خون کی یہ ہولی کس کے ایما پر
اشاعت کی تاریخ: 15th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251015-03-7
راشد منان
میرا تحریک لبیک یا اس جماعت کے نظریہ سے کوئی تعلق نہیں ہے لیکن پنجاب پولیس کی طرف سے مرید کے میں کی جانے والی درندگی صرف امریکا کی جی حضوری کے لیے کچھ مناسب نہیں۔ دنیا بھر میں امن معاہدے کے بعد بھی فری فلسطین اور اسرائیل اور امریکا کے منافقانہ رویہ پر لوگ اپنی حکومتوں کے خلاف آج بھی احتجاج کر رہے ہیں کیا ہو جاتا اگر ایک قافلہ امریکی ایمبیسی پہنچ جاتا آپ ایمبیسی کی سیکورٹی سخت کر دیتے اور وہاں انہیں احتجاج کے لیے بیٹھا دیتے، حکومتیں ان احتجاج اور دھرنوں کو اپنے حق میں استعمال کرتی رہتی ہیں، اگر ان میں دم ہو تو! وہ متعلقہ ممالک کے حکمرانوں کو ایسے احتجاج جلسے جلوس اور ریلیوں کو خود پر آئے پریشر سے آزادی حاصل کرنے کا ذریعہ بناتی ہیں لیکن ہمارے کمزور حکمران جو کبھی کسی اسٹیبلشمنٹ یا پھر کبھی فارم 47 کے ذریعے حکومت بناتے ہیں یہ ان کی نا اہلی ہے کہ وہ اغیار کی محبت میں اپنے لوگوں پر گولیاں برساتے ہیں۔ ان کی تذلیل کرتے ہیں۔
کون نہیں جانتا کے پولیس چاہے پنجاب کی ہو یا پورے پاکستان کی ان کے لیے کیا مشکل ہے کہ وہ اپنے آقاؤں کے کہنے پر چادر اور چہار دیواری کا تقدس پامال کریں، کسی مخالف سیاستدان پر بھینس چوری کا الزام لگا کر اسے پابند سلاسل کر دیں۔ کسی مفتی، مولوی، ائمہ کرام کے گھر سے لاکھوں کی نقدی اور زیورات برآمد کر لیں، کسی کو خود ہی مبینہ پولیس مقابلے میں مار کرکوئی پستول یا دھماکا خیز مواد اس کے ہاتھ میں تھما کر دہشت گرد ثابت کر دیں، کسی ٹیکسی رکشہ ڈرائیور یا معزز شہری سے جب انہیں بھتا نہ ملے تو پھر اس کی جیب سے کوئی چوری کا موبائل یا کوئی نشہ آور چیز حاصل کر لیں۔ کبھی کسی موڑ پر کھڑے ٹریفک کے جوان طے شدہ روانہ یا ماہانہ بھتا نہ ملنے پر کسی باریش بزرگ رکشہ ڈرائیور پر لاتوں اور گھونسوں کی بارش کر دیں، کسی معزز سیاستدان یا شہری کی ڈاڑھیاں پکڑ کر انہیں سڑکوں پر گھسیٹیں، کسی خاتون کی طرف سے ان کے نازیبا اشاروں کا جواب نہ ملنے پر اسے کسی کوٹھے کی پیداوار یا کسی کی رکھیل قرار دے ڈالیں، رات گئے کسی شادی یا کسی غم خوشی سے واپس اپنے گھروں کو لوٹتے میاں بیوی کو یہ کہہ کر جھوٹا قرار دیں کہ تمہارے پاس نکاح نامہ نہیں ہے؟ کبھی کراچی کی سڑکوں پر اجرک کی نمبر پلیٹ نہ ہونے اور اس جرم پر معقول رشوت کا مطالبہ پورا نہ ہونے پر ان کی عورتوں کی موجودگی میں ان کے باپ بھائی یا شوہر کو لاک اپ میں بند کرنے کی دھمکی یا اس پر عمل بھی کر ڈالیں۔ یہ اور اس طرح کی چارج شیٹ اور محکمہ پولیس کے بیش تر افسروں اور جوانوں کے خلاف ملک کے ایک ایک شہری سے آپ جب چاہیں سن سکتے ہیں۔
غالباً ساہیوال یا پنجاب کے کسی نواح کا یہ واقعہ بھی ریکارڈ پر لاتا چلوں کے کسی معمولی افسر نے تھانے میں کسی عورت کو اس سے شادی نہ کرنے پر ننگا اور الٹا لٹکا کر اس پر تشدد کیا اور اس کے جسم کے نازک حصوں کو سگریٹ سے داغا۔ یہ وہی پولیس والے ہیں جن سے سندھ کے کچے کے ڈاکوں یا جنوبی پنجاب میں آئے دن اغوا ہونے والوں سے نمٹنا نہیں جاتا، کبھی کوئی اغوا شدہ عورت، بچے بچیاں ان سے بازیاب نہیں ہوتے، کوئی موبائل اسنیچر پکڑا نہیں جاتا، چوری کی کوئی موٹر سائیکل رپورٹ کے بعد بھی برآمد نہیں ہوتی کیونکہ ان کے پاس ایسا کوئی میکنزم نہیں کے بازیاب ہونے والی موٹر سائیکل کی اطلاع متعلقہ شخص تک پہنچ جائے اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ان موٹر سائیکلوں کی بازیابی ان کے لیے کسی نعمت سے اس لیے کم نہیں ہوتی کے اس کے کل پرزے ان کی اپنی موٹر سائیکلوں میں استعمال ہوتے ہیں اور بعض کیسز میں پوری کی پوری موٹر سائیکل ان کی ملکیت بن جاتی ہیں۔ کتنی ہی موٹر سائیکل تھانوں کے باہر کھڑی میری بات کی دلیل اور ثبوت کے طور پر موجود ہیں ان کے اپنے محکمے میں گلو بٹ یا طیفی بٹ جیسے لوگ پروان چڑھائے جاتے ہیں جن سے یہ اپنے مطلب حاصل کرتے ہیں یا پھر ان کے ذریعے یہ اپنے عام یا سیاسی مخالفین پر رعب ڈالتے اور اپنا مقصد حاصل کرتے ہیں بسا اوقات کیا بلکہ اکثر انڈین پولیس یا تھانے کا دکھایا جانے والا کوئی منظر خود پر بیتا نظر آتا ہے۔ ایک فلم کا ایک منظر یہ بھی تھا کہ ایک تھانے کا افسر کسی مظلوم کی فریاد پر جب اسے انصاف دلانے کسی با اثر کے پاس جاتا ہے لیکن جب وہ اس کے محل سے باہر نکلتا ہے تو بجائے مظلوم کی طرف داری کے وہ اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ زیادہ پنچائیت میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہماری عید اچھی ہونے والی ہے۔
مزکورہ بالا چارج شیٹ کے بعد نہ پہلے اور نہ اب یہ بات حلق سے نیچے جاتی نظر آتی ہے کے مرید کے میں مظاہرین نے تشدد کا آغاز کیا جس کے دفاع میں پولیس کو فائرنگ کرنا پڑی اور نتیجتاً دونوں طرف کے افراد جاں بحق ہوئے۔ ماضی کے مختلف احتجاج اور دھرنوں پر پولیس کے بلا جواز کریک ڈاؤن سے کون واقف نہیں؟ اس بات میں بھی کوئی دو رائے نہیں کے تحریک نے پہلے بھی اس طرح کے دھرنے اور احتجاج اسٹیبلشمنٹ کی آشیر باد پر شروع اور ختم کیا تھا اور کیا اس کریک ڈاؤن پر ہم پنجاب پولیس کی معذرت قبول کر کے ان کی یہ خون ریزی معاف کر دیں گے؟ یا پھر اس پر کوئی شفاف انکوائری ہوگی جس کی رپورٹ پبلک ہو یا پھر اس واقعے کو بھی ایک عام واقعہ کہہ کر داخل دفتر کر دیا جائے گا۔
ایک مذہبی جماعت جس کے چاہنے والوں کی کثیر تعداد ملک کے طول عرض میں موجود ہو اور جن کی نظریاتی وابستگی تحریک کے ساتھ نہیں بلکہ ان کی اس وابستگی کو پیارے نبیؐ سے منسوب کر کے وہ اپنے کارکنان کو جذباتی حد تک لے جانے اور مرنے مارنے پر راضی کر سکتے ہوں ان کے ساتھ حکومت کے ایما پر پنجاب پولیس کا یہ نا معقول رویہ جس کی وجہ سے پچھلے کئی دنوں سے ملک بھر کے شہری محصور اور مفلوج بن کر رہ گئے ہوں مناسب کہلائے جانے کا مستحق ہے اور کیا ایک ایسی حکومت جو امریکی صدر ٹرمپ کی محبت میں بوٹ پالش تک کے روا دار ہو اور جو اس جیسے عالمی دہشت گرد کو نوبل انعام دینے کے سفارشی بھی ہو کیا ایسی حکومت کا یہ طرز عمل جبکہ ہم اپنے ازلی دشمن بھارت اور اس کے نئے دوست افغانستان کے ساتھ ایک معرکے میں گھرے ہوئے ہیں خود اپنے ملک کے امن میں خلل ڈال کر دشمنوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھانے کی دعوت دینے کے مترادف نہیں؟ کیوں نا ہم نے ان سے مذکرات اور افہام و تفہیم کا راستہ اختیار کیا؟
ہمارے عاقبت نااندیش حکمرانوں کی طرز حکمرانی دیکھ کر ذہن میں یہ بات ضرور آتی ہے کے کہیں ملک میں فساد اور افراتفری برپا کر کے پاکستان کو خاموشی کے ساتھ ابرہام ایکارڈ میں شامل کرانے کی یہ امریکی سازش تو نہیں جس کا اظہار ٹرمپ نے اسرائیل کی اسمبلی میں کیا ہے اس کی ایک دلیل اور ثبوت یہ بھی ہے کہ خود اپنے شہریوں کا نام لینے پر تو الیکٹرونک اور پرنٹ میڈیا پر پیمرا کی معرفت پابندی لگائی جائے لیکن امریکی صدر ٹرمپ کی تقریر ایک دوسرے دہشت گرد اسرائیلی صدر نیتن یاہو کی موجودگی میں ان کی اسمبلی سے پاکستان کے نشریاتی اداروں پر براہ راست دکھائی جائے۔ کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: موٹر سائیکل کے ساتھ اور اس کے لیے
پڑھیں:
صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 02 جون2026ء) صدر مملکت آصف علی زرداری نے اٹلی کے صدر سرجیو میتاریلا اور اٹلی کے عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد دیتے ہوئے اس یقین کا اظہار کیا ہے کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور اٹلی کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔(جاری ہے)
منگل کو ایوانِ صدر کے پریس ونگ کے مطابق صدر مملکت نے اپنے تہنیتی پیغام میں کہا کہ پاکستان اٹلی کے ساتھ اپنے دیرینہ دوستانہ تعلقات کو انتہائی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے جو کہ باہمی اعتماد، تعاون اور امن و خوشحالی کے لیے مشترکہ عزم پر مبنی ہیں۔
انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں یہ دوطرفہ تعلقات مزید فروغ پائیں گے۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ پاکستان یورپی یونین کے ساتھ اپنے روابط کو بہت اہمیت دیتا ہے اور بین الاقوامی تعاون، مذاکرات اور امن و استحکام کے فروغ کے لیے یورپی یونین میں اٹلی کے تعمیری کردار کو انتہائی سراہتا ہے۔ انہوں نے باہمی دلچسپی کے شعبوں میں پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات کو مزید مستحکم کرنے کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔