کشمیر اور غزہ کے مسئلے پر خطے میں امن کے لیے کلیدی حیثیت رکھتے ہیں، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 21st, November 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
اسلام آباد: نائب وزیر اعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ تقسیم اور طاقت کی دوڑ خطے اور دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ مصنوعی ذہانت دنیا کے جغرافیائی اور اقتصادی نقشے کو بدل رہی ہے، اور پاکستان کے لیے اقوام متحدہ کے اصولوں کی پاسداری اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ بعض عناصر خطے کا امن تباہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
انہوں نے جموں وکشمیر کے معاملے پر زور دیا کہ مسئلہ کشمیر کا پرامن حل کشمیری عوام کی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے، کیونکہ اس مسئلے کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم کرنا ممکن نہیں۔
اسحاق ڈار نے غزہ میں جاری مظالم اور فلسطینی زمینوں پر غیر قانونی قبضے کو فوری بند کرنے کا مطالبہ بھی کیا، سی پیک اور یورپی یونین کے گلوبل گیٹ وے منصوبے کے ذریعے سبز اور ڈیجیٹل کوریڈورز کو فعال کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے خطے میں ترقی، استحکام اور امن کے لیے مضبوط بین الاقوامی تعاون اور حکمت عملی اپنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
مہاجرین کی نشستوں کے مستقبل پر بڑا فیصلہ قریب، اہم پیش رفت سامنے آگئی
مظفرآباد: مہاجرین کی نشستیں آزاد جموں و کشمیر کی سیاست میں ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہیں، جہاں ان نشستوں کے مستقبل سے متعلق اہم پیش رفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے اس معاملے پر نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے مکمل خاتمے کے بجائے نشستوں کی تعداد میں کمی کی تجویز پر غور شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وادی کشمیر سے تعلق رکھنے والے مہاجرین کی چھ نشستیں کم کرنے کی ابتدائی تجویز زیر غور ہے۔ اس پیش رفت کو انتخابی اصلاحات کے حوالے سے ایک اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے، جس سے طویل عرصے سے جاری سیاسی بحث کو کسی نتیجے تک پہنچانے میں مدد مل سکتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق وفاقی حکومت جلد آزاد کشمیر کی قیادت کو اپنے مؤقف سے آگاہ کرے گی۔ اس سلسلے میں وزیراعظم آزاد کشمیر کی جانب سے جوائنٹ پبلک ایکشن کمیٹی سے رابطے کا بھی امکان ظاہر کیا جا رہا ہے تاکہ مختلف سیاسی اور سماجی حلقوں کو اعتماد میں لیا جا سکے۔
دوسری جانب آزاد کشمیر میں انتخابی اصلاحات کے موضوع پر کل ہونے والی آل پارٹیز کانفرنس بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گئی ہے۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ مہاجرین کی نشستیں کم کرنے کی تجویز پر اتفاق رائے پیدا ہونے سے انتخابی نظام میں اصلاحات کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر مختلف سیاسی جماعتوں اور اسٹیک ہولڈرز کے درمیان مشاورت جاری ہے، جبکہ وفاقی حکومت بھی ایسا حل تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو تمام فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
سیاسی حلقوں کا ماننا ہے کہ اگر اس معاملے پر اتفاق رائے پیدا ہو جاتا ہے تو یہ آزاد کشمیر کی سیاسی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہو سکتا ہے۔