امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی قرار دے دیا
اشاعت کی تاریخ: 19th, November 2025 GMT
امریکی صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی قرار دے دیا WhatsAppFacebookTwitter 0 19 November, 2025 سب نیوز
نیویارک(آئی پی ایس )امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کے روز کہا ہے کہ سعودی عرب کو اہم نان نیٹو اتحادی قرار دیا جا رہا ہے۔ٹرمپ نے وائٹ ہاس میں بلیک ٹائی عشائیے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج رات، مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے خوشی ہو رہی ہے کہ ہم سعودی عرب کو باضابطہ طور پر اہم غیر نیٹو اتحادی قرار دے کر اپنے عسکری تعاون کو ایک نئی بلندی تک لے جا رہے ہیں، جو ان کے لیے بہت اہم ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ اور میں اب پہلی مرتبہ آپ کو یہ بتا رہا ہوں، کیونکہ وہ آج کی رات کے لیے اسے تھوڑا سا راز رکھنا چاہتے تھے، یہ وہ درجہ ہے جو اس سے پہلے صرف 19 ممالک کو دیا گیا ہے۔پولیٹیکو کے مطابق، اس فہرست میں شامل دیگر ممالک میں اسرائیل، اردن، کویت اور قطر بھی شامل ہیں۔اس حیثیت سے امریکا کے شریک ملک کو عسکری اور اقتصادی مراعات ملتی ہیں، مگر اس میں امریکا کی جانب سے کسی قسم کی سلامتی کی ضمانت شامل نہیں ہوتی۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ جون میں ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکی حملوں نے سعودی عرب کو مزید محفوظ بنا دیا ہے۔اسی دوران، محمد بن سلمان نے اس سے قبل یہ وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ امریکا میں سعودی سرمایہ کاری کو ایک کھرب ڈالر تک بڑھائیں گے، جبکہ اس سے پہلے مئی میں ٹرمپ کے سعودی عرب کے دورے کے موقع پر 600 ارب ڈالر کا وعدہ کیا گیا تھا، تاہم انہوں نے کوئی تفصیلات یا ٹائم فریم نہیں بتایا۔
عشائیے میں خطاب کرتے ہوئے سعودی ولی عہد نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پرتپاک استقبال کرنے پر شکریہ ادا کیا۔انہوں نے کہا کہ یہ تعلق تقریبا نو دہائیوں پہلے شروع ہوا تھا، اور اس دوران دونوں ممالک ایک ساتھ کام کرتے رہے ہیں، لیکن آج کا دن خاص ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان اقتصادی تعاون کا افق پہلے سے کہیں زیادہ بڑا اور وسیع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں ممالک ایسے معاہدوں پر بھی دستخط کر رہے ہیں جو تعلقات کو مزید گہرا کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرآئندہ سال مون سون رواں سال سے 26 فیصد زیادہ شدید ہوگا، وزیر موسمیاتی تبدیلی نے خطرے کی گھنٹی بجادی آئندہ سال مون سون رواں سال سے 26 فیصد زیادہ شدید ہوگا، وزیر موسمیاتی تبدیلی نے خطرے کی گھنٹی بجادی پاکستان اور انڈونیشیا کی انسداد دہشت گردی آپریشنز کیلئے مشترکہ فوجی مشق پاکستان نے بھارت کیلئے فضائی حدود بندش میں توسیع کر دی، نوٹم جاری ایک لاکھ 56 ہزار آبادی والے ملک کوراسا نے فیفا ورلڈکپ کیلئے کوالیفائی کر کے نئی تاریخ رقم کر دی آئین کی حکمرانی بحال کریں ضمانت دیتا ہوں عمران خان کسی کیخلاف کارروائی نہیں کریگا، اچکزئی گلگت ،فیصل آباد:پاکستان سپر لیگ میں 2 نئی ٹیموں کے ممکنہ نام سامنے آگئےCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: نیٹو اتحادی قرار سعودی عرب کو
پڑھیں:
بحری جہازوں کو ہونے والے نقصان کا ازالہ منجمد ایرانی اثاثوں سے کیا جائے گا، ٹرمپ کا بڑا اعلان
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ خلیجی خطے میں بحری جہازوں، کارگو اور متعلقہ سامان کو پہنچنے والے نقصانات کی تلافی کے لیے امریکا اپنی تحویل میں موجود منجمد ایرانی اثاثوں سے ادائیگی کرے گا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق صدر ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ آئندہ کسی بھی بحری جہاز، کارگو یا اس سے متعلق املاک کو نقصان پہنچنے کی صورت میں اس کا مالی ازالہ ایرانی فنڈز سے کیا جائے گا، جو امریکا کے کنٹرول میں ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ’آج سے اور آئندہ اطلاع تک، بحری جہازوں، کارگو یا ان سے متعلق کسی بھی نقصان کی ادائیگی امریکا کی تحویل میں موجود ایرانی رقم سے کی جائے گی۔‘
امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خلیج، آبنائے ہرمز اور بحیرۂ احمر میں جاری کشیدگی کے باعث عالمی جہاز رانی اور توانائی کی ترسیل شدید دباؤ کا شکار ہے۔ حالیہ ہفتوں میں متعدد تجارتی جہازوں اور آئل ٹینکروں پر حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آ چکی ہیں۔
اگرچہ ٹرمپ نے یہ واضح نہیں کیا کہ کن ایرانی اثاثوں یا کتنی رقم کو اس مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا، تاہم امریکا ماضی سے مختلف پابندیوں کے تحت اربوں ڈالر مالیت کے ایرانی اثاثے منجمد کیے ہوئے ہے۔
pic.twitter.com/Lbev6wPsNZ
— Rapid Response 47 (@RapidResponse47) July 23, 2026ماہرین کے مطابق اگر امریکا اس اعلان پر عملی اقدامات کرتا ہے تو اس سے ایران اور امریکا کے درمیان قانونی اور سفارتی تنازعات مزید شدت اختیار کر سکتے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے پر بین الاقوامی قوانین، مالیاتی ضوابط اور خودمختار ریاستوں کے اثاثوں سے متعلق نئے سوالات بھی جنم لے سکتے ہیں۔