نیو دہلی:

مشہورموسیقار اے آر رحمان نے بالی وڈ کی 2008 کی مشہور فلم جودھا اکبر کے دل کو چھولینے والے گانے خواجہ میرے خواجہ کے بارے میں انکشاف کرتے ہوئے اس کی تیاری اور پس منظر سمیت تفصیلات سے پہلی بار مداحوں کو آگاہ کردیا۔

بھارتی ویب سائٹ کی رپورٹ کے مطابق  اے آر رحمان نے حال ہی میں ایک انٹرویو میں اپنے مشہور گانے خواجہ میرے خواجہ اور فلم سلم ڈاگ ملینیئر کے لیے ملنے والے آسکر ایوارڈ پر بات کی۔

اے آر رحمان نے خواجہ میرے خواجہ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال پر انکشاف کیا کہ یہ گانا دراصل فلم جودھا اکبر کے لیے نہیں لکھا گیا تھا جیسا اکثر لوگ سمجھتے ہیں بلکہ اس گانے کو مختلف منصوبے کے لیے ترتیب دیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ میں ایک دفعہ اجمیر گیا تھا تو وہاں ایک خادم نے کہا کہ آپ خواجہ پر کوئی نعت کیوں نہیں بناتے اور آپ نے ابھی تک نہیں بنائی، آپ نے تو پیا حاجی علی بنایا تھا، جس پر میں نے جواب دیا کہ پتا نہیں، اس پر خیال نہیں آیا آپ دعا کریں کہ کوئی خیال آجائے۔

اے آر رحمان نے خواجہ میرے خواجہ کے پس منظر کی کہانی سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ آسٹریلیا جاتے ہوئے دوران پرواز ایک رومانوی دھن بنانے کی کوشش کر رہا تھا لیکن کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا تو اسی دوران خواجہ صاحب کے نام ایک نعت بنانے کا فیصلہ کیا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس کی دھن خود اے آر رحمان نے ریکارڈ کی اور اس کے بول کاشف سے لکھوائے اور بعد میں جب ہدایت کار آشوتوش گواریکر نے فلم جودھا اکبر کے لیے رابطہ کیا، تو انہیں یہ نعت پیش کی۔

اے آر رحمان نے بتایا کہ ابتدا میں گواریکر صرف چند مصرعے لینا چاہتے تھے لیکن انہیں پورا گانا شامل کرنے پر قائل کر لیا۔

ان کا کہنا تھا کہ آشوتوش گواریکر نے پوری نعت سننے کے بعد ہاتھ تھام لیا اور زور دیتے رہے کہ یہ گانا مجھے دے دو، پھر میں نے ہانمی بھری لیکن یقینی بنایا کہ اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوگی۔

انہوں نے مزید کہا کہ پھر دو سال بعد مجھے آسکر مل گیا اور یہ سب خواجہ میرے خواجہ کی برکتیں تھیں۔

یاد رہے کہ بالی وڈ کی مشہور فلم جودھا اکبر 2008 میں ریلیز ہوئی تھی، جس کے ہدایت کار آشوتوش گواریکر تھے، فلم میں ریتک روشن نے مغل بادشاہ اکبر کا کردار ادا کیا تھا اور ایشوریا رائے نے ان کی راجپوت بیوی جودھا بائی کا کردار نبھایا تھا۔

بالی وڈ کی یہ فلم کامیاب ثابت ہوئی تھی اور دنیا بھر میں 107 کروڑ روپے سے زائد کمایا تھا، رپورٹس کے مطابق جودھا اکبر کو 2000 کی دہائی کی سب سے یادگار اور شان دار فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔

TagsShowbiz News Urdu.

ذریعہ

ذریعہ: Al Qamar Online

کلیدی لفظ: نے خواجہ میرے خواجہ فلم جودھا اکبر اے آر رحمان نے کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • بدقسمت خواجہ سرا۔۔۔؟
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان کا موقف اور خطے میں امن کا تقاضا
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • عوامی مسائل کے حل میں تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی، ضیاء الحسن لنجار
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف
  • حیسکو میں گھوسٹ، ریٹائرڈ ملازمین کی تنخواہ کے نام پر 1 ارب 6 کروڑ روپے کی خرد برد کا انکشاف