کمپٹیشن کمیشن: ریٹ فکسنگ پر دو ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز پر بھاری جرمانے
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
اسلام آباد:
کمپٹیشن کمیشن نے دو ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشنز پر فریٹ ریٹ فکسنگ پر جرمانہ عائد کردیا۔
ٹرانسپورٹرز آف گڈز ایسوسی ایشن اور لوکل گڈز ٹرانسپورٹ ایسوسی ایشن پر 50، 50 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا گیا ہے۔
ایسوسی ایشنز کو 30 دن میں جرمانہ جمع کرانے کی ہدایت کی گئی ہے، جرمانہ ادا نہ کرنے پر روزانہ دس ہزار روپے اضافی جرمانہ عائد ہوگا۔
سی سی پی کے مطابق ایسوسی ایشنز نے قیمتیں طے کرنے کے لیے غیر قانونی گٹھ جوڑ کیا، فریٹ ریٹ فکسنگ سے مختلف صنعتوں کی لاگت میں اضافہ ہوا۔
کمپٹیشن کمیشن ایسوسی ایشنز کی جانب سے نرمی کی درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قانون سے ناواقفیت کوئی عذر نہیں۔
چیئرمین کمپٹیشن کمیشن ڈاکٹر کبیر سدھو نے ٹریڈ باڈیز کو متنبہ کیا ہے کہ وہ قیمتوں کے تعین یا معلومات کے تبادلے سے گریز کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: کمپٹیشن کمیشن ایسوسی ایشنز
پڑھیں:
ایچ ای سی نے ڈیٹا لیک سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے وا لی خبروں کی تردید کردی
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 03 جون2026ء) ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی)نے اپنے ڈیٹا بیس میں مبینہ نقب زنی اور ریکارڈ لیک ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی خبروں کو بے بنیاد اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کر دیا ۔ ایچ ای سی نے اپنے بیان میں کہا کہ کمیشن نے ان رپورٹس کا نوٹس لیتے ہوئے فوری تحقیقات کیں جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایچ ای سی کے ڈیٹا بیس سے معلومات لیک ہو گئی ہیں۔ بیان کے مطابق ایچ ای سی کے سائبر سکیورٹی آپریشن سینٹر کی جانب سے کی جانے والی تحقیقات سے یہ بات واضح ہوئی ہے کہ آن لائن گردش کرنے والے نمونہ ریکارڈز کا ایچ ای سی کے ڈگری اٹیسٹیشن سسٹم سے کوئی تعلق نہیں ۔ ایچ ای سی کے مطابق اس کے مرکزی نظام اور ریکارڈ کی سکیورٹی برقرار ہے اور کسی قسم کے ڈیٹا بریچ یا حساس معلومات کے افشا ہونے کے شواہد نہیں ملے۔(جاری ہے)
بیان میں کہا گیا ہے کہ عوام اور طلبہ بلا تصدیق معلومات پر یقین نہ کریں اور صرف مستند ذرائع سے جاری کردہ معلومات کو ہی اہمیت دیں۔ ایچ ای سی نے شہریوں، طلبہ اور متعلقہ حلقوں سے اپیل کی ہے کہ وہ غیر مصدقہ خبروں اور افواہوں کو آگے پھیلانے سے گریز کریں کیونکہ اس طرح کی غلط معلومات عوام میں بے چینی پیدا کرنے کا باعث بن سکتی ہیں۔ کمیشن نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تعلیمی ریکارڈ، ڈگری اٹیسٹیشن اور دیگر ڈیجیٹل خدمات کی سکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے جدید سائبر سکیورٹی اقدامات نافذ کیے جا رہے ہیں تاکہ صارفین کا اعتماد برقرار رکھا جا سکے۔