Jasarat News:
2026-07-24@04:47:43 GMT

خون کی یہ ہولی کس کے ایما پر

اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

251015-03-7

 

راشد منان

میرا تحریک لبیک یا اس جماعت کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن پنجاب پولیس کی طرف سے مرید کے میں کی جانے والی درندگی صرف امریکا کی جی حضوری کے لیے کچھ مناسب نہیں۔ دنیا بھر میں امن معاہدے کے بعد بھی فری فلسطین اور اسرائیل اور امریکا کے منافقانہ رویہ پر لوگ اپنی حکومتوں کے خلاف آج بھی احتجاج کر رہے ہیں کیا ہو جاتا اگر ایک قافلہ امریکی ایمبیسی پہنچ جاتا آپ ایمبیسی کی سیکورٹی سخت کر دیتے اور وہاں انہیں احتجاج کے لیے بیٹھا دیتے، حکومتیں ان احتجاج اور دھرنوں کو اپنے حق میں استعمال کرتی رہتی ہیں، اگر ان میں دم ہو تو! وہ متعلقہ ممالک کے حکمرانوں کو ایسے احتجاج جلسے جلوس اور ریلیوں کو خود پر آئے پریشر سے آزادی حاصل کرنے کا ذریعہ بناتی ہیں لیکن ہمارے کمزور حکمران جو کبھی کسی اسٹیبلشمنٹ یا پھر کبھی فارم 47 کے ذریعے حکومت بناتے ہیں یہ ان کی نا اہلی ہے کہ وہ اغیار کی محبت میں اپنے لوگوں پر گولیاں برساتے ہیں۔ ان کی تذلیل کرتے ہیں۔

کون نہیں جانتا کے پولیس چاہے پنجاب کی ہو یا پورے پاکستان کی ان کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ اپنے آقاؤں کے کہنے پر چادر اور چہار دیواری کا تقدس پامال کریں، کسی مخالف سیاستدان پر بھینس چوری کا الزام لگا کر اسے پابند سلاسل کر دیں۔ کسی مفتی، مولوی، ائمہ کرام کے گھر سے لاکھوں کی نقدی اور زیورات برآمد کر لیں، کسی کو خود ہی مبینہ پولیس مقابلے میں مار کرکوئی پستول یا دھماکا خیز مواد اس کے ہاتھ میں تھما کر دہشت گرد ثابت کر دیں، کسی ٹیکسی رکشہ ڈرائیور یا معزز شہری سے جب انہیں بھتا نہ ملے تو پھر اس کی جیب سے کوئی چوری کا موبائل یا کوئی نشہ آور چیز حاصل کر لیں۔ کبھی کسی موڑ پر کھڑے ٹریفک کے جوان طے شدہ روانہ یا ماہانہ بھتا نہ ملنے پر کسی باریش بزرگ رکشہ ڈرائیور پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دیں، کسی معزز سیاستدان یا شہری کی ڈاڑھیاں پکڑ کر انہیں سڑکوں پر گھسیٹیں، کسی خاتون کی طرف سے ان کے نازیبا اشاروں کا جواب نہ ملنے پر اسے کسی کوٹھے کی پیداوار یا کسی کی رکھیل قرار دے ڈالیں، رات گئے کسی شادی یا کسی غم خوشی سے واپس اپنے گھروں کو لوٹتے میاں بیوی کو یہ کہہ کر جھوٹا قرار دیں کہ تمہارے پاس نکاح نامہ نہیں ہے؟ کبھی کراچی کی سڑکوں پر اجرک کی نمبر پلیٹ نہ ہونے اور اس جرم پر معقول رشوت کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر ان کی عورتوں کی موجودگی میں ان کے باپ بھائی یا شوہر کو لاک اپ میں بند کرنے کی دھمکی یا اس پر عمل بھی کر ڈالیں۔ یہ اور اس طرح کی چارج شیٹ اور محکمہ پولیس کے بیش تر افسروں اور جوانوں کے خلاف ملک کے ایک ایک شہری سے آپ جب چاہیں سن سکتے ہیں۔

غالباً ساہیوال یا پنجاب کے کسی نواح کا یہ واقعہ بھی ریکارڈ پر لاتا چلوں کے کسی معمولی افسر نے تھانے میں کسی عورت کو اس سے شادی نہ کرنے پر ننگا اور الٹا لٹکا کر اس پر تشدد کیا اور اس کے جسم کے نازک حصوں کو سگریٹ سے داغا۔ یہ وہی پولیس والے ہیں جن سے سندھ کے کچے کے ڈاکوں یا جنوبی پنجاب میں آئے دن اغوا ہونے والوں سے نمٹنا نہیں جاتا، کبھی کوئی اغوا شدہ عورت، بچے بچیاں ان سے بازیاب نہیں ہوتے، کوئی موبائل اسنیچر پکڑا نہیں جاتا، چوری کی کوئی موٹر سائیکل رپورٹ کے بعد بھی برآمد نہیں ہوتی کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی میکنزم نہیں کے بازیاب ہونے والی موٹر سائیکل کی اطلاع متعلقہ شخص تک پہنچ جائے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان موٹر سائیکلوں کی بازیابی ان کے لیے کسی نعمت سے اس لیے کم نہیں ہوتی کے اس کے کل پرزے ان کی اپنی موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتے ہیں اور بعض کیسز میں پوری کی پوری موٹر سائیکل ان کی ملکیت بن جاتی ہیں۔ کتنی ہی موٹر سائیکل تھانوں کے باہر کھڑی میری بات کی دلیل اور ثبوت کے طور پر موجود ہیں ان کے اپنے محکمے میں گلو بٹ یا طیفی بٹ جیسے لوگ پروان چڑھائے جاتے ہیں جن سے یہ اپنے مطلب حاصل کرتے ہیں یا پھر ان کے ذریعے یہ اپنے عام یا سیاسی مخالفین پر رعب ڈالتے اور اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں بسا اوقات کیا بلکہ اکثر انڈین پولیس یا تھانے کا دکھایا جانے والا کوئی منظر خود پر بیتا نظر آتا ہے۔ ایک فلم کا ایک منظر یہ بھی تھا کہ ایک تھانے کا افسر کسی مظلوم کی فریاد پر جب اسے انصاف دلانے کسی با اثر کے پاس جاتا ہے لیکن جب وہ اس کے محل سے باہر نکلتا ہے تو بجائے مظلوم کی طرف داری کے وہ اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ زیادہ پنچائیت میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہماری عید اچھی ہونے والی ہے۔

مزکورہ بالا چارج شیٹ کے بعد نہ پہلے اور نہ اب یہ بات حلق سے نیچے جاتی نظر آتی ہے کے مرید کے میں مظاہرین نے تشدد کا آغاز کیا جس کے دفاع میں پولیس کو فائرنگ کرنا پڑی اور نتیجتاً دونوں طرف کے افراد جاں بحق ہوئے۔ ماضی کے مختلف احتجاج اور دھرنوں پر پولیس کے بلا جواز کریک ڈاؤن سے کون واقف نہیں؟ اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کے تحریک نے پہلے بھی اس طرح کے دھرنے اور احتجاج اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد پر شروع اور ختم کیا تھا اور کیا اس کریک ڈاؤن پر ہم پنجاب پولیس کی معذرت قبول کر کے ان کی یہ خون ریزی معاف کر دیں گے؟ یا پھر اس پر کوئی شفاف انکوائری ہوگی جس کی رپورٹ پبلک ہو یا پھر اس واقعے کو بھی ایک عام واقعہ کہہ کر داخل دفتر کر دیا جائے گا۔

ایک مذہبی جماعت جس کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد ملک کے طول عرض میں موجود ہو اور جن کی نظریاتی وابستگی تحریک کے ساتھ نہیں بلکہ ان کی اس وابستگی کو پیارے نبیؐ سے منسوب کر کے وہ اپنے کارکنان کو جذباتی حد تک لے جانے اور مرنے مارنے پر راضی کر سکتے ہوں ان کے ساتھ حکومت کے ایما پر پنجاب پولیس کا یہ نا معقول رویہ جس کی وجہ سے پچھلے کئی دنوں سے ملک بھر کے شہری محصور اور مفلوج بن کر رہ گئے ہوں مناسب کہلائے جانے کا مستحق ہے اور کیا ایک ایسی حکومت جو امریکی صدر ٹرمپ کی محبت میں بوٹ پالش تک کے روا دار ہو اور جو اس جیسے عالمی دہشت گرد کو نوبل انعام دینے کے سفارشی بھی ہو کیا ایسی حکومت کا یہ طرز عمل جبکہ ہم اپنے ازلی دشمن بھارت اور اس کے نئے دوست افغانستان کے ساتھ ایک معرکے میں گھرے ہوئے ہیں خود اپنے ملک کے امن میں خلل ڈال کر دشمنوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دینے کے مترادف نہیں؟ کیوں نا ہم نے ان سے مذکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا؟

ہمارے عاقبت نااندیش حکمرانوں کی طرز حکمرانی دیکھ کر ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے کے کہیں ملک میں فساد اور افراتفری برپا کر کے پاکستان کو خاموشی کے ساتھ ابرہام ایکارڈ میں شامل کرانے کی یہ امریکی سازش تو نہیں جس کا اظہار ٹرمپ نے اسرائیل کی اسمبلی میں کیا ہے اس کی ایک دلیل اور ثبوت یہ بھی ہے کہ خود اپنے شہریوں کا نام لینے پر تو الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر پیمرا کی معرفت پابندی لگائی جائے لیکن امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر ایک دوسرے دہشت گرد اسرائیلی صدر نیتن یاہو کی موجودگی میں ان کی اسمبلی سے پاکستان کے نشریاتی اداروں پر براہ راست دکھائی جائے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔

راشد منان.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: موٹر سائیکل کے ساتھ اور اس کے لیے

پڑھیں:

پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا

پاکستان کی جغرافیائی حیثیت محض ایک زمینی ریاست کی نہیں بلکہ ایک ایسے ملک کی ہے جس کے مفادات خشکی، سمندر اور خطے کی مجموعی سلامتی سے یکساں طور پر وابستہ ہیں۔ اسی لیے جب مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے شعلے بلند ہوتے ہیں تو ان کی تپش صرف جنگ میں شریک ممالک تک محدود نہیں رہتی بلکہ عالمی تجارت، توانائی کی رسد، بحری راستوں، علاقائی معیشتوں اور سفارتی توازن کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔

آج بحیرہ احمر، باب المندب اور آبنائے ہرمز صرف آبی گزرگاہیں نہیں رہیں بلکہ عالمی طاقتوں کی کشمکش، علاقائی رقابتوں اور غیر ریاستی مسلح گروہوں کی حکمت عملی کا مرکز بن چکی ہیں۔ ایسے ماحول میں پاکستان کی جانب سے اپنے بحری مفادات اور سعودی عرب کی سلامتی کے بارے میں دوٹوک اور واضح موقف اختیار کرنا نہ صرف ایک ذمے دار ریاست کی علامت ہے بلکہ یہ اس حقیقت کا اظہار بھی ہے کہ قومی سلامتی کی تعریف اب سرحدوں تک محدود نہیں رہی، بلکہ سمندری راستے، تجارتی جہاز، بندرگاہیں اور توانائی کی سپلائی لائنیں بھی اسی قدر اہم قومی مفادات کا حصہ بن چکی ہیں۔

 پاکستان نے جس واضح انداز میں یہ اعلان کیا ہے کہ پاکستانی پرچم بردار جہازوں، بحری تنصیبات یا سمندری مفادات کے خلاف کسی بھی جارحیت کو قومی سلامتی کے خلاف حملہ تصور کیا جائے گا، وہ دراصل بین الاقوامی قانون کے بنیادی اصولوں کی توثیق بھی ہے اور قومی خودمختاری کے تحفظ کا منطقی اظہار بھی۔ دنیا کی کوئی بھی ذمے دار ریاست اپنی تجارت، بحری نقل و حمل اور اقتصادی شہ رگوں کو خطرات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتی۔

پاکستان کی بڑی بندرگاہیں، برآمدات، درآمدات اور توانائی کی ضروریات عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہیں، اس لیے ان راستوں میں پیدا ہونے والی بے یقینی براہِ راست قومی معیشت پر اثر انداز ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام آباد کی جانب سے یہ واضح پیغام دینا کہ قومی بحری مفادات کے دفاع کے لیے ہر ضروری اقدام کیا جائے گا، دراصل ایک فطری ریاستی ذمے داری ہے، نہ کہ محض سفارتی بیان۔

 بحیرہ احمر میں حوثی حملوں اور تجارتی جہازوں کو دی جانے والی دھمکیوں نے عالمی تجارت کو غیر معمولی اضطراب میں مبتلا کر دیا ہے۔ ماضی میں قزاقی کو سمندری تجارت کے لیے سب سے بڑا خطرہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب منظم مسلح گروہ جدید میزائلوں، ڈرونز اور بحری حملوں کی صلاحیت کے ذریعے پوری عالمی سپلائی چین کو یرغمال بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

اس صورتحال نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ غیر ریاستی عناصر بھی ایسے وسائل حاصل کر چکے ہیں جن کے ذریعے وہ عالمی معیشت پر ریاستوں سے کم اثر نہیں ڈال سکتے۔ یہی وجہ ہے کہ متعدد آئل ٹینکروں نے اپنے راستے تبدیل کیے اور یورپی بحری اداروں نے بھی تجارتی جہازوں کو احتیاطی ہدایات جاری کیں، جو اس بحران کی سنگینی کا واضح ثبوت ہے۔

حوثیوں کی جانب سے سعودی عرب سے وابستہ تجارتی سرگرمیوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں صرف ایک ملک کے خلاف کارروائی نہیں بلکہ بین الاقوامی تجارت کی آزادی پر حملہ ہیں۔ سمندری راستوں کی آزادی بین الاقوامی قانون کا بنیادی اصول ہے، جس پر عالمی تجارت کا پورا نظام قائم ہے، اگر کسی گروہ کو یہ حق دے دیا جائے کہ وہ سیاسی یا عسکری مقاصد کے لیے تجارتی جہازوں کی نقل و حرکت روک دے تو پھر عالمی تجارت مسلسل خوف اور غیر یقینی کا شکار ہو جائے گی۔ پاکستان کی تشویش اسی تناظر میں نہایت برمحل ہے کیونکہ اس کی تجارت کا بڑا حصہ بھی انھی عالمی بحری راستوں سے وابستہ ہے۔

 پاکستان نے سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کر کے نہ صرف دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات کو مضبوط کیا ہے بلکہ ایک اصولی موقف بھی اختیار کیا ہے۔ پاکستان اور سعودی عرب کے تعلقات کئی دہائیوں پر محیط اعتماد، مذہبی وابستگی، اقتصادی تعاون اور دفاعی اشتراک پر استوار ہیں۔ اس لیے اگر کسی بحران کے ذریعے سعودی عرب کو براہِ راست جنگ میں گھسیٹنے یا اس کے تجارتی مفادات کو نقصان پہنچانے کی کوشش کی جاتی ہے تو پاکستان کا اس پر تشویش ظاہر کرنا ایک ذمے دار دوست اور شراکت دار ریاست کے کردار کی عکاسی کرتا ہے۔

اس وقت اصل تشویش صرف بحیرہ احمر تک محدود نہیں رہی بلکہ امریکا اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی عسکری کشیدگی نے پورے خطے کو ایک نئے اور زیادہ خطرناک مرحلے میں داخل کر دیا ہے۔ دونوں ممالک کی جانب سے مسلسل سخت بیانات، ایک دوسرے کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں اور فوجی کارروائیوں کا دائرہ وسیع ہونے کے امکانات اس امر کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جنگ اب محدود رہنے کے بجائے تدریجاً علاقائی شکل اختیار کر سکتی ہے۔ جب عسکری کارروائیوں کا ہدف پل، بجلی گھر، توانائی کے مراکز اور دیگر شہری تنصیبات بن جائیں تو اس کے اثرات براہِ راست عام شہریوں پر مرتب ہوتے ہیں۔

اس تمام منظرنامے کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ بین الاقوامی قانون اور سمندری ضابطوں کا احترام مسلسل کمزور پڑ رہا ہے، اگر بحری گزرگاہوں کو سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال کیا جانے لگا تو مستقبل میں دنیا کے دیگر حساس سمندری راستے بھی اسی نوعیت کے تنازعات کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اس لیے عالمی برادری کی ذمے داری ہے کہ وہ آزادی جہاز رانی، تجارتی تحفظ اور شہری بنیادی ڈھانچے کے احترام کو ہر حال میں یقینی بنانے کے لیے موثر اقدامات کرے۔

پاکستان کے لیے موجودہ حالات ایک واضح پیغام رکھتے ہیں کہ بحری سلامتی کو قومی سلامتی کی حکمت عملی کا مزید مضبوط حصہ بنایا جائے۔ بحری افواج کی استعداد، ساحلی نگرانی، بندرگاہوں کی حفاظت، تجارتی جہازوں کی سیکیورٹی اور بین الاقوامی بحری تعاون کو مزید موثر بنانا وقت کی ضرورت ہے۔ گوادر اور کراچی جیسے اہم بندرگاہی مراکز صرف قومی معیشت کے ستون نہیں بلکہ علاقائی تجارت کے اہم مراکز بھی ہیں، جن کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنایا جانا چاہیے۔

اس بحران میں پاکستان کے لیے سفارتی توازن بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ ایک جانب سعودی عرب سمیت خلیجی ممالک کے ساتھ قریبی تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران ایک ہمسایہ اور اہم علاقائی ملک ہے۔ اس لیے پاکستان کا کردار اشتعال انگیزی میں اضافہ کرنے کے بجائے کشیدگی کم کرنے، رابطے بڑھانے اور مذاکرات کی حمایت کرنے کا ہونا چاہیے۔ یہی وہ راستہ ہے جو پاکستان کی خارجہ پالیسی کی روایات، قومی مفادات اور علاقائی امن کے تقاضوں سے مطابقت رکھتا ہے۔

عالمی طاقتوں کو بھی یہ حقیقت تسلیم کرنا ہوگی کہ طاقت کے ذریعے حاصل ہونے والی کامیابیاں عارضی ہوتی ہیں، جب کہ ان کے نتیجے میں پیدا ہونے والا عدم استحکام کئی دہائیوں تک برقرار رہ سکتا ہے۔ مشرق وسطیٰ پہلے ہی جنگوں، پابندیوں، پراکسی تنازعات اور بیرونی مداخلتوں کے باعث شدید نقصان اٹھا چکا ہے، اگر موجودہ کشیدگی کو بروقت نہ روکا گیا تو اس کے اثرات صرف جنگ میں شامل ممالک تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ پوری عالمی معیشت، توانائی کے نظام اور بین الاقوامی امن کو اپنی لپیٹ میں لے لیں گے۔

پاکستان کا حالیہ موقف اسی لیے اہم ہے کہ اس میں اپنے قومی اور بحری مفادات کے تحفظ کا واضح اعلان بھی موجود ہے، سعودی عرب کی سلامتی کے ساتھ اصولی یکجہتی بھی اور بالواسطہ یہ پیغام بھی کہ سمندری راستوں کو جنگی حکمت ِ عملی کا ہدف بنانا کسی کے مفاد میں نہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ اشتعال انگیز بیانات، عسکری دھمکیوں اور جوابی کارروائیوں کے بجائے سنجیدہ سفارت کاری، علاقائی مکالمے اور بین الاقوامی قانون کی بالادستی کو ترجیح دی جائے، اگر بنیادی ڈھانچے، توانائی کے مراکز، بحری راستوں اور تجارتی جہازوں کو جنگ کا مستقل ہدف بنا دیا گیا تو دنیا ایک ایسے بحران میں داخل ہو سکتی ہے جس کے اثرات نسلوں تک محسوس کیے جائیں گے۔ امن صرف جنگ نہ ہونے کا نام نہیں بلکہ ایسا بین الاقوامی نظم ہے جس میں تجارت محفوظ ہو، ریاستوں کی خودمختاری محترم رہے، شہری تنصیبات محفوظ ہوں اور اختلافات کا فیصلہ میدان جنگ کے بجائے مذاکرات کی میز پر ہو۔ یہی وہ راستہ ہے جو مشرق وسطیٰ کو مزید تباہی سے بچا سکتا ہے اور یہی وہ سوچ ہے جس کی آج پوری دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو امریکا کی مدد پر فوجی بیسز نشانہ بنانے کی دھمکی
  • ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا اپنے عہدے سے مستعفی
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت
  • کراچی: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں گرفتار تینوں ڈاکو اپنے ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک