data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر) جماعت اسلامی ضلع کیماڑی کے تحت بلدیہ ٹاؤن، پٹنی ہسپتال کے قریب ”غزہ سولڈیرٹی فیملی پروگرام” کا انعقاد کیا گیا، جس کا عنوان ”غزہ دی لینڈ آف ریزسٹنس” تھا۔ پروگرام میں خواتین اور بچوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس موقع پر چھوٹے بچوں کے لیے تقاریر، ٹیبلوز اور نظموں کے مقابلے رکھے گئے، جبکہ بچوں نے پینٹنگز کے ذریعے بھی اہل غزہ سے اپنی بھرپور محبت اور یکجہتی کا اظہار کیا۔ پروگرام کے دوران شرکاء نے غزہ کی تاریخی اہمیت، اسرائیلی مظالم اور حماس کی جنگی و سفارت کاری کی حکمت عملیوں پر بھی روشنی ڈالی۔تقریب سے امیر جماعت اسلامی ضلع کیماڑی فضل احد، صدر جماعت اسلامی یوتھ ضلع کیماڑی خالد خان یوسف زئی اور دیگر نے خطاب کیا۔ فضل احد نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں غزہ کی حمایت جاری رکھنی چاہیے۔ انہوں نے سیز فائر کو بلاشبہ اہل غزہ اور حماس کی فتح قرار دیا، مگر ساتھ ہی خبردار کیا کہ اسرائیل ایک ناقابل بھروسہ دشمن ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھوک، پیاس اور مظالم کے ایک نہ ختم ہونے والے سلسلے سے گزرنے کے باوجود، آج بلدیہ ٹاؤن میں بھی عارضی سیز فائر کی خوشی محسوس کی جا رہی ہے، کیونکہ پاکستان کی عوام کے دل غزہ کی عوام کے ساتھ دھڑکتے ہیں، یہ امت مسلمہ کا رشتہ ہے۔فضل احد نے واضح کیا کہ یہ کوئی سیاسی پوائنٹ سکورنگ کا پروگرام نہیں ہے، بلکہ یہ جماعت اسلامی ہی ہے جس نے پورے ملک کو غزہ کے ایشو پر یکجا کیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس طرح کے پروگرام جاری رہیں گے تاکہ عوام کو فلسطین کا پیغام اور ان سے محبت کا درس دیا جا سکے۔انہوں نے مزید کہا کہ غزہ مجاہدوں اور غازیوں کی سرزمین ہے، یہ پہلے بھی نہیں جھکے تھے اور اب بھی نہیں جھکیں گے، لیکن اس معرکے میں بہت سے منافق اور امت کے غدار بے نقاب ہوئے۔ درحقیقت غزہ کے عوام ہی آزاد ہیں، جبکہ باقی امت مسلمہ کے حکمران اسرائیل کے غلام ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ ان غلام حکمرانوں سے نجات بھی فلسطین اور غزہ کی حمایت کے مترادف ہے، اور جماعت اسلامی انہی کے خلاف پاکستان میں برسر پیکار ہے۔

 

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: جماعت اسلامی انہوں نے غزہ کی

پڑھیں:

کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری

پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔

متعلقہ مضامین

  • حکومت کا بڑا ریلیف، الیکٹرک بائیکس پر سبسڈی اور بلاسود قرض کا اعلان
  • پیٹرول کی قیمتیں روزانہ بدلنے کا نظام، عوام خوش یا پریشان؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • نذیر احمد جنجوعہ قائم مقام سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان مقرر
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • جماعت اسلامی کے سیکریٹری جنرل امیرالعظیم انتقال کرگئے
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی