ٹرمپ اقدامات، بھارتی طلبہ کی امریکا آمد میں ڈرامائی کمی
اشاعت کی تاریخ: 8th, October 2025 GMT
لاہور:
کئی عشروں سے ہر سال لاکھوں بھارتی طلبہ وطالبات اعلی تعلیم حاصل کرنے امریکا آ رہے تھے۔ گزشتہ برس انھوں نے 8 ارب ڈالر (22 کھرب 48 ارب پاکستانی روپے)ک ی خطیر رقم بصورت فیس امریکی یونیورسٹیوں کو دی تھی مگر یہ ہنی مون صدر ٹرمپ نے مختلف اقدام کر کے ختم کر دیا کہ وہ بھارتی وزیراعظم مودی کی عیّاری وغروربخوبی جان چکے۔
یوں مودی کی چال بازیوں نے لاکھوں بھارتی طلبہ سے بہترین تعلیم دیتی امریکی یونیورسٹیاں چھین کر ان کا مستقبل ڈانواں ڈول کر دیا۔
صدر ٹرمپ نے پہلے اعلان کیا کہ بھارتی گریجوٹس بعد از تعلیم امریکی کمپنیوں میں بہ آسانی ملازمت نہیں کر سکتے۔
پھر بھارتیوں کے محبوب ٹیک ویزے کی فیس 1 لاکھ ڈالر کر دی۔اب ٹرمپ چاہتے ہیں امریکی یونیورسٹیاں صرف 15 فیصد غیرملی طالبان کو داخلہ دیں اور ہر ملک سے محض 5 فیصد طلبہ لیے جائیں۔
ان اقدامات سے بھارتی طالب علم امریکہ چھوڑ کر دیگر ممالک کا رخ کر رہے۔ اگست 24 میں ’’71 ہزار‘‘بھارتی طلبہ امریکہ آئے تھے، اگست 25 میں ان کی تعداد صرف ’’41 ہزار‘‘رہ گئی۔ یوں 44 فیصد کمی آئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: بھارتی طلبہ
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔