باتھ روم میں بیکٹیریا کا ’شہر‘، شاور کا محفوظ استعمال کیسے کیا جائے؟
اشاعت کی تاریخ: 14th, October 2025 GMT
شاور سے نہانا بالٹی اور مگے کی مدد سے نہانے کے مقابلے میں زیادہ آسان ہوتا ہے لیکن کیا آپ جانتے ہیں کہ آپ کے سر پر لگے اس ’جھرنے‘ میں اربوں بیکٹیریا چھپے ہوتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: نہانا صبح بہتر یا رات کو، یا ایک اور کام بھی ضروری؟
جب آپ شاور کھولتے ہیں تو شاور ہیڈ اور اس سے جڑے پائپ بیکٹیریا اور فنگس کا مسکن ہوتے ہیں اور گرم پانی اور صابن کے ساتھ صفائی کی توقع کے برعکس شاور کے پہلے چند قطرے آپ کے چہرے پر بیکٹیریا بھی پھینک سکتے ہیں۔
بیکٹیریا کیسے جمع ہوتے ہیں؟شاور کے ہیڈ اور پائپ میں ایک خوردبینی بایوفلم بنتی ہے جو بیکٹیریا اور دیگر مائیکروبس کا چھوٹا شہر ہوتا ہے۔ یہ بایوفلم گرم، نم اور غیر حرکت پذیر ماحول میں آسانی سے بن جاتی ہے۔
مزید پڑھیے: ڈپریشن میں کمی چاہتے ہیں تو گرم پانی سےنہانا شروع کر دیں
ہر بار شاور چلانے پر یہ مائیکروبس پانی کے ساتھ آپ کے چہرے پر چھڑکتے ہیں۔
خطرہ کتنا؟زیادہ تر بیکٹیریا بے ضرر ہوتے ہیں لیکن بعض بیکٹیریا جیسے مائیکوبیکٹیریا اور فنگس کی کچھ اقسام ممکنہ طور پر بیماری کا باعث بن سکتی ہیں۔
خاص طور پر اگر شاور کا استعمال کم ہو یا پانی کا درجہ حرارت معتدل ہو تو لیجنیلا نامی بیکٹیریا جنم لے سکتے ہیں جو سانس کی بیماری کا باعث بنتے ہیں۔
بچاؤ کے لیے کیا کرنا چاہیے؟شاور کے ہیڈ اور ہوز کا مواد بہت فرق ڈال سکتا ہے۔ اسٹینلیس اسٹیل یا کروم شدہ میٹل کے ہیڈ اور خاص قسم کے پلاسٹک کے ہوزز بایوفلم کی تشکیل کو کم کرتے ہیں۔
مزید پڑھیں: پلاسٹک پیراسیٹامول میں تبدیل، سائنسدانوں نے بیکٹیریا سے دہرا کام لے لیا
شاور شروع کرنے سے پہلے پانی کو 60 ڈگری سینٹی گریڈ (140 فارن ہائیٹ) تک گرم کر کے چند منٹ چلائیں تاکہ بیکٹیریا دھل جائیں۔
شاور استعمال کرتے ہوئے، پہلے پانی کو چند منٹ بہنے دیں اور اس کے پانی سے استفادہ کریں تاکہ پانی کے ریلے کے ساتھ بیکٹیریا بہہ جائیں۔
شاور کے ہیڈ کو باقاعدگی سے گرم پانی سے صاف کریں، اسکیل دور کرنے کے لیے لیموں کے رس میں بھگوئیں۔
ایک اور ضروری احتیاطباتھ روم کی ہوا کو نکالنے کے لیے ایکسٹریکٹر فین کا استعمال کریں تاکہ ہوا میں موجود بیکٹیریا کے ذرات کم ہوں۔
اگر کوئی گھر میں بیمار یا کمزور ہو تو ہر سال شاور کا ہوز اور ہیڈ تبدیل کرنا بہتر ہے۔
یہ بھی پڑھیے: باتھ روم میں فالج ہونے کی وجہ کیا ہے؟
آپ کا شاور ایک چھوٹا ماحولیاتی نظام ہے جہاں مائیکروب اپنی بستیاں بناتے ہیں۔ انہیں مکمل طور پر ختم کرنا ممکن نہیں لیکن احتیاطی تدابیر سے ان کے اثرات کو کم کیا جا سکتا ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
بیکٹیریا شاور شاور پائپ شاور کی صفائی شاور میں جراثیم شاور ہوز شاور ہیڈ.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: بیکٹیریا شاور شاور پائپ شاور کی صفائی شاور میں جراثیم شاور ہوز شاور ہیڈ ہوتے ہیں ہیڈ اور شاور کے کے ہیڈ کے لیے اور کا
پڑھیں:
جمال رئیسانی کا بی وائی سی اور کالعدم بی ایل اے کے مبینہ روابط کا دعویٰ، خواتین کے استعمال کو بلوچ روایات کے خلاف قرار دے دیا
بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے دعویٰ کیا ہے کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین اور کم عمر لڑکیوں کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے منافی ہے۔
یہ بھی پڑھیں:بھارتی سرپرستی میں زہریلا پروپیگنڈا، کالعدم بی ایل اے سے منسلک ملک دشمن شاعرہ حبیبہ پیرجان کی گرفتاری کے لیے 10 لاکھ روپے انعام کا اعلان
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جمال رئیسانی نے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچ معاشرے کی روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔ انہوں نے سابق بلوچ رہنما اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی یہ مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔
نواب اکبر بگٹی نے کہا تھا کہ ہم جنگ میں خواتین کو استعمال نہیں کریں گے، ہیروف 2 میں شامل خودکش حملہ آور اور کمانڈر شہناز تک تمام کے تانے بانے بی وائی سی سے ملتے ہیں، جمال رئیسانی
مکمل ویڈیو فیس بک پیج پرhttps://t.co/GB5kSKBy0R#Balochistan #Quetta pic.twitter.com/GLHj40tk43
— Daily Intekhab (@Intekhabhd) June 2, 2026
رکن قومی اسمبلی نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو عسکری سرگرمیوں کے لیے استعمال کیا گیا، جو بلوچ روایات کے خلاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جمال رئیسانی کا کہنا تھا کہ دشمن صرف ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہونے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا اور دیگر ذرائع ابلاغ کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دیتے ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
جمال رئیسانی نے کہا کہ حکومت دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے زور دیا کہ بلوچستان کے مسائل کا حل سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے نقصان دہ ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران جمال رئیسانی نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بعض حالیہ واقعات اور عسکری کارروائیوں میں ملوث افراد کے روابط مخصوص حلقوں سے ملتے ہیں، جن کی تحقیقات جاری ہیں۔ تاہم ان الزامات پر متعلقہ فریقین کا مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں