حیدرآباد، تیز رفتار منی بس کی ٹکر سے 10 سالہ معصوم ایان جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
حیدرآباد:
شہر کے مصروف علاقے میں المعروف نیا پل (خواجہ غریب نواز پل) پر ایک تیز رفتار اور بے قابو منی بس نے 10 سالہ بچے ایان ڈومکی کو کچل دیا، جو کئی گھنٹے سول اسپتال میں زیر علاج رہنے کے بعد جانبر نہ ہو سکا۔
پولیس کے مطابق جاں بحق ہونے والا ایان ڈومکی پنہور گوٹھ کا رہائشی اور پانچویں جماعت کا طالب علم تھا۔
عینی شاہدین اور بچے کے والد راشد ڈومکی کے مطابق ایان گھر کا سامان لینے نکلا تھا کہ اچانک ایک منی بس نے پہلے ٹکر ماری اور پھر پچھلا ٹائر اس کے جسم پر چڑھ گیا۔
واقعے کے بعد منی بس کا ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا، تاہم پولیس نے بس کو تحویل میں لے لیا ہے۔
والد راشد ڈومکی نے مطالبہ کیا ہے کہ ڈرائیور کو فوری گرفتار کر کے اسے قرار واقعی سزا دی جائے تاکہ آئندہ ایسے واقعات سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔