کراچی کے عوام مسائل کی دلدل میں، جماعت اسلامی وفد کی ناصر حسین شاہ سے اہم ملاقات
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان اور نائب امیر و اپوزیشن لیڈر کے ایم سی سیف الدین ایڈووکیٹ کی قیادت میں جماعت اسلامی کے 9 ٹاؤن چیئرمینوں پر مشتمل وفد نے وزیر بلدیات سندھ ناصر حسین شاہ سے ملاقات کی، جس میں شہر کے بڑھتے ہوئے بلدیاتی مسائل، عوامی مشکلات، اور انتظامی نااہلی پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں نائب امیر کراچی سلیم اظہر سمیت دیگر ذمہ داران بھی شریک تھے, وفد نے وزیر بلدیات کو شہر میں پانی، سیوریج، صفائی، ٹوٹی سڑکوں اور غیر قانونی تعمیرات جیسے سنگین مسائل سے آگاہ کیا۔
سیف الدین ایڈووکیٹ نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ واٹر کارپوریشن کی کارکردگی مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، شہر کے 50 فیصد علاقے پانی سے محروم ہیں، سیوریج نظام تباہ حالی کا شکار ہے اور یوسیز کو واٹر کارپوریشن کے ناکام کام خود انجام دینے پڑ رہے ہیں حالانکہ یہ ان کے دائرہ اختیار میں نہیں آتے۔
انہوں نے کہا کہ سندھ سالڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ بھی عوامی خدمت میں ناکام ثابت ہوا ہے، صفائی کے لیے عملہ نہایت کم تعداد میں تعینات ہے، جب کہ یہ ادارے منتخب نمائندوں کے سامنے جوابدہ نہیں ہیں، جس کے باعث مسائل بڑھتے جا رہے ہیں۔
وفد نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ صوبائی اور ڈسٹرکٹ اے ڈی پی کی اسکیموں میں ٹاؤن اور یوسی چیئرمینوں کی تجاویز شامل نہیں کی جاتیں، نہ ہی ان منصوبوں پر عملدرآمد کے دوران عوامی نمائندوں کو اعتماد میں لیا جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اربوں روپے کے منصوبے غیر مؤثر ثابت ہو رہے ہیں اور عوام ان سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کر پا رہے۔
جماعت اسلامی کے ٹاؤن چیئرمینوں نے K-4 منصوبے، کریم آباد انڈر پاس، اور ریڈ لائن بی آر ٹی کی تاخیر پر بھی شدید تشویش ظاہر کی، اور کہا کہ ان منصوبوں کی بد انتظامی سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
اسی طرح وفد نے شہر بھر میں بڑھتی ہوئی غیر قانونی تعمیرات اور ایس بی سی اے کی مبینہ سرپرستی پر سخت تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا کہ اس حوالے سے سخت کارروائی کی جائے۔
وزیر بلدیات ناصر حسین شاہ نے وفد کی آمد کا خیرمقدم کرتے ہوئے جماعت اسلامی کے رہنماؤں کی تجاویز کو سراہاتے ہوئے کہا کہ بعض امور میں جماعت اسلامی کے تعاون کی ضرورت ہے، خاص طور پر اداروں کے باہمی رابطے، قانون سازی، اور پالیسی میں بہتری کے حوالے سے۔
آخر میں امیر جماعت اسلامی کراچی منعم ظفر خان نے اُمید ظاہر کی کہ اگر باہمی رابطہ اور تعاون بڑھایا جائے تو کراچی کے عوامی مسائل کے حل میں نمایاں پیشرفت ممکن ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: جماعت اسلامی کے وفد نے کہا کہ
پڑھیں:
شہید آیت اللہ خامنہ ای کی تدفین کی تیاریاں، 3 روزہ تقریبات کا اعلان
ایرانی میڈیا میں شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی تدفین سے متعلق دعؤوں کے حوالے سے نئی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جبکہ ایرانی حکام کی جانب سے مبینہ طور پر تدفین کے انتظامات کے حوالے سے تیاریوں کا ذکر کیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ ایرانی خبررساں ایجنسی کے مطابق تہران کے نائب میئر برائے سماجی و ثقافتی امور محمد امین توکلی زادہ نے کہا ہے کہ تدفین سے قبل 3 روزہ عوامی تقریبات کا انعقاد کیا جائے گا، جن کے دوران عوام کو عظیم شہید راہنما کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا۔ محمد امین توکلی زادہ کے مطابق عوامی تقریبات کے اختتام پر نمازِ جنازہ ادا کی جائے گی، جس کے بعد جلوس کا آغاز ہوگا، تہران میں یہ جلوس کم از کم 24 گھنٹے تک جاری رہ سکتا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ بعد ازاں تقریبات ایران کے اہم مذہبی مراکز قم اور مشہد میں بھی جاری رہیں گی، شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی خواہشات کے مطابق تدفین مشہد میں روضۂ امام رضاؑ کے قریب کیے جانے کا امکان ہے۔
ایرانی حکام کے مطابق یہ تقریب ملک کی جدید تاریخ کے بڑے عوامی اجتماعات میں شمار ہو سکتی ہے، تہران میں انتظامات اس انداز سے کیے جا رہے ہیں کہ ایک کروڑ 50 لاکھ سے 2 کروڑ افراد تک ان تقریبات میں شرکت کر سکیں۔ ان کے مطابق انتظامات کی مجموعی نگرانی پاسدارانِ انقلاب کریں گے جبکہ بلدیاتی حکام اور دیگر ریاستی ادارے لاجسٹک اور عوامی سہولیات کی فراہمی میں معاونت کریں گے۔ تاہم ان دعؤوں اور تفصیلات کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔