کوئٹہ ٹریفک اصلاحات کیس؛ سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں آٹو رکشوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
کوئٹہ:
بلوچستان ہائی کورٹ نے کوئٹہ ٹریفک اصلاحات کیس میں اہم فیصلے سناتے ہوئے شہر میں ٹریفک نظام کی بہتری، ماحولیاتی تحفظ اور جدید ٹرانسپورٹ منصوبوں پر فوری عمل درآمد کے احکامات جاری کر دیے ہیں۔
عدالت نے سینٹرل بزنس ڈسٹرکٹ میں آٹو رکشوں کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کرتے ہوئے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ خلاف ورزی کی صورت میں رکشوں کو فوری طور پر ضبط کیا جائے۔
مزید برآں، عدالت نے حکومت بلوچستان کو ہدایت دی کہ الیکٹرک بسوں اور جدید ٹرانسپورٹ منصوبے کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے، جبکہ ٹریفک پولیس کو 188.
حکومت بلوچستان کی جانب سے عدالت میں جمع کرائے گئے اعلامیے کے مطابق، صوبائی دارالحکومت میں جلد 12 گرین اور 5 پنک بسیں متعارف کرائی جائیں گی۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ پرانی یا ناقص بسوں کو کسی بھی روٹ پر چلانے کی اجازت نہیں ہوگی۔
عدالت نے مزید حکم دیا کہ زرغون روڈ پر سریاب پل کے نیچے اسمارٹ بس اسٹینڈ کے قیام کے لیے زمین مختص کی جائے، جبکہ سریاب پل کی توسیع کو غیر ضروری قرار دیتے ہوئے کہا کہ زمین کو عوامی مفاد میں استعمال کیا جائے۔
بلوچستان ہائی کورٹ نے محکمہ ٹرانسپورٹ، ٹریفک اور فنانس کو مشترکہ حکمتِ عملی اپنانے کی ہدایت کرتے ہوئے واضح کیا کہ ٹریفک اصلاحات اور ماحولیاتی بہتری کے اقدامات میں کسی قسم کی تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی۔ کیس کی مزید سماعت 30 اکتوبر تک ملتوی کر دی گئی۔
Tagsپاکستان
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: پاکستان
پڑھیں:
بدعنوانی و بدسلوکی کے الزام میں ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قلات معطل
سرکاری اعلامیہ میں کہا گیا کہ بیڈا ایکٹ کے تحت ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قلات کو معطل کیا جاتا ہے۔ اسکے ساتھ ہی ایڈیشنل سیکرٹری کو انکوائری کے احکامات جاری کئے گئے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سیکرٹری صحت بلوچستان نے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر قلات ڈاکٹر انجم ضیاء کو معطل کرتے ہوئے ان کے خلاف انکواری کا حکم دے دیا ہے۔ سیکرٹری صحت بلوچستان کے جاری نوٹیفکیشن میں کہا گیا کہ قانونی اختیار کے تحت یہ اطلاع دی جاتی ہے کہ ضلع قلات کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر ڈاکٹر انجم ضیا کی خدمات فوری طور پر معطل کی جاتی ہیں۔ یہ اقدام بلوچستان ایمپلائیز ایفیشنسی اینڈ ڈسپلنری ایکٹ (BEEDA) 2011 کے سیکشن 6 کے تحت بدعنوانی/بدسلوکی کے الزامات پر کیا گیا ہے۔ مزید یہ کہ ایڈیشنل سیکریٹری سروسز محکمہ صحت ہاشم شاہ کو ہدایت کی جاتی ہے کہ وہ الزامات کے حوالے سے تفصیلی انکوائری کریں اور اپنی سفارشات کے ساتھ رپورٹ ایک ہفتے کے اندر جمع کروائیں۔