data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سخت اقدامات نے بھارت طلبہ کے تعلیمی پروگراموں کو شدید متاچر کیا ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق کئی دہائیوں سے امریکی یونیورسٹیاں بھارتی طلبہ کے لیے اعلیٰ تعلیم کا سب سے بڑا مرکز سمجھی جاتی تھیں، لیکن اب صورتحال ڈرامائی طور پر بدل گئی ہے۔

حالیہ اعداد و شمار کے مطابق اگست 2024 میں 71 ہزار بھارتی طلبہ امریکا پہنچے تھے، جبکہ اگست 2025 میں یہ تعداد گھٹ کر صرف 41 ہزار رہ گئی ، یعنی 44 فیصد کی نمایاں کمی۔ یہ تبدیلی نہ صرف بھارت کے لیے تشویش کا باعث ہے بلکہ خود امریکی تعلیمی ادارے بھی مالی نقصان سے دوچار ہیں۔

گزشتہ برس بھارتی طلبہ نے امریکی یونیورسٹیوں کو صرف فیس کی مد میں تقریباً 8 ارب ڈالر (تقریباً 22 کھرب 48 ارب پاکستانی روپے) ادا کیے تھے، لیکن صدر ٹرمپ نے اپنی نئی امیگریشن اور تعلیمی پالیسیوں کے ذریعے اس “تعلیمی ہنی مون” کا خاتمہ کر دیا۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ کو یہ اندازہ ہو گیا کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی چالاک سیاست اور سفارتی برتری کا فائدہ امریکا کے تعلیمی نظام کو مالی طور پر تو پہنچ رہا ہے، مگر اس کے بدلے میں امریکا کو روزگار اور ویزا پالیسیوں پر دباؤ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔

ٹرمپ نے سب سے پہلے اعلان کیا کہ بھارتی گریجویٹس اب تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکی کمپنیوں میں آسانی سے ملازمت حاصل نہیں کر سکیں گے۔ اس کے بعد بھارتیوں کے پسندیدہ “ٹیک ویزا” کی فیس بڑھا کر ایک لاکھ ڈالر کر دی گئی۔

مزید یہ کہ اب امریکی یونیورسٹیوں کو صرف 15 فیصد غیر ملکی طلبہ داخل کرنے کی اجازت ہوگی اور کسی بھی ملک سے زیادہ سے زیادہ 5 فیصد طلبہ ہی داخل کیے جائیں گے۔ ان پابندیوں نے بھارتی طلبہ کے لیے امریکا کے دروازے تقریباً بند کر دیے ہیں۔

تعلیمی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کے ان فیصلوں سے امریکا کے اعلیٰ تعلیمی اداروں کی معیشت بھی متاثر ہو رہی ہے، کیونکہ بھارتی طلبہ ہمیشہ سے فیس کی ادائیگی کے لحاظ سے سرفہرست رہے ہیں۔ اب جب وہ یورپ، کینیڈا، آسٹریلیا اور مشرقی ایشیا کی جانب رخ کر رہے ہیں تو امریکی یونیورسٹیوں کے مالی استحکام کو خطرہ لاحق ہے۔

بھارتی میڈیا میں اس معاملے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے جب کہ ٹرمپ کے قریبی حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی صرف بھارت ہی نہیں بلکہ تمام ممالک پر یکساں لاگو ہوگی تاکہ امریکی طلبہ کو زیادہ مواقع دیے جا سکیں، تاہم بھارتی طلبہ میں شدید مایوسی پائی جا رہی ہے، جو برسوں سے امریکا کو اپنے تعلیمی اور پیشہ ورانہ خوابوں کی منزل سمجھتے آئے ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق مودی اور ٹرمپ کے تعلقات میں پیدا ہونے والی سرد مہری نے بھی اس پالیسی کو متاثر کیا ہے۔ مودی حکومت کی سفارتی کوششیں بھی اب تک اس پابندی کو نرم نہیں کرا سکیں۔

اگر یہی رجحان برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں امریکا میں بھارتی طلبہ کی تعداد تاریخ کی نچلی ترین سطح پر پہنچ سکتی ہے — جو بھارت کے لیے تعلیمی اور معاشی دونوں حوالوں سے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: بھارتی طلبہ کے مطابق ٹرمپ کے کے لیے

پڑھیں:

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے

یہ نئے محصولات صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے رواں سال عائد کیے گئے عارضی عالمی ٹیرفس کی جگہ لیں گے، جن کی مدت جمعے کو ختم ہو رہی ہے۔ امریکی حکام کے مطابق نئے ٹیرفس 24 جولائی جمعے کے دن سے نافذ العمل ہوں گے اور ان کی شرح 10 فیصد سے 12.5 فیصد تک ہو گی۔

امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر نے کہا کہ جبری مشقت سے تیار کردہ مصنوعات کی امریکہ میں درآمد پر تقریباً ایک صدی سے پابندی عائد ہے اور اس قانون پر سختی سے عمل درآمد کیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ امریکہ کے تجارتی شراکت دار بھی اسی معیار کو اپنائیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے مزید کہا کہ جن ممالک کو نشانہ بنایا گیا ہے وہ امریکی تجارت کے بڑے حصے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے فروری میں سپریم کورٹ کی جانب سے متعدد ٹیرفس منسوخ کیے جانے کے بعد فوری طور پر نئی قانونی بنیادوں پر محصولات دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کی تھی۔ عدالت کے فیصلے نے صدر ٹرمپ کی من مانی بنیادوں پر بلند ٹیرفس عائد کرنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا تھا۔

عدالتی فیصلے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایک مختلف قانونی اختیار استعمال کرتے ہوئے درآمدات پر 10 فیصد عارضی ٹیرفس نافذ کیے تھے، تاہم ان کی مدت صرف 150 دن تھی، جو 24 جولائی کو ختم ہو رہی ہے۔

نئے تجویز کیے گئے محصولات انہی ٹیرفس کی جگہ لیں گے۔ کون کون سے ممالک متاثر

یہ اقدامات کئی ماہ تک جاری رہنے والی تحقیقات کے بعد مرتب کیے گئے ہیں اور ماہرین کے مطابق انہیں قانونی چیلنجز کا سامنا ہونے کی صورت میں پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جا رہا ہے۔

امریکی حکام کے مطابق ارجنٹائن، بنگلہ دیش، برطانیہ، کمبوڈیا، کینیڈا، ایکواڈور، السلواڈور، گوئٹے مالا، ہونڈوراس، بھارت، انڈونیشیا، اردن، ملائیشیا، میکسیکو، پاکستان، سری لنکا اور ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو سمیت متعدد ممالک کی مصنوعات پر 10 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے۔

دوسری جانب یورپی یونین، تائیوان، جاپان، جنوبی کوریا اور سوئٹزرلینڈ کی مصنوعات پر یہ شرح 10 یا 12.5 فیصد ہو گی۔ اس کے علاوہ چین سمیت دیگر 38 ممالک پر 12.5 فیصد ٹیرفس نافذ کیے جائیں گے۔

نئے امریکی ٹیرفس پر مختلف ممالک کا شدید ردعمل

امریکہ کی جانب سے نئے درآمدی ٹیرفس نافذ کیے جانے کے بعد مختلف متاثرہ ممالک نے اس فیصلے پر شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے انہیں غیر منصفانہ اور بلاجواز قرار دیا ہے۔

برازیل، جس کی امریکہ کو برآمدات پر نئے اقدامات کے تحت 12.5 فیصد ٹیرفس عائد کیے جائیں گے، نے امریکی فیصلے کو ’’مکمل طور پر من مانا‘‘ اور ’’بلاجواز‘‘ قرار دیا ہے۔

آسٹریلیا نے کہا ہے کہ نئے امریکی ٹیرفس ’’کسی بھی لحاظ سے قابل فہم نہیں‘‘ اور ملکی حکومت اس فیصلے پر شدید مایوس ہے۔ اب آسٹریلوی مصنوعات پر امریکی درآمدی محصولات 10 فیصد سے بڑھا کر 12.5 فیصد کر دیے جائیں گے۔

جاپان نے بھی اس امریکی اقدام پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ جاپانی حکومت کے ترجمان نے کہا کہ ملک کی صنعتی اور تجارتی سرگرمیاں بین الاقوامی قوانین اور ضوابط کے مطابق انجام دی جاتی ہیں، اس لیے اس بنیاد پر اضافی ٹیرفس عائد کرنا مناسب نہیں۔

دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی

دریں اثنا واشنگٹن مزید 16 معیشتوں سے متعلق تحقیقات بھی کر رہا ہے، جن کے نتیجے میں مستقبل میں اضافی محصولات عائد کیے جا سکتے ہیں۔

تجارتی امور کی ماہر وکیل گریٹا پائش نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ بنیادی ٹیرفس نافذ کرنے کے ساتھ مزید محصولات کی دھمکی برقرار رکھنا امریکہ کو اپنے تجارتی شراکت داروں پر دباؤ قائم رکھنے میں مدد دیتا ہے۔

ان کے مطابق اس حکمت عملی سے ایسے ممالک کو اپنے سابقہ تجارتی معاہدوں پر عمل درآمد کی ترغیب بھی ملتی ہے، جبکہ حکومت چاہتی ہے کہ عدالتوں میں ممکنہ چیلنجز کی صورت میں نئے ٹیرفس قانونی طور پر مضبوط ثابت ہوں۔

امریکی حکام کے مطابق وہ مصنوعات جو پہلے ہی مخصوص شعبہ جاتی ٹیرفس، جیسے اسٹیل اور ایلومینیم پر عائد محصولات، کے دائرے میں آتی ہیں، ان پر نئے ٹیرفس لاگو نہیں ہوں گے۔

ادارت: مقبول ملک

متعلقہ مضامین

  • جبری مشقت کے خدشات: امریکہ نے پاکستان سمیت درجنوں ٹریڈ پارٹنرز پر نئے ٹیرفس لگا دیے
  • ٹرمپ انتظامیہ نے 60 تجارتی شراکت داروں پر نئے ٹیرف عائد کر دیئے
  • امریکہ کا پاکستان سمیت 60 ممالک پر نئے ٹیرف عائد کرنے کا اعلان
  • معرکہ حق میں بھارت کو کتنا نقصان پہنچا؟ احتجاج میں شامل بھارتی طلبہ نے بھی پاکستان کے مؤقف کی حمایت کردی
  • ٹرمپ کا نیا ٹیرف پاکستان، بھارت، چین، یورپی یونین سمیت 60 شراکت داروں پر آج سے نافذ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • نئی امریکی ویزا پالیسی پاکستانی طلبہ کے لیے مشکلات کا سبب بن سکتی ہے
  • مودی کا امتحانی پرچے لیک کرنے والوں کے خلاف فاسٹ ٹریک عدالتیں قائم کرنے کا اعلان
  • سلمان خان بیان، بھارتی طلباء کے احتجاج پر دبنگ خان کی کھل کر حمایت