پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا، وزیراعلیٰ سندھ
اشاعت کی تاریخ: 12th, October 2025 GMT
ایک بیان میں مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری کے تحفظ سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا، علاقائی امن، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ رویے ہی خطے کے دیرپا استحکام کی ضمانت ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے افغانستان کی جانب سے حالیہ جارحیت پر سخت ردِعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان اپنی خودمختاری اور قومی وقار پر کسی صورت سمجھوتہ نہیں کرے گا۔ وزیراعلی سندھ نے کہا کہ افغان سرزمین کا پاکستان کے خلاف استعمال ناقابلِ برداشت اور تشویشناک ہے، دہشت گردوں کے خاتمے کے لیے افغان حکومت کو فوری اور عملی اقدامات اٹھانے ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ خطے کے امن و استحکام کے لیے پاکستان کا کردار ہمیشہ تعمیری اور مخلصانہ رہا ہے، تاہم پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کا استعمال بین الاقوامی اصولوں اور باہمی احترام کے منافی ہے۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ دہشت گردی ایک عالمی چیلنج ہے، جس کے خلاف تمام ممالک کو متحد ہوکر لڑنا ہوگا۔ افغانستان کی اشتعال انگیزی خطے میں تنازعات اور بداعتمادی کو جنم دے رہی ہے۔
وزیراعلی سندھ نے زور دیا کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو دہشت گرد عناصر کے استعمال سے فوری طور پر روکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے افغان عوام کے ساتھ ہمیشہ خیرسگالی، تعاون اور بھائی چارے کا مظاہرہ کیا ہے، تاہم افغان قیادت پاکستان کے صبر و تحمل کو کمزوری نہ سمجھے۔ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ پاکستان امن کا خواہاں ہے مگر اپنی خودمختاری کے تحفظ سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ علاقائی امن، باہمی احترام اور ذمہ دارانہ رویے ہی خطے کے دیرپا استحکام کی ضمانت ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: مراد علی شاہ نے اپنی خودمختاری کہ پاکستان نے کہا کہ
پڑھیں:
سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کر دی
بھارت کے معروف سماجی کارکن سونم وانگچک نے 26 روز تک جاری رہنے والی اپنی بھوک ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ طویل مذاکرات اور ملک میں ممکنہ تشدد کے خدشات کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
عرب میڈیا کے مطابق سونم وانگچک نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں بتایا کہ مختلف شرائط پر ہونے والے طویل مذاکرات کے بعد اور ملک میں کشیدگی کے امکانات کو دیکھتے ہوئے انہوں نے اپنا احتجاج ختم کر دیا ہے۔
Just now in the presence of Union Ministers Sh. JP Nadda, Dr. Jitendra Singh and the senior leaders of Apex Body of Leh Ladakh I finally broke my fast after 26 days. Earlier 65 members of parliament from different political parties had visited or signed letters urging me to break… pic.twitter.com/RFCet7Oksy
— Sonam Wangchuk (@Wangchuk66) July 23, 202659 سالہ سونم وانگچک نے 28 جون کو بھوک ہڑتال کا آغاز کیا تھا۔ ان کی یہ ہڑتال بھارت میں نوجوانوں کی قیادت میں چلنے والی کاکروچ موومنٹ سے اظہارِ یکجہتی کے لیے تھی۔
اس تحریک کے شرکاء میڈیکل کالجوں کے داخلہ امتحانات کے پرچوں کے مبینہ لیک ہونے کے معاملے پر بھارتی وزیرِ تعلیم دھرمیندر پردھان سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
مظاہرین کا مؤقف ہے کہ امتحانی نظام میں شفافیت کو یقینی بنانے اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کے لیے وزیرِ تعلیم کو اپنے عہدے سے الگ ہونا چاہیے۔
سونم وانگچک کے بھوک ہڑتال ختم کرنے کے اعلان کے باوجود بھارت میں امتحانی نظام اور حکومتی پالیسیوں کے خلاف احتجاجی تحریک بدستور جاری ہے۔