پنجاب کے تمام ٹول پلازوں پر پرچی سسٹم ختم، مکمل ڈیجیٹائزیشن کا فیصلہ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی زیر صدارت ایک خصوصی اجلاس منعقد ہوا جس میں صوبے کے ترقیاتی منصوبوں پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ اجلاس میں ٹرانسپورٹ، تعمیرات، توانائی کی بچت اور شہری خوبصورتی کے منصوبوں پر پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ پنجاب کے تمام ٹول پلازوں پر پرچی کا نظام ختم کر کے مکمل ڈیجیٹائزیشن متعارف کرائی جائے گی۔ اب 38 ٹول پلازوں پر موٹروے کی طرز پر ’’ون ایپ، ون سسٹم‘‘ کا نفاذ کیا جائے گا، تاکہ عوام کو سہولت، شفافیت اور تیز رفتار آمدورفت میسر ہو اجلاس میں صوبے کی پانچ بڑی سڑکوں کی تعمیر، مرمت اور بحالی کے منصوبوں کے لیے پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کی منظوری دی گئی۔ اس اقدام کے تحت نجی ادارے حکومت کے ساتھ اشتراک میں کام کریں گے، جس سے اخراجات میں کمی اور منصوبوں کی رفتار میں بہتری کی توقع ہے۔بریفنگ میں بتایا گیا کہ پنجاب میں ای ٹینڈرنگ کے نظام سے 40 ارب روپے کی نمایاں بچت ہوئی ہے، جسے ایک بڑی حکومتی کامیابی قرار دیا جا رہا ہے۔وزیراعلیٰ نے نئی تعمیر ہونے والی تمام سڑکوں پر سولر اسٹریٹ لائٹس لگانے کی ہدایت کی، تاکہ توانائی کی بچت ہو اور ماحول دوست نظام کو فروغ دیا جا سکے۔ لاہور کی بیوٹیفکیشن کے لیے بھی متعدد منصوبوں کی منظوری دی گئی، جن میں ریلوے اسٹیشن، داتا دربار، مصری شاہ، ایک موریہ اور دو موریہ پل کی تزئین و آرائش شامل ہے۔ریلوے اسٹیشن کے سامنے واقع پارک میں خوبصورت فوارہ اور بچوں کے لیے منی ٹرین چلانے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ اسٹیشن کے اردگرد تین کلومیٹر کے دائرے میں نئی سڑکوں اور فٹ پاتھوں کی تعمیر کا بھی فیصلہ کیا گیا۔ اجلاس میں سی اینڈ ڈبلیو اور ایل ڈی اے کے جاری منصوبوں پر پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ حالیہ سیلاب سے متاثرہ 54 بڑے اور 142 چھوٹے پلوں سمیت 858 سڑکیں مکمل طور پر بحال کر دی گئی ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ 93 کلومیٹر طویل ملتان-وہاڑی روڈ کو پنجاب کی پہلی ڈسٹ فری سڑک بنایا جا رہا ہے جو جون 2026 تک مکمل ہوگی۔ اسی طرح قائداعظم انٹرچینج سے واہگہ بارڈر تک ٹورازم کوریڈور بھی اسی مدت میں مکمل کر لیا جائے گا۔ پنجاب بھر میں 5251 کلومیٹر طویل سڑکوں کے 2341 منصوبے دسمبر 2025 میں شروع کیے جائیں گے، جنہیں جون 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
پڑھیں:
جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
جرمنی کی وفاقی وزارت داخلہ نے اعلان کیا ہے کہ یکم اگست 2026 یا اس کے بعد توسیع کیے جانے والے افغان پاسپورٹس کو جرمنی میں درست سفری دستاویز کے طور پر تسلیم نہیں کیا جائے گا۔
وزارت داخلہ کی ترجمان ایلینا سنگر نے افغانستان انٹرنیشنل کو جاری بیان میں کہا کہ یہ فیصلہ افغان سفارتی مشنز میں پاسپورٹ کے حصول کے طریقہ کار میں ہونے والی تبدیلیوں، بین الاقوامی قانونی تقاضوں اور بین الاقوامی شہری ہوا بازی تنظیم (ICAO) کی سفارشات کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ جرمنی کے رہائشی قانون (Residence Act) کی دفعہ 3(1) کے تحت ملک میں داخل ہونے یا رہائش اختیار کرنے والے غیر ملکیوں کے لیے لازم ہے کہ ان کے پاس ایک درست اور تسلیم شدہ پاسپورٹ یا اس کے متبادل منظور شدہ سفری دستاویز موجود ہو۔
وزارت داخلہ نے واضح کیا کہ یکم اگست 2026 سے پہلے توسیع کیے گئے افغان پاسپورٹس اس نئی پالیسی سے متاثر نہیں ہوں گے اور بدستور قابل قبول رہیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ جرمنی میں اپنے رہائشی اجازت نامے (ریذیڈنس پرمٹ) کی تجدید کے خواہش مند افغان شہریوں کو بھی ایک درست اور تسلیم شدہ سفری دستاویز پیش کرنا ہوگی۔
تاہم جرمنی کے مقامی امیگریشن حکام ہر درخواست کا انفرادی بنیادوں پر جائزہ لیتے رہیں گے تاکہ یہ طے کیا جا سکے کہ متعلقہ افغان شہری کے لیے افغان سفارتی مشن سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن اور مناسب ہے یا نہیں۔
اگر متعلقہ اتھارٹی اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ کسی افغان شہری کے لیے افغان سفارت خانے یا قونصل خانے سے پاسپورٹ حاصل کرنا ممکن یا مناسب نہیں، تو ایسے فرد کو ٹریول ڈاکیومنٹ فار فارنرز (غیر ملکیوں کے لیے سفری دستاویز) جاری کی جا سکتی ہے۔
جرمن وزارت داخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ 1951 کے جنیوا ریفیوجی کنونشن کے تحت تسلیم شدہ افغان مہاجرین کو افغان سفارتی مشنز سے رجوع کرنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔ ایسے افراد جرمنی کے قانونی تقاضے پورے کرنے کے لیے ریفیوجی ٹریول ڈاکیومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
وزارت کے مطابق اس وقت یہ اندازہ لگانا ممکن نہیں کہ نئی پالیسی سے کتنے افغان شہری متاثر ہوں گے، تاہم نئے افغان پاسپورٹس کے اجرا کے لیے درخواستیں بدستور دی جا سکتی ہیں۔
جرمن وزارت داخلہ نے یہ بھی واضح کیا کہ اس فیصلے کا جرمنی میں طالبان کی جانب سے مقرر کردہ سفارتی عملے کی موجودگی یا افغان شہریوں کی ملک بدری سے متعلق جرمن حکومت کے پروگرام سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں