ایکواڈور کے صدر ڈینئل نوبوآ پر قاتلانہ حملہ
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
صدارتی حکمنامے کے تحت پندرہ ستمبر سے ایکواڈو میں ڈیزل پر سبسڈی ختم کیے جانے کے بعد سے صدر نوبوآ کیخلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ لا اینڈ آڈر صورتحال پر قابو رکھنے کے لیے حکومت کو کئی صوبوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنا پڑی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ جنوبی امریکا کے ملک ایکواڈور میں صدر ڈینئل نوبوآ (Noboa) پر قاتلانہ حملہ کیا گیا ہے، واقعہ میں ملوث پانچ ملزموں کو گرفتار کرلیا گیا۔ صدر نوبوآ کی گاڑی کو 5 سو سے زائد مظاہرین نے گھیر کر پتھراو کیا اور ایک سینیئر وزیر کے مطابق گولیاں بھی چلائی گئیں، تاہم وہ محفوظ رہے۔ وزیر کے مطابق صدر کی گاڑی پر گولیاں لگنے کے واضح نشانات ہیں۔ صدارتی آفس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گرفتار ملزمان کیخلاف دہشتگردی اور قاتلانہ حملے کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ صدارتی حکمنامے کے تحت پندرہ ستمبر سے ایکواڈو میں ڈیزل پر سبسڈی ختم کیے جانے کے بعد سے صدر نوبوآ کیخلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں۔ لا اینڈ آڈر صورتحال پر قابو رکھنے کے لیے حکومت کو کئی صوبوں میں ہنگامی حالت نافذ کرنا پڑی ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
طالبان رجیم کیخلاف مزاحمتی تحریکوں میں شدت
قابض افغان طالبان رجیم کیخلاف افغانستان کے مختلف صوبوں میں آزادی پسند تحریکیں زور پکڑ گئیں.
بدخشان میں چندماہ میں دوسرےضلعی گورنرکی ہٹ دھرمی پرمبنی برطرفی نےطالبان کےاندرونی خلفشارکوآشکارکردیا۔
افغان میڈیا کے مطابق طالبان رجیم کیخلاف نئے مسلح گروہ سپاہیان میہن نے بدخشان کے ضلع یفتلی سفلی پرقبضہ کرکےاپنی موجودگی کا باضابطہ اعلان کر دیا
یہ گروہ مختلف طبقات سے تعلق رکھنےوالےافراد پرمشتمل ہے جن میں سابق سیکیورٹی اہلکاراورمقامی باشندےشامل ہیں۔
ساؤتھ ایشیا ٹیررزم پورٹل کی رپورٹ کے مطابق طالبان اور جمعہ خان فاتح کے درمیان اختلافات ختم نہیں ہوئے،بدخشان میں ان کےحامیوں اورطالبان قیادت کےدرمیان کشیدگی برقرارہے۔
بدخشان میں اندرونی کشیدگی بھی عروج پر،ضلعی گورنرقاری مطیع الرحمان کوتقرری کےایک ہفتےبعدہی عہدے سےہٹا دیا گیا، طالبان مخالف گروہوں نیشنل ریزسٹنس فرنٹ اورافغانستان فریڈم فرنٹ بھی بدخشاں سمیت افغانستان کے کئی صوبوں میں سرگرم ہیں۔
افغان مزاحمتی تنظیم نیشنل ریزسٹنس فرنٹ نےایکس اکاونٹ پرمزاحمتی فورسزکی نئی ویڈیواپ لوڈکردی۔ نیشنل ریزسٹنس فرنٹ کےایکس پراپ لوڈ ویڈیومیں طالبان مخالف فورسزکواہم علاقےمیں گشت کرتےہوئےدیکھاجاسکتا ہے۔