اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے شرم الشیخ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کی وجہ بتاتے ہوئے کہا کہ یہ اجلاس حقیقی معنوں میں بین الاقوامی نہیں تھا جبکہ ایران کی جانب سے اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا مطلب سفارتکاری کا موقع ضائع کر دینا بھی نہیں ہے۔ اسلام ٹائمز۔ اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ریڈیو گفتگو سے بات چیت کرتے ہوئے شرم الشیخ اجلاس اور دیگر علاقائی اور بین الاقوامی ایشوز کے بارے میں ایران کا سرکاری موقف واضح کیا ہے۔ انہوں نے پروگرام کے شروع میں ایران کی جانب سے شرم الشیخ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کے فیصلے کے بارے میں کہا: "یہ اجلاس حقیقی معنوں میں بین الاقوامی نہیں تھا اور نہ ہی اقوام متحدہ کی زیر نگرانی منعقد ہوا تھا جبکہ اس میں تمام ممالک کو شرکت کی دعوت بھی نہیں دی گئی تھی۔ اس اجلاس میں مخصوص ممالک یا بین الاقوامی تنظیموں سے کل تیس کے قریب وفد شریک تھے۔ چین اور روس سمیت بہت سے ممالک کو شرکت کی دعوت بھی نہیں دی گئی تھی۔" انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی اولین ترجیح غزہ میں بے گناہ فلسطینیوں کا قتل عام اور نسل کشی کی روک تھام قرار دیا اور کہا: "ہم نے ہمیشہ سے اس بات پر زور دیا ہے کہ انسانی سانحے کا خاتمہ، جلاوطن فلسطینیوں کی واپسی، غزہ کی عوام کو پناہ گاہیں فراہم کرنا اور غاصب صیہونی فوج کا انخلاء ایجنڈے میں سرفہرست ہونا چاہیے۔ یہ سانحہ جو گذشتہ دو سال تک انجام پایا ہے صرف بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہی نہیں بلکہ اخلاق اور انسانیت کی بھی کھلی خلاف ورزی تھی۔"
 
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے اس سوال کے جواب میں کہ کیا شرم الشیخ اجلاس میں شرکت نہ کرنے کا مطلب سفارت کاری کا ایک موقع گنوا دینا نہیں تھا؟ کہا: "بالکل بھی ایسا نہیں ہے اور بین الاقوامی سطح پر سفارت کاری صرف اجلاسوں میں شرکت تک محدود نہیں ہوتی۔ بعض اوقات درست اور دقیق جائزے کے بغیر کسی اجلاس میں شرکت ملک کی پوزیشن کو نقصان پہنچنے کا باعث بنتی ہے۔ ہم پر صرف چند ماہ قبل امریکہ نے غیر قانونی اور مجرمانہ فوجی حملہ کیا ہے جبکہ غاصب صیہونی رژیم نے بھی امریکہ کی جانب سے سبز جھنڈی دکھائے جانے پر اور اس کے تعاون سے ایران پر جارحیت کی ہے۔ لہذا فطری بات ہے کہ ہم ایسے اجلاس میں شرکت نہیں کر سکتے جس کی سربراہی ایسے شخص کے ہاتھ میں ہو جو اس مجرمانہ جارحیت پر فخر کا اظہار کرتا ہے۔" اسماعیل بقائی نے خطے میں امن منصوبے سے متعلق تاریخی تحفظات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا: "گذشتہ ایک صدی کے دوران مسئلہ فلسطین کے بارے میں کئی امن منصوبے پیش کیے جا چکے ہیں لیکن ان سب کا نتیجہ فلسطینی عوام کے حقوق کے مزید ضیاع کی صورت میں ظاہر ہوا ہے۔ آج ہم انہیں کے نتائج بھگت رہے ہیں جن میں قومی صفایا کا عمل، 70 ہزار سے زیادہ بے گناہ انسانوں کا قتل اور 90 فیصد غزہ کا مٹی کے ڈھیر میں تبدیل ہو جانا شامل ہیں۔ جب تک فلسطینی قوم کا اپنی تقدیر خود واضح کرنے کا حق نہیں مانا جاتا اس وقت تک حقیقی امن پیدا نہیں ہو سکتا۔"
 
اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہ سفارت کاری میں تعطل پیدا نہیں ہو گا، مزید کہا: "اسلامی جمہوریہ ایران نے گذشتہ چند دہائیوں کے دوران شاید ہر دوسرے ملک سے زیادہ سفارت کاری انجام دی ہے۔ ہم نے اپنے قومی مفادات کے تحفظ اور عالمی امن اور سلامتی کے فروغ کے لیے ہمیشہ سے سفارت کاری کا استعمال کیا ہے۔ یہ حقیقت کہ ہمیں سفارت کاری کے ایک عمل کے دوران غیر قانونی فوجی جارحیت کا نشانہ بنایا گیا ہے، تاریخ میں ثبت ہو جائے گی۔ دوسری طرف ایرانی قوم نے اپنی ملکی سالمیت کا دفاع کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ ضرورت پڑنے پر پوری طاقت سے اپنا دفاع کرنا جانتی ہے۔ سفارت کاری کبھی بھی تعطل کا شکار نہیں ہو گی اور آئندہ بھی ہم ملکی مفادات کے تناظر میں اس کا استعمال جاری رکھیں گے۔" انہوں نے آخر میں ایک بار پھر بین الاقوامی سطح پر اسلامی جمہوریہ ایران کے مستقل اور اصولی موقف پر زور دیتے ہوئے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے وزارت خارجہ کی سرگرمیوں کو سراہا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: اسلامی جمہوریہ ایران کی اجلاس میں شرکت نہ کرنے وزارت خارجہ کے ترجمان شرم الشیخ اجلاس بین الاقوامی سفارت کاری نہیں ہو کی جانب

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایرانی اثاثے ضبط کرنے کی ٹرمپ کی دھمکی خطرناک نظیر ہے، عباس عراقچی کا سخت ردعمل
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • انفرااسٹرکچر پر امریکی حملوں کا جواب شدید اور وسیع ہوگا، ایران
  • ایران نے فوجی اڈوں کے استعمال پر برطانیہ کو سخت وارننگ دے دی
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کا اجلاس،فلم "بلھا" پر پابندی یا نام تبدیلی کی سفارش، صحافیوں کے ہاؤسنگ کوٹے اور پیکا کیسز پر اہم فیصلے