میٹرک اور انٹر میں نئی گریڈنگ پالیسی سے جی پی اے خارج، 2026 سے اطلاق کا نوٹیفکیشن جاری
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
کراچی:
ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے آفیشل یا سرکاری فورم آئی بی سی سی (انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن) نے نئی گریڈنگ پالیسی کے اطلاق کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جو مرحلہ وار آئندہ برس 2026 سے میٹرک اور انٹر کے سالانہ امتحانات قابل عمل ہوگا تاہم نئی گریڈنگ پالیسی سے "جی پی اے اور سی جی پی اے" کو نکال دیا گیا ہے جو اس سے قبل نئی گریڈنگ پالیسی کا حصہ تھی۔
کراچی میں گزشتہ ماہ ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کے سربراہوں کے منعقدہ اجلاس میں کیا گیا اور فیصلے پر عمل درآمد کے سلسلے میں اب آئی بی سی سی نے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے۔
ایکسپریس نیوز کو آئی بی سی سی کے ایگزیکٹیو ڈائریکٹر ڈاکٹر غلام علی ملاح نے بتایا کہ "کراچی میں منعقدہ فورم کے اجلاس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملک کی کئی جامعات فی الحال جی پی اے کی بنیاد پر یونیورسٹیز میں داخلہ دینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جامعات کا کہنا ہے کہ نئی گریڈنگ پالیسی میں فی الوقت گریڈ پوائنٹ ایوریج کو شامل نہ کیا جائے جبکہ اس رائے سے تعلیمی بورڈز بھی متفق تھے لہذا اب نئی گریڈنگ پالیسی سال 2026 سے جی پی اے کے بغیر نافذ ہوگی۔
واضح رہے کہ آئی بی سی سی کے تحت نئی گریڈنگ پالیسی کے اطلاق کے حوالے سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی کہا گیا ہے کہ جی پی اے کا اطلاق ملک بھر کے تمام تعلیمی بورڈز کی جانب سے نئی گریڈنگ پالیسی کے اجراء تک روکا گیا ہے۔
مزید برآں ایسے طلبہ جو اب کسی پرچے میں 40 سے کم نمبر حاصل کریں گے انھیں "یو" گریڈ دیتے ہوئے ungraded کہا جائے گا جبکہ اس سے قبل "یو" گریڈ کو غیراطمینان بخش گریڈ کہا گیا تھا۔
یاد رہے کہ نئی پالیسی میں میٹرک اور انٹر میں تمام پرچوں کے پاسنگ مارکس 33 سے بڑھا کر 40 کیے گئے ہیں جبکہ اب کیمبرج کی طرز پر تمام مضامین کو علیحدہ علیحدہ گریڈ کیا جائے گا، اس وقت رائج پالیسی میں 80 فیصد سے 100 فیصد تک مارکس حاصل کرنے پر اے ون گریڈ دیا جاتا ہے۔
اب 81 سے 100 مارکس تک 4 مختلف گریڈز ہوں گے جس میں 96 سے 100 تک extra ordinary گریڈ یا اے ++ ، 91 سے 95 تک exceptional یا اے +گریڈ، 86 سے 90 تک outstanding یا اے گریڈ اور 81 سے 85 تک excellent یا بی ++ گریڈ ہوگا۔
مزید گریڈز میں بی +، بی ، سی + ، سی ، ڈی اور یو گریڈ ہوں گے جنہیں بالترتیب very good , good , fair good, above average, emerging, ungraded کا نام دیا گیا ہے۔
یاد رہے کہ 2026 میں یہ پالیسی ملک بھر میں نویں اور گیارھویں جبکہ 2027 میں دسویں اور بارھویں جماعتوں پر قابل اطلاق ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: نئی گریڈنگ پالیسی تعلیمی بورڈز جی پی اے ملک بھر گیا ہے
پڑھیں:
وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس، معیشت کی مجموعی ترقی اور پالیسی اقدامات پر جائزہ
اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت سرمایہ کاری میں اضافہ اور معیشت کی مجموعی ترقی کے لئے شعبہ جاتی اصلاحات اور پالیسی اقدامات پر جائزہ اجلاس ہوا۔
نجی ٹی وی چینل دنیا نیوز کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف نے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت کی پائیدار ترقی کے لئے صنعت وحرفت کا فروغ اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ صنعتی مصنوعات کی ملکی پیداور اضافے کے ساتھ ساتھ برآمدات بڑھانے کے لیے موٴثر پالیسی اقدامات حکومتی ترجیحات کا حصہ ہیں، صنعت و تجارت اور معیشت کے مختلف شعبہ جات میں اصلاحات کا مقصد طویل المدتی معاشی افادیت اور عوامی فلاح ہونا چاہئے۔
ایف آئی اے نے جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے والی 2 خواتین کو آف لوڈ کر دیا ، 2 ایجنٹ گرفتار
وزیراعظم نے کہا کہ مستقبل کی توانائی کی ضروریات کو متبادل توانائی کے ذرائع سے پورا کرنے کے لیے جامع حکمت عملی پر بھرپور انداز میں کام ہو رہا ہے، توانائی کی بچت اور سستی ٹرانسپورٹ کی ملکی ضروریات پوری کرنے کے لئے جامع اور موثر الیکٹرک وہیکلز پالیسی وقت کی اہم ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا کہ جدید ٹیکنالوجی کی مختلف شعبوں میں شمولیت کے لئے تمام وزارتیں اور ماہرین کی بامعنی مشاورت کو یقینی بنائیں، موثر ترقیاتی پالیسیز کی تشکیل و نفاذ کے لیۓ تمام وزراتیں باہمی تعاون اور ہم آہنگی سے کام کریں، تمام اصلاحات اور اقدامات میں انتظامی شفافیت اور بہترین کارکردگی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
پنجاب میں آندھی اور طوفان سے تباہی ، ایک شہری جاں بحق، 46 گھر متاثر
اجلاس میں متعلقہ وزارتوں کی جانب سی مختلف زیر غور پالیسی تجاویز پر بریفنگ دی گئی۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وفاقی وزیر پاور ڈیویژن سردار اویس لغاری، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک، کے معاون خصوصی ہارون اختر اور ڈائریکٹر جنرل ایس آئی ایف سی میجر جنرل اسد الرحمن چیمہ اور متعلقہ اداروں کے عہدے داران نے شرکت کی۔
مزید :