کراچی سمیت سندھ بھر میں احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں پر پابندی عائد
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
کراچی:
سندھ حکومت نے صوبے بھر میں احتجاج، مظاہرے، دھرنے اور ریلیوں پر ایک ماہ کے لیے پابندی عائد کر دی ہے۔
سندھ حکومت نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال کو مدنظر رکھتے ہوئے سیکشن 144 کے تحت ہر قسم کے احتجاج، مظاہرے، دھرنے، ریلیاں اور پانچ سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی ہے۔
پابندی کا فیصلہ آئی جی سندھ کی سفارش پر کیا گیا، جنہوں نے مختلف پولیس رینج اور زونز کی رپورٹس کی روشنی میں حکومت کو آگاہ کیا تھا کہ موجودہ حالات میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے فوری اقدامات ضروری ہیں۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پابندی صوبے بھر میں فوری طور پر نافذ العمل ہوگی اور ایک ماہ تک برقرار رہے گی۔
حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کسی بھی شخص یا گروہ کی جانب سے اس فیصلے کی خلاف ورزی کی صورت میں متعلقہ تھانے کے ایس ایچ او کو سیکشن 188 تعزیراتِ پاکستان کے تحت مقدمہ درج کرنے کا اختیار حاصل ہوگا۔
حکومتِ سندھ کا کہنا ہے کہ یہ اقدام عوامی تحفظ اور امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
بجٹ میں کرپٹو کرنسی کے لین دین پر ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان
اسلام آباد:نئے بجٹ میں کرپٹو ٹرانزیکشنز کو ٹیکس نیٹ میں لانے کے لیے کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والے منافع پر کیپیٹل گین ٹیکس عائد کیے جانے کا امکان ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کرپٹو ٹریڈنگ پر 10 سے 30 فی صد تک کیپیٹل گین ٹیکس نافذ کیا جا سکتا ہے اس بارے میں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی مشاورت کے بعد کرپٹو سیکٹر کو ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف نے تمام ڈیجیٹل کاروبار سے حاصل ہونے والے گین پر ٹیکس عائد کرنے کا مطالبہ کیا ہے جبکہ کرپٹو لین دین میں کیپیٹل گین ٹیکس کی وصولی کی بھی تجویز دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ انکم ٹیکس ایکٹ 2001ء کے سیکشن 37 میں کرپٹو ٹرانزیکشنز سے متعلق کیپیٹل گین کی شق شامل کیے جانے کا امکان ہے۔ اس سلسلے میں سیکشن 37 میں شق 37 سی کا اضافہ کر کے کرپٹو لین دین سے کیپیٹل گین وصول کیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق پاکستان میں تقریباً 90 لاکھ افراد کرپٹو کرنسی استعمال کرتے ہیں اور حکومت کو کرپٹو ٹرانزیکشنز سے اربوں روپے اضافی ریونیو حاصل ہونے کی توقع ہے اور کرپٹو ٹریڈنگ سے حاصل ہونے والا منافع جلد ٹیکس کے دائرے میں آ سکتا ہے۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ پاکستان ورچوئل ایسیٹ ریگولیٹری اتھارٹی کو کرپٹو صارفین کے لیے ٹیکس اقدامات تجویز کرنے کی ہدایات دی گئی تھیں، جب کہ کرپٹو صارفین کی تعداد، ٹرانزیکشنز اور ٹیکس میکنزم کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی بھی قائم کی گئی تھی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ چند ماہ قبل مرکزی بینک نے ورچوئل اثاثوں کو قانونی حیثیت دینے اور ڈیجیٹل کرنسی متعارف کرانے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس اقدام کے تحت پاکستانی روپے کو ڈیجیٹل کرنسی میں تبدیل کر کے ورچوئل اثاثوں کی خریداری ممکن بنائی جا سکے گی، جب کہ پاکستانی روپے کی شکل میں موجود رقم کو کرپٹو کرنسی میں ایکسچینج بھی کیا جا سکے گا۔
ذرائع کے مطابق ورچوئل اثاثوں کو اشیا، خدمات اور ایکو سسٹم سے باہر خریداری کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکے گا، جب کہ ڈیجیٹل کرنسی صرف ورچوئل اثاثوں کے لیے پاکستان میں قائم دفاتر کو جاری کی جائے گی۔
ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ کرپٹو کرنسی کے لیے قانونی فریم ورک بھی تیار کیا جا چکا ہے۔