data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان اور نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینوں پر مشتمل وفد نے وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ سے ملاقات کی، جس میں شہر کے بڑھتے ہوئے بلدیاتی مسائل، عوامی مشکلات، اور انتظامی نااہلی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ملاقات میں نائب امیر کراچی سلیم اظہر سمیت دیگر ذمہ داران بھی شریک تھے, وفد نے وزیر بلدیات کو شہر میں پانی، سیوریج، صفائی، ٹوٹی سڑکوں اور غیر قانونی تعمیرات جیسے سنگین مسائل سے آگاہ کیا۔

سیف الدین ایڈووکیٹ نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی کارکردگی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، شہر کے 50 فیصد علاقے پانی سے محروم ہیں، سیوریج نظام تباہ حالی کا شکار ہے اور یوسیز کو واٹر کارپوریشن کے ناکام کام خود انجام دینے پڑ رہے ہیں حالانکہ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔

انہوں نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بھی عوامی خدمت میں ناکام ثابت ہوا ہے، صفائی کے لیے عملہ نہایت کم تعداد میں تعینات ہے، جب کہ یہ ادارے منتخب نمائندوں کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں، جس کے باعث مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔

وفد نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ صوبائی اور ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کی اسکیموں میں ٹاؤن اور یوسی چیئرمینوں کی تجاویز شامل نہیں کی جاتیں، نہ ہی ان منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اربوں روپے کے منصوبے غیر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں اور عوام ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے۔

جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینوں نے K-4 منصوبے، کریم آباد انڈر پاس، اور ریڈ لائن بی آر ٹی کی تاخیر پر بھی شدید تشویش ظاہر کی، اور کہا کہ ان منصوبوں کی بد انتظامی سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی طرح وفد نے شہر بھر میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی تعمیرات اور ایس بی سی اے کی مبینہ سرپرستی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے سخت کارروائی کی جائے۔

وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی تجاویز کو سراہاتے ہوئے  کہا کہ بعض امور میں جماعت اسلامی کے تعاون کی ضرورت ہے، خاص طور پر اداروں کے باہمی رابطے، قانون سازی، اور پالیسی میں بہتری کے حوالے سے۔

آخر میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اُمید ظاہر کی کہ اگر باہمی رابطہ اور تعاون بڑھایا جائے تو کراچی کے عوامی مسائل کے حل میں نمایاں پیشرفت ممکن ہے۔

ویب ڈیسک وہاج فاروقی.

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے وفد نے کہا کہ

پڑھیں:

بجلی کے شعبے میں مسائل کے حل کیلئے عوامی ہیلپ لائن 118 کا افتتاح

سٹی 42 : بجلی کے شعبے میں مسائل کے حل کے لئے عوامی ہیلپ لائن 118 کا افتتاح کردیا گیا۔ 

وزیر توانائی سردار اویس لغاری نے ہیلپ لائن کا افتتاح کیا، بتایا گیا ہے کہ ہیلپ لائن کے ذریعے بجلی کے شعبے کی شکایات فری درج کرائی جاسکیں گی، ہیلپ لائن کے ذریعے شکایات ٹریک اینڈ ٹریس بھی ہوسکیں گی۔ صارفین نمائندے کی بجائے براہ راست سسٹم میں شکایت سرج کراسکیں گے۔ 

صارفین سات مختلف زبانوں میں شکایات درج کراسکیں گے، شکایت کاازالہ ہونے پر متعلقہ صارف کو روبوٹک فیڈ بیک کال کی جائے گی۔ شکایت کا ازالہ نہ ہونے پر وہ شکایت دوبارہ ایکٹو ہوجائے گی۔ 

پاکستان نے افغانستان سے تاجکستان سرحد پر چینی شہریوں پرحملہ بزدلانہ فعل قرار دیدیا  

وفاقی وزیر پاور اویس لغاری نے اپ گریڈ شدہ ہیلپ لائن 118 کی لانچنگ تقریب سے خطاب کے دوران کہا کہ اس سسٹم کے تحت شکایات سامنے آئیں گی، اس نظام سے پاور سیکٹرمیں خوداحتسابی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ وزیراعظم فیلڈ مارشل اور حکومتیں شامل حال نہ ہوتیں توبہت کچھ حاصل نہ کرپاتے، آج کے بعد ایک ایک نااہلی سامنے آئے گی جسکی ذمہ داری ہمیں اٹھانی ہوگی، ذمہ داری کے بعد کچھ اقدامات کرنا ہوں گے۔ 

 اویس لغاری نے کہا کہ میرے گھر کی بجلج جاتی تھی تو کال اٹھانے والا کوئی نہیں ہوتا تھا، ہم نے لوگوں کو اس سسٹم سے آزاد کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ممبران اسمبلی ٹرانسفرز کا اس لئے کہتے ہیں تاکہ ان کے کام ہوسکیں، کوشش کررہے کہ سب کو برابری کی سطح پر کھڑا کریں۔ وزارت توانائی میں شفافیت کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جب تک ہم خود کو ایکسپوز نہیں کریں گے خود احتسابی نہیں ہو سکتی۔ 

شہر کی فضا بدستور آلودہ،سول سیکرٹریٹ میں آلودگی کی شرح خطرناک حد سے تجاوز کر گئی

وزیر توانائی نے بتایا کہ ہیلپ لائن کے اس پروگرام میں لائن مین تک سب کی غلطیاں سامنے آئیں گی، اپنی غلطیوں کی ذمہ داری بھی ہمیں ہی اٹھانی پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ میں خود 2017 سے 2018 اسی محکمے کا وزیر رہا ہوں۔ شکایات کے ازالے مصبیت سے نکلنے کیلئے یہ بہترین اقدام ہے، ہمارے سیاسی ڈیروں پر پولیس سے زیادہ بجلی کی شکایات آتی ہے۔ 

وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا کہ ملک میں جتنے بجلی صارفین ہیں ان سب تک اس اقدام کا اثر جائے گا، سی ای اوز سے اپیل ہے کہ اسس سسٹم کو کامیاب بنائیں، سسٹم کی کامیابی کے بعد کمپنیوں کے لوگوں کو جتنا ممکن ہوا ایوارڈ کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہم ڈسکوز اور ڈیٹا گیدرنگ پر انحصار کررہے ہیں، اور ڈیٹا میں ہیر پھیر ہوا تو اس سسٹم کا کوئی فائدہ نہیں۔ 

بلوچستان میں نان کسٹم پیڈگاڑیوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ  

متعلقہ مضامین

  • گلشن اقبال میں گھر پر قبضہ کرنے اور ان کے سرپرستوں کو قانون کی گرفت میں لایا جائے،منعم ظفر خان
  • مرتضیٰ وہاب کو جماعت فوبیا ہوگیا ہے، چیئر مین نیو کراچی ٹائون ، فائف جے کی 15گلیوں میں پیور بلاک کی تنصیب کا آغاز
  • بجلی و گیس کی لوڈشیڈنگ نے عوام کا جینا محال کردیا ہے‘ نورالحق
  • حکمرانوں کی ناقص پالیسیاں ملک کو مسلسل مسائل کی دلدل میں دھکیل رہی ہیں، علامہ بلال قادری
  • ٹک ٹاک حکومت عوامی مسائل سے لاتعلق ہے، عطا تارڑ کی کے پی حکومت پر کڑی تنقید
  • سہیل آفریدی عوامی مسائل سے لاتعلق، عظمیٰ بخاری کا بیان
  • بجلی کے شعبے میں مسائل کے حل کیلئے عوامی ہیلپ لائن 118 کا افتتاح
  • سندھ حکومت کی نظر صرف ICCBS پر نہیں کراچی یونیورسٹی کی پوری زمین پر ہے، منعم ظفر
  • جماعت اسلامی کی سندھ حکومت پر تنقید؛ جامعہ کراچی کی زمین اور ICCBS قانون پر شدید تحفظات
  • پنجاب کے بلدیاتی نظام کے خلاف جماعت اسلامی کا 7 دسمبر کو صوبہ گیر احتجاج کا اعلان