فیفا ورلڈکپ 2026 کوالیفائرز:یو اے ای نے عمان کو ہرا کر پوزیشن مستحکم کر لی
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
دوحہ: قطر کے شہر دوحہ کے جاسم بن حمد اسٹیڈیم میں کھیلے گئے ایشیائی کوالیفائرز کے گروپ اے میچ میں متحدہ عرب امارات (یو اے ای) نے شاندار واپسی کرتے ہوئے عمان کو 1-2 سے شکست دے دی۔ اس کامیابی کے ساتھ ہی یو اے ای نے فیفا ورلڈکپ 2026 میں دوسری مرتبہ شرکت کی امیدیں برقرار رکھیں، اس سے قبل وہ 1990 میں ورلڈکپ کھیل چکی ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کےمطابق میچ کے آغاز میں یو اے ای کو بدقسمتی کا سامنا کرنا پڑا جب کوامے کوادیو کے خود کے گول نے عمان کو برتری دلا دی۔ تاہم، دوسرے ہاف میں مارکوس میلونی اور کائیو لوکاس کے گولز نے میچ کا نقشہ بدل دیا۔
یو اے ای کے رومانوی کوچ کوسمن اولارویو نے میچ کے بعد گفتگو میں کہا کہ یہ ایک مشکل مقابلہ تھا لیکن کھلاڑیوں نے غیر معمولی جذبہ اور عزم دکھایا۔ یہ جیت ہمیں گروپ میں سب سے آگے لے آئی ہے۔
مئی میں ٹیم کے ہیڈ کوچ بننے والے سمن اولارویو نے کہا کہ انہوں نے دوسرے ہاف میں مکمل ٹاکٹیکل تبدیلی کی تاکہ کھلاڑیوں کے کھیلنے کے انداز اور ذہنیت میں نئی جان ڈالی جا سکے، انہوں نے کائیو کینیڈو، یحییٰ نادر اور حریب عبداللہ کو میدان میں اتارا جنہوں نے کھیل کا توازن پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا۔
انہوں نے کہا کہ ہم نے دونوں ہاف میں دو الگ چہرے دکھائے لیکن آخر میں وہ کیا جو ضروری تھا، اب ہم قطر کے خلاف فیصلہ کن میچ کی تیاری کر رہے ہیں، جہاں ایک ڈرا بھی ہمیں ورلڈکپ کے اگلے مرحلے میں لے جائے گا۔
اولارویو نے شائقین کا شکریہ بھی ادا کیا اور کہا کہ مداحوں کے جوش و خروش نے ٹیم کے حوصلے بلند کیے اور یہی ہماری واپسی کی اصل طاقت بنی۔
دوسری جانب عمان کے کوچ کارلوس کیروش نے موقع گنوانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے کئی مواقع پیدا کیے لیکن فائدہ نہ اٹھا سکے، کھلاڑی بہتر نتیجے کے مستحق تھے۔ تاہم، ہماری کوالیفکیشن کی امیدیں ابھی باقی ہیں۔
عمان کی قسمت اب یو اے ای اور قطر کے درمیان اگلے میچ پر منحصر ہے، گروپ اے کی دوسری پوزیشن حاصل کرنے والی ٹیم گروپ بی کے رنرز اپ سے پلے آف کھیلے گی، جس کے فاتح کو فیفا انٹرکانٹی نینٹل پلے آف ٹورنامنٹ میں جگہ ملے گی — جو ورلڈکپ 2026 کے لیے آخری موقع ہوگا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔