پنجاب میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر سخت جرمانے ، نیا آرڈیننس نافذ
اشاعت کی تاریخ: 26th, November 2025 GMT
پنجاب حکومت نے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں پر بھاری جرمانے نافذ کرتے ہوئے نیا آرڈیننس جاری کر دیا ہے، جس کے تحت مختلف خلاف ورزیوں پر اب 2 ہزار روپے سے 20 ہزار روپے تک جرمانے ہوں گے۔ نئے قانون کے مطابق تیز رفتاری کی صورت میں موٹرسائیکل سوار کو 2 ہزار جبکہ کارڈرائیور کو 5 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی پر موٹرسائیکل کو 2 ہزار، تھری ویلر کو 3 ہزار اور کار کو 5 ہزار روپے جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ 2000 سی سی تک کی گاڑیوں پر 10 ہزار اور 2000 سی سی سے زائد گاڑیوں پر 15 ہزار روپے کا جرمانہ مقرر کیا گیا ہے۔ اوور لوڈنگ کی صورت میں تھری ویلر سے 3 ہزار، 2000 سی سی سے کم گاڑیوں سے 5 ہزار، بڑی گاڑیوں سے 10 ہزار اور ٹریلرز سے 15 ہزار روپے وصول کیے جائیں گے۔ دھواں چھوڑنے والی موٹرسائیکلوں پر 2 ہزار، تھری ویلر پر 3 ہزار اور پبلک ٹرانسپورٹ پر 15 ہزار روپے جرمانہ ہوگا۔ آرڈیننس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ بغیر فٹنس سرٹیفکیٹ گاڑی چلانے پر ایک لاکھ روپے تک جرمانہ اور جیل کی سزا دی جائے گی، جبکہ اوور اسپیڈنگ کے جرمانے میں 300 فیصد تک اضافہ کردیا گیا ہے۔ ون وے کی خلاف ورزی پر چھ ماہ قید یا 50 ہزار روپے تک جرمانے کی سزا مقرر کی گئی ہے۔ کم عمر ڈرائیونگ پر نہ صرف سزا دگنی کر دی گئی ہے بلکہ والدین کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا جائے گا۔ جعلی یا پیلی نمبر پلیٹ، نان اسٹینڈرڈ شیشوں اور گاڑی کی رجسٹریشن یا دستاویزات ساتھ نہ رکھنے پر بھی سخت کارروائی کی جائے گی۔ نئے آرڈیننس کے تحت چالان کا عمل مکمل طور پر الیکٹرانک ہوگا، جبکہ گاڑی میں ڈرائیور کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھنے والے مسافر کے لیے بھی سیٹ بیلٹ لازمی قرار دے دی گئی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ہزار روپے ا رڈیننس ہزار اور کی خلاف
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔