ملائیشیا میں فلو پھیلنے سے 6 ہزار سے زائد طلبہ متاثر
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کوالالمپور (انٹرنیشنل ڈیسک) ملائیشیا میں انفلوئنزا کے کیسوں میں تیزی سے اضافے نے حکام کو تشویش میں مبتلا کردیا۔ وزارتِ تعلیم کے اعلیٰ عہدیدار کے مطابق ملک بھر میں تقریباً 6 ہزار طلبہ اس وائرس سے متاثر ہوئے ہیں، جس کے باعث کچھ اسکولوں کو طلبہ اور عملے کی حفاظت کے لیے عارضی طور پر بند کر دیا گیا ہے۔ ذرائع ابلاغ کے مطابق وزارتِ تعلیم کے ڈائریکٹر جنرل محفوظ اعظم احمد نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہمیں متعدی بیماریوں سے نمٹنے کا وسیع تجربہ ہے۔ خاص طور پر کورونا وبا کے دوران ہم نے بہت کچھ سیکھا ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اسکولوں کو حفاظتی ہدایات پر عمل کرنے کی تاکید کی گئی ہے، جن میں ماسک کا استعمال، صفائی کا خاص خیال رکھنے اور طلبہ کے بڑے اجتماعات کو محدود کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔اگرچہ انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ کتنے اسکول بند کیے گئے ہیں، لیکن ان کا کہنا تھا کہ متاثرہ طلبہ ملک کے مختلف علاقوں میں پائے گئے ہیں۔ وزارتِ صحت کے مطابق، گزشتہ ہفتے ملک بھر میں 97 انفلوئنزا کلسٹرز رپورٹ ہوئے ہیں، جب کہ اس سے پچھلے ہفتے یہ تعداد صرف 14 تھی۔ زیادہ تر کیس اسکولوں اور نرسریوں میں سامنے آئے ہیں۔ فلو کلسٹر سے مراد وہ صورتِ حال ہے جب کسی ایک جگہ، جیسے اسکول، دفتر یا نرسری میں ایک ہی وقت میں کئی افراد فلو سے متاثر ہو جائیں۔ یہ اس بات کی علامت ہوتی ہے کہ وائرس وہاں تیزی سے پھیل رہا ہے، اس لیے فوری احتیاطی اقدامات کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ مزید لوگ متاثر نہ ہوں۔حکومت کی جانب سے والدین اور اساتذہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ بچوں کی صحت پر خاص توجہ دیں اور اگر فلو کی علامات ظاہر ہوں تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں تاکہ بیماری مزید نہ پھیلے۔
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
اقوام متحدہ: 2 سال میں مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کی کارروائیوں میں ہزار سے زائد فلسطینی شہید
اقوام متحدہ نے بتایا ہے کہ فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں گزشتہ دو سال کے دوران اسرائیلی فوج اور یہودی آبادکاروں کی کارروائیوں میں 1,030 فلسطینی جان کی بازی ہار چکے ہیں، جن میں 233 بچے بھی شامل ہیں۔
جنیوا میں پریس کانفرنس کے دوران یواین انسانی حقوق کمشنر وولکر ترک کے ترجمان نے بتایا کہ 7 اکتوبر 2023 سے اب تک مقبوضہ علاقوں میں تشدد میں اضافہ ہوا ہے اور اس کا کوئی جوابدہ نہیں ہے۔ ترجمان نے جنین میں اسرائیلی بارڈر پولیس کے ہاتھوں دو فلسطینیوں کے سرعام قتل پر گہرے صدمے کا اظہار بھی کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی فوج کے طاقت کے غیر قانونی استعمال اور آبادکاروں کے بڑھتے ہوئے تشدد کے لیے استثنیٰ ختم ہونا چاہیے، اور فلسطینیوں کے قتل کی آزادانہ، فوری اور مؤثر تحقیقات ہونی چاہئیں۔
اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (OCHA) کی رپورٹ کے مطابق مقبوضہ مغربی کنارے میں تشدد بلا روک ٹوک جاری ہے، روزانہ بنیاد پر جانی نقصان، املاک کے نقصان اور بے دخلی کے واقعات رپورٹ ہو رہے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ رواں سال کے آغاز سے اب تک اسرائیلی آبادکاروں کے 1,600 سے زائد حملوں میں فلسطینی شدید جانی اور مالی نقصان کا شکار ہوئے۔ ان میں 1,000 سے زائد افراد زخمی ہوئے، جن میں زیادہ تر جسمانی تشدد، پتھراؤ یا آنسو گیس کے اثرات سے متاثر ہوئے۔
تقریباً 700 فلسطینی براہِ راست اسرائیلی آبادکاروں کے حملوں میں زخمی ہوئے، جب کہ باقی اسرائیلی فورسز کے ہاتھوں زخمی ہوئے۔ یہ تعداد 2024 میں آبادکاروں کے حملوں میں زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی نسبت تقریباً دوگنی ہے۔
رپورٹ میں زور دیا گیا ہے کہ مقبوضہ علاقوں میں بڑھتے ہوئے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات ضروری ہیں تاکہ عام فلسطینیوں کی زندگیوں اور بنیادی حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔