۔ تحقیقات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے اہم کمانڈروں، خصوصاً رستم پیرجان، کے ساتھ روابط سامنے آئے۔
مزید پڑھیں: آسٹریلیا کی جانب سے بی ایل اے اور 3 سینیئر رہنماؤں پر دہشتگردی کے الزامات کے تحت پابندیاں عائد
سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان کی پروپیگنڈا شاعری اور زہریلی سوشل میڈیا سرگرمیاں معصوم نوجوانوں میں ریاست مخالف بیانیے اور باغیانہ سوچ کو فروغ دینے کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہیں۔
حبیبہ پیرجان، زوجہ حنیف ضلع کیچ کے علاقے دشت کی رہائشی ہیں۔ انہیں 25 مئی 2026 کو کراچی کے علاقے گلشنِ مزدور میں ایک مشترکہ انٹیلیجنس بیسڈ آپریشن (آئی بی او) کے دوران ٹریس کیا گیا تھا، تاہم علاقے کا محاصرہ مکمل ہونے سے قبل وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئیں۔
کارروائی کے دوران ان کی رہائش گاہ کی تلاشی لی گئی جہاں سے ڈائریاں، کالعدم بی ایل اے کے ہلاک شدہ عسکریت پسندوں سے متعلق تحریری ریکارڈ اور دیگر مواد برآمد ہوا۔ سیکیورٹی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ برآمد شدہ مواد میں بھارتی مالی معاونت اور ریاست مخالف سرگرمیوں سے متعلق بعض اہم شواہد بھی شامل ہیں جن کا مزید تجزیہ کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات اور انٹیلیجنس معلومات سے حبیبہ پیرجان کے کالعدم بی ایل اے کے متعدد اہم کمانڈروں، بالخصوص رستم پیرجان، کے ساتھ مبینہ قریبی روابط کی نشاندہی ہوئی ہے۔ انہوں نے ضلع کیچ کے دشت کے پہاڑی علاقوں میں رستم پیرجان سے کم از کم 2 ملاقاتیں کیں، جن میں ایک ملاقات رواں سال 14 فروری کو ہونے کا دعویٰ کیا گیا۔
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دستیاب ریکارڈ سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ وہ اسلحہ اور دیگر سامان کی ترسیل میں سہولت کاری، بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) سے وابستہ متعدد شخصیات سے روابط اور سوشل میڈیا پر بی ایل اے سے منسلک پلیٹ فارمز کے ذریعے ریاست مخالف مواد کی تشہیر میں سرگرم کردار ادا کرتی رہی ہیں۔
ذرائع کے مطابق حبیبہ پیرجان کی شاعری اور تحریروں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ دستیاب مواد میں ایسی نظمیں اور اشعار شامل ہیں جن میں مسلح عناصر کی تعریف، ریاستی اداروں کے خلاف بیانیے کی ترویج اور نوجوانوں کو باغیانہ سوچ کی جانب راغب کرنے کے عناصر پائے جاتے ہیں۔
ان کی اکثر نظموں میں مسلح گروہوں اور شدت پسندوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا ہے، جبکہ بعض تحریروں میں نوجوانوں کو انتخابی عمل سے دور رہنے، ریاستی اداروں کے خلاف نفرت پیدا کرنے اور مسلح جدوجہد کی حمایت پر آمادہ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ کالعدم بی ایل اے کے ایک گروپ کے اشتہاری سربراہ حربیار مری کی تحسین میں بھی ایک نظم لکھی گئی ہے، جس کا اردو ترجمہ اور عکس بھی موجود ہے:
حربیار مری کے نام
ٹوٹا ہوا وطن کا آواز ہے حربیار
کالی رات کا خوف ہے حربیار
پہاڑوں میں کھڑا ہوا ہے اپنی بات کہ اوپر
ایک آگ کی طرح ہے حربیار
اسکو خبر ہے اس راستہ کا
آجاؤ ہمسفر ہماری آواز ہے حربیار
حبیبہ سو دفعہ سوچ چکی ہے
ہر بلوچ کا درد وار ہے حربیار
حکام کے مطابق ایسے مواد کو شدت پسندی اور دہشتگردی کے لیے ہمدردی پیدا کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
مزید پڑھیں: بی ایل اے کی محدود کارروائیاں اور سوشل میڈیا پر بڑا تاثر دینے کی ناکام حکمت عملی
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ حبیبہ پیرجان کے خلاف دستیاب شواہد اور برآمد شدہ مواد کا فرانزک و قانونی جائزہ جاری ہے، جبکہ ان کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں کارروائیاں تیز کر دی گئی ہیں۔ حکام کے مطابق مطلوب خاتون کے بارے میں مصدقہ معلومات فراہم کرنے والے شخص کے لیے 10 لاکھ روپے انعام مقرر کیا گیا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
10 لاکھ روپے انعام انٹیلیجنس معلومات بلوچ یکجہتی کمیٹی پروپیگنڈا شاعری حبیبہ پیرجان رستم پیرجان سیکیورٹی ادارے عسکریت پسند کالعدم بلوچ لبریشن آرمی کالعدم بی ایل اے