آرام باغ ٹریڈرز الائنس کراچی کا پہلا باضابطہ اجلاس
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی (کامرس رپورٹر) آرام باغ ٹریڈرز الائنس کراچی کا پہلا باضابطہ اجلاس گزشتہ روز منعقد ہوا،جس کی صدارت صدر آرام باغ ٹریڈرز الائنس شیخ سہیل احمدنے کی۔اجلاس میں تنظیم کے تمام عہدیداران اور تاجر برادری کے ارکان نے بھرپور شرکت کی ۔ اجلاس میں شریک عہدیداران میں سینئر وائس پریزیڈنٹ خرم دلاور، جنرل سیکریٹری وقار احمد خان،فنانس سیکریٹری کاشف مرزا ،انفارمیشن سیکریٹری عمران عبدالوہاب،آفس سیکریٹری کاشف قریشی،لا اینڈ آرڈر سیکریٹری احسان نظیراورجوائنٹ سیکریٹری وقار احمد وقار شامل تھے۔تمام ارکان نے تنظیمی معاملات، تاجر برادری کے مفادات اور مارکیٹ کے ترقیاتی اقدامات سے متعلق اپنی قیمتی تجاویز پیش کیں۔اجلاس میں خصوصی طور پر عبدالرحمن خان (کنوینر، اسمال ٹریڈرز، فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری) نے شیخ سہیل احمد کی خصوصی دعوت پر شرکت کی۔انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری چھوٹے تاجروں کے مسائل کے حل کے لیے ہر وقت سرگرم ہے اور کسی بھی سطح پر خواہ سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ، ایجنسی ہو یا قانون نافذ کرنے والے ادارے سب تاجروں کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ آئندہ بھی فیڈریشن اپنا ہر ممکن تعاون جاری رکھے گا۔اجلاس تقریباً دو گھنٹے تک جاری رہا جس میں تنظیمی اصلاحات، تاجر برادری کے اتحاد اور مارکیٹ کی ترقی کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔اختتامی کلمات میں شیخ سہیل احمد نے تمام شرکائے اجلاس کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ ان شااللہ ہماری باہمی یکجہتی، محنت اور لگن آرام باغ جیسی تاریخی مارکیٹ کو ایک عظیم تجارتی مرکز میں تبدیل کرے گی ۔ انہوں نے تمام عہدیداران کو تلقین کی کہ وہ اپنی ذمے داریاں جذبہ خدمت کے ساتھ ادا کریں اورہر ممکن طریقے سے تاجر برادری کے مسائل کے حل میں اپنا کردار نبھائیں۔انہوں نے یقین دلایا کہ آرام باغ ٹریڈرز الائنس اپنے تمام ارکان کے ساتھ ہر سطح پر مکمل تعاون جاری رکھے گا۔یہ امر قابل ذکر ہے کہ آرام باغ الیکٹرک مارکیٹ پاکستان کی سب سے قدیم اور معتبر الیکٹریکل مارکیٹ کے طور پر جانی جاتی ہے،جہاں سے ملک بھر کے تاجر اور صنعتکار طویل عرصے سے وابستہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: ا رام باغ ٹریڈرز الائنس تاجر برادری کے انہوں نے
پڑھیں:
واشنگٹن میں کیمیائی ٹینک دھماکہ: ہلاکتوں کی تعداد 11 ہوگئی، تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک کاغذ سازی کے کارخانے میں کیمیائی ٹینک پھٹنے کے واقعے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ حکام کے مطابق تمام لاپتا افراد کی لاشیں ملبے سے نکال لی گئی ہیں، جبکہ حادثے کی وجوہات اور ماحولیاتی اثرات کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات جاری ہیں۔
امریکی ریاست واشنگٹن میں ایک صنعتی تنصیب پر کیمیائی ٹینک پھٹنے کے المناک حادثے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 11 تک پہنچ گئی ہے۔ حکام نے ہفتے کے روز تصدیق کی کہ لاپتا قرار دیے گئے تمام نو افراد کی لاشیں ملبے سے برآمد کر لی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق ابتدائی طور پر حادثے کے فوراً بعد دو ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی، جبکہ دیگر افراد لاپتا ہو گئے تھے۔ امدادی اور بحالی کی ٹیموں نے پورے ہفتے متاثرہ مقام پر سرچ آپریشن جاری رکھا، جس کے دوران عمارت کے اندر ملبے کو ہٹانے کے ساتھ ساتھ ڈرونز کی مدد سے علاقے کا فضائی جائزہ بھی لیا گیا۔
کاؤلٹز 2 فائر اینڈ ریسکیو کے ڈپٹی چیف کرٹ اسٹیچ نے بتایا کہ امدادی کارکنوں نے انتہائی دشوار حالات میں ملبے کے نیچے پھنسے افراد کی تلاش جاری رکھی اور بالآخر تمام لاپتا افراد کی لاشیں برآمد کر لی گئیں۔
حادثہ منگل کے روز لانگ ویو شہر میں واقع نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ (Nippon Dynawave Packaging) کے کارخانے میں پیش آیا، جہاں ’وائٹ لِکر‘ نامی کیمیائی محلول سے بھرا ایک بڑا ٹینک اندرونی دباؤ کے باعث پھٹ گیا تھا۔ یہ محلول سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ اور سوڈیم سلفائیڈ پر مشتمل ہوتا ہے اور کاغذ کے گودے (Paper Pulp) کی تیاری میں استعمال کیا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق متاثرہ ٹینک میں تقریباً 9 لاکھ گیلن (34 لاکھ لیٹر) کیمیائی محلول موجود تھا۔ بعد ازاں کیے گئے ٹیسٹوں سے یہ بات سامنے آئی کہ کچھ مقدار قریبی دریائے کولمبیا تک پہنچ گئی تھی، تاہم اب تک فضائی معیار یا لانگ ویو شہر کے پینے کے پانی پر کسی منفی اثرات کی نشاندہی نہیں ہوئی۔
نپون ڈائنو ویو پیکیجنگ جاپان کی دوسری بڑی کاغذ ساز کمپنی Nippon Paper Industries کی مکمل ملکیتی ذیلی کمپنی ہے۔ جاپانی کمپنی نے 2016 میں سیئٹل کی لکڑی اور جنگلاتی مصنوعات تیار کرنے والی کمپنی Weyerhaeuser سے لانگ ویو کا یہ پلانٹ 225 ملین ڈالر میں خریدا تھا۔
حکام نے کہا ہے کہ حادثے کی مکمل تحقیقات جاری ہیں اور اس بات کا تعین کیا جا رہا ہے کہ ٹینک کے اندر دھماکے یا انہدام کی اصل وجہ کیا تھی۔ ساتھ ہی ماحولیاتی ماہرین بھی قریبی علاقوں میں ممکنہ آلودگی کے اثرات کا مسلسل جائزہ لے رہے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں