data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) امیر جماعت اسلامی ضلع غربی مدثر حسین انصاری نے کہا ہے کہ اورنگی ٹاؤن اور ضلع غربی کے عوام آج شدید ترین بلدیاتی تباہ حالی کا سامنا کر رہے ہیں، گلیاں و سڑکیں کھنڈر بن چکی ہیں، گٹر اْبل رہے ہیں اور صفائی ستھرائی کا کوئی نظام باقی نہیں رہا۔انہوں نے کہا کہ میئر کراچی مرتضیٰ وہاب اور سندھ حکومت نے پورے شہر کو کچرے، تعفن اور ٹوٹی سڑکوں کا نمونہ بنا دیا ہے، مگر دعوے ترقی کے کیے جا رہے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پیپلز پارٹی کے زیرِ انتظام بلدیاتی ادارے مکمل ناکام ہو چکے ہیں، اور شہر قائد کا ہر ضلع حکومتی نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔مدثر حسین انصاری نے کہا کہ اورنگی ٹاؤن میں سڑکوں کی مرمت کے نام پر صرف نمائشی کارروائیاں کی جا رہی ہیں، بیشتر علاقوں میں برساتی نالے ابل رہے ہیں، عوام خود مزدوروں کی طرح صفائی کرانے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے کہا کہ قبضہ چیئرمین جمیل ضیا ڈاہری نے عوامی مسائل سے نظریں چرا رکھی ہیں، ان کی عدم دلچسپی نے پورے ضلع غربی کو گندگی کے ڈھیر میں بدل دیا ہے۔ امیر جماعت اسلامی ضلع غربی نے مزید کہا کہ سندھ حکومت نے عوامی فنڈز کو سیاسی مفادات کے لیے استعمال کیا، بجٹ صرف اشتہارات میں نظر آتا ہے، عوامی ریلیف زمین پر کہیں دکھائی نہیں دیتا۔ جماعت اسلامی کراچی کے عوام کے ساتھ ہے، ہم ہر گلی، ہر محلے میں عوامی مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کرتے رہیں گے۔انہوں نے کہا کہ اگر حکومت نے فوری طور پر ضلع غربی میں سڑکوں، صفائی، نکاسی آب اور بنیادی سہولتوں کی بحالی کا کام شروع نہ کیا تو جماعت اسلامی عوام کے ساتھ سڑکوں پر احتجاج کرے گی۔ کراچی کا شہری مزید دھوکے برداشت نہیں کرے گا۔

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی نے کہا کہ رہے ہیں

پڑھیں:

میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت

لندن کے میئر سر صادق خان(sadiq khan) نے 16 سال سے کم عمر بچوں کے لیے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو آن لائن دنیا میں درپیش خطرات اور نقصانات سے بچانے کے لیے یہ ایک ضروری اقدام ہے۔

منگل کو لندن میں انجینئرز، کاروباری شخصیات اور سرمایہ کاروں سے خطاب کے دوران صادق خان نے کہا کہ جس طرح خوراک اور ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کو اپنی مصنوعات کی حفاظت ثابت کرنا پڑتی ہے، اسی طرح سوشل میڈیا کمپنیوں کو بھی اپنے پلیٹ فارمز کے بچوں کے لیے محفوظ ہونے کا ثبوت دینا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ جب تک سوشل میڈیا کمپنیاں اپنے پلیٹ فارمز کی حفاظت ثابت نہیں کرتیں، اس وقت تک کم عمر بچوں کے لیے ان پر پابندی عائد کرنا ہی نقصانات کو روکنے کا مؤثر طریقہ ہے۔

میئر نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ آن لائن مینوسفیئر نامی رجحان نوجوان لڑکوں اور مردوں پر منفی اثرات مرتب کر رہا ہے، جس سے ایک کھوئی ہوئی نسل پیدا ہونے کا خطرہ ہے۔

یہ مؤقف برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر کے مؤقف سے زیادہ سخت سمجھا جا رہا ہے، اگرچہ وزیر اعظم نے بچوں کی آن لائن حفاظت کے لیے اہم اقدامات کا وعدہ کیا ہے، تاہم انہوں نے ابھی تک سوشل میڈیا پر مکمل پابندی کی حمایت نہیں کی۔

برطانوی حکومت نے حال ہی میں بچوں کے آن لائن تحفظ سے متعلق ایک مشاورتی عمل مکمل کیا ہے، جس میں سوشل میڈیا کے لیے کم از کم عمر مقرر کرنے، ایپس کے استعمال کے اوقات محدود کرنے، لا محدود اسکرولنگ اور آٹو پلے جیسی عادت ساز خصوصیات پر پابندی لگانے اور عمر کی تصدیق کے سخت نظام متعارف کرانے جیسے اقدامات پر رائے طلب کی گئی تھی۔

مزید پڑھیں:نیشنل ہیلتھ سروسز کیلئے 22 ارب روپے کا بجٹ مختص، اہم تفصیلات سامنے آگئیں

مشاورت کے نتائج کی بنیاد پر حکومت بچوں کے تحفظ کے لیے آئندہ پالیسی اور قانون سازی کے حوالے سے فیصلے کرے گی۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • گلگت میں ن لیگ کے ترقیاتی کاموں کا کوئی جماعت مقابلہ نہیں کرسکتی، احسن اقبال
  • گلگت بلتستان کی سڑکوں کی خستہ حالی دیکھ کر شدید دکھ ہوا، نواز شریف
  • فلاحی ریاست کا درس دینے والے غریبوں کے وظیفے پر سیخ پا کیوں؟ سعدیہ جاوید
  • مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
  • نیشنل کانفرنس کی حکومت ہر محاذ پر ناکام ہو چکی ہے، غلام علی کھٹانہ
  • سندھ بلڈنگ، کراچی میں غیر قانونی کمرشلائزیشن کا طوفان
  • کراچی: ہل پارک سے متصل متنازع پلاٹ پر تعمیرات کے معاملے پر میئر کراچی نے وفاقی حکومت کو خط لکھ دیا
  • دعا گو ہیں جنگ کے خاتمے کیلئے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں، بلاول بھٹو
  • میئر لندن، 16 سال سے کم عمر بچوں کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کی حمایت