دنیا کے خوبصورت ترین دیہات کی 2025 کی فہرست میں ترکی کے تاریخی قصبے ارتاہیسار نے بھی جگہ بنالی ہے۔ بین الاقوامی جریدے فوربز کی جانب سے جاری کردہ سالانہ رینکنگ میں ارتاہیسار کو دنیا کے 50 خوبصورت ترین دیہات میں 40 واں نمبر حاصل ہوا۔

ترکی کے صوبے نیوشیہر میں واقع ارتاہیسار، خطہ کپادوکیہ کے دل میں بسنے والا ایک دلکش گاؤں ہے جو اپنی قدرتی خوبصورتی، منفرد پتھریلے مناظر اور تاریخی ورثے کے باعث دنیا بھر کے سیاحوں کو اپنی جانب کھینچتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: دنیا کے سب سے خوبصورت ممالک کون سے ہیں؟

ارتاہیسار کی پہچان اس کے پتھر سے بنے گھروں، پرکشش پتھریلی گلیوں، قدیم چرچوں اور خانقاہوں سے ہوتی ہے، دیہات میں موجود سرچا، کامبازلی، تاوشانلی اور ہلاج دریسی جیسے تاریخی چرچ سیاحوں کے لیے خاص کشش رکھتے ہیں۔

 

جریدے نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ ارتاہیسار ایک ایسا قصبہ ہے جو کپادوکیہ کی زمین سے ایک بھولی بسری یادگار کی طرح ابھرتا ہے، جہاں قدیم قلعہ، غاروں میں تراشی گئی گزرگاہیں اور کبوتروں کے گھونسلوں جیسے آثار آج بھی اپنی تاریخی عظمت کا پتہ دیتے ہیں۔

ارتاہیسار نہ صرف ترکی کا خوبصورت ترین گاؤں قرار دیا جارہا ہے بلکہ یہ کپادوکیہ کے ثقافتی، قدرتی اور تاریخی ورثے کا جیتا جاگتا میوزیم بھی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بھارتی صحافی نے اسلام آباد کو ایشیا کا خوبصورت ترین شہر قرار دیدیا

یہاں آنے والے سیاح ارتاہیسار قلعہ، ہلاج خانقاہ، پنچرلک چرچ، اور ایتھنوگرافی میوزیم ہے کے علاوہ ریڈ ویلی، پیجن ویلی اور لوو ویلی جیسے دلکش مقامات کا نظارہ کرتے ہیں۔

علاوہ ازیں، سورج نکلنے کے وقت فضا میں تیرتے ہوا کے غبارے، گھڑ سواری اور پہاڑی راستوں پر ہائیکنگ جیسی سرگرمیاں اس علاقے کو دنیا بھر کے سیاحوں کے لیے ایک خوابناک تجربہ بنا دیتی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

we news ارتاہیسار ترکیہ خوبصورت دیہات قصبہ کپادوکیہ.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ترکیہ خوبصورت دیہات

پڑھیں:

سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔

اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔

ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • سعودی ایپ ’ہُدہُد‘ عمرہ زائرین کے لیے جدید رہنما بن گئی، مکہ کے مذہبی و تاریخی مقامات تک رسائی آسان
  • سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
  • فیفا نے ورلڈ کپ 2026 کی ٹیم آف دی ٹورنامنٹ کا اعلان کر دیا
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • لاہور میں 6 گھنٹے تک طوفانی بارش سے شہر پانی میں ڈوب گیا
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل