ترکی اور عراق کی شدید مخالفت کی وجہ سے نیتن یاہو نے غزہ سمٹ میں شرکت منسوخ کردی، رپورٹ
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
ترکی اور عراق کی جانب سے اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامین نیتن یاہو کی شرکت کی مخالفت کے بعد انہوں نے مصر میں ہونے والی غزہ سمٹ میں اپنی شرکت منسوخ کردی۔
اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق، ترکی کی سفارتی کوششوں کے نتیجے میں دیگر رہنماؤں کی حمایت کے ساتھ نیتن یاہو نے اجلاس میں شرکت نہیں کی۔
یہ بھی پڑھیے: غزہ امن معاہدہ: اسرائیلی اجلاس کے دوران نیتن یاہو کا مودی سے رابطہ
غزہ کی جنگ ختم کرنے کے معاہدے پر دستخط کے لیے عالمی رہنما مصر کے ساحلی شہر شرم الشیخ میں جمع ہوئے جہاں اس اجلاس کی مشترکہ صدارت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے کی۔
ابتدائی طور پر مصری صدارت نے نیتن یاہو کی شرکت کی تصدیق کی تھی، تاہم تقریباً 40 منٹ بعد اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر نے اعلان کیا کہ وہ یہودی تہوار سمحات تورہ کی وجہ سے شرکت نہیں کر سکیں گے۔
ترک میڈیا کے مطابق، صدر اردوان کو نیتن یاہو کی متوقع آمد کی اطلاع اس وقت ملی جب وہ شرم الشیخ پہنچنے والے تھے۔ ان کے طیارے نے سرخ سمندر کے اوپر چکر لگایا اور اس وقت تک لینڈنگ نہیں کی جب تک یہ تصدیق نہ ہو گئی کہ نیتن یاہو اجلاس میں شریک نہیں ہوں گے۔
دوسری جانب، عراقی وزیرِ اعظم شیا السودانی کے مشیر علی الموسوی نے اے ایف پی کو بتایا کہ عراق نے واضح کر دیا تھا کہ اگر نیتن یاہو شریک ہوئے تو عراقی وفد اجلاس میں شامل نہیں ہوگا۔
یہ بھی پڑھیے: مشرق وسطیٰ میں امن کی جانب بڑا قدم، امریکا اور ثالثوں نے غزہ جنگ بندی معاہدے پر دستخط کردیے
انہوں نے کہا کہ عراق نے اپنا مؤقف واضح طور پر مصر کو بتا دیا تھا اور دیگر کئی وفود نے بھی عندیہ دیا کہ وہ نیتن یاہو کی موجودگی میں اجلاس چھوڑ دیں گے۔
ان کے مطابق، اس کے بعد قاہرہ نے نیتن یاہو کو آگاہ کیا کہ انہیں اجلاس میں خوش آمدید نہیں کہا جا سکتا جس کے نتیجے میں ان کی شرکت منسوخ کر دی گئی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اسرائیل جنگ بندی معاہدہ دستخط غزہ فلسطین.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اسرائیل جنگ بندی معاہدہ فلسطین نیتن یاہو کی اجلاس میں
پڑھیں:
وفاقی بجٹ 5 جون کو پیش نہیں کیا جائیگا
وفاقی دارالحکومت اسلام آباد سے بڑی سیاسی اور معاشی پیش رفت سامنے آئی ہے. جہاں حکومت نے آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی تاریخ تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ اب 5 جون کو پیش نہیں کیا جائے گا۔اس تاخیر کی بنیادی وجہ قومی اقتصادی کونسل (NEC) کا اہم ترین اجلاس ملتوی ہونا ہے، جو پہلے 3 جون کو شیڈول تھا۔حکومت کی جانب سے اس اجلاس کی منسوخی کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ذرائع کا بتانا ہے کہ فی الحال وفاعل بجٹ پیش کرنے کی کسی حتمی نئی تاریخ کا تعین تو نہیں ہو سکا.تاہم اب بجٹ 8 یا 12 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان ہے۔سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق، قومی اقتصادی کونسل کے اس اہم اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا. جس کے بعد ہی بجٹ کی حتمی تاریخ سامنے آ سکے گی۔