بعض حکمرانوں نے ہمیشہ امریکی غلامی کو ترجیح دی ہے، علامہ مقصود ڈومکی
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
خیرپور میں کارکنوں سے گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ لاہور مریدکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید افسوس ہے۔ طاقت کے استعمال کے بجائے افہام و تفہیم اور پرامن مکالمے کے ذریعے قومی مسائل کو حل کریں۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی رہنماء علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا ہے کہ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ اس صدی کے عظیم انقلابی رہبر حضرت امام خمینیؒ نے فرمایا تھا کہ امریکہ شیطان بزرگ ہے، اس سے خیر کی توقع رکھنا احمقوں کا کام ہے۔ پاکستان کے بعض حکمرانوں نے ہمیشہ امریکہ کی غلامی کو ترجیح دی ہے۔ یہ بات انہوں نے ضلع خیرپور کے تعلقہ فیض گنج کے مختلف مقامات کے دورے کے موقع پر پارٹی کارکنوں اور عوام الناس سے گفتگو کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر مجلس وحدت مسلمین سندھ کے اراکین صوبائی آرگنائزنگ کمیٹی آغا منور جعفری، اصغر علی سیٹھار اور مولانا منور حسین سولنگی بھی موجود تھے۔ بدقسمتی سے پاکستان کے بعض حکمرانوں نے ہمیشہ امریکی غلامی کو ترجیح دی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک آزاد، خودمختار اور باوقار پاکستان کی ضرورت ہے، ایسا پاکستان جو بیرونی دباؤ اور مداخلت سے پاک ہو۔ جہاں فیصلے پاکستان کے ایوانوں میں پاکستانی عوام کے نمائندوں کے ذریعے ہوں۔ انہوں نے کہا کہ پچاس برسوں کی امریکی غلامی نے قوم کو سوائے تباہی کے کچھ نہیں دیا۔ شیطان بزرگ کی دوستی سے خیر کی امید رکھنا عبث ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں کو چاہیے کہ وہ پاکستانی عوام کے خلاف طاقت کے استعمال کے بجائے افہام و تفہیم اور پرامن مکالمے کے ذریعے قومی مسائل کو حل کریں۔ یہی راستہ پاکستان کے استحکام، سلامتی اور ترقی کی ضمانت ہے۔ لاہور مریدکے میں قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر شدید افسوس ہے۔ علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ وطن عزیز پاکستان اس وقت سنگین چیلنجز سے گزر رہا ہے۔ دہشت گردی، لاقانونیت اور بیرونی مداخلت جیسے مسائل سے نجات ضروری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: علامہ مقصود علی ڈومکی نے ڈومکی نے کہا پاکستان کے نے کہا کہ کی غلامی
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔