فیڈرل بورڈ کا نمبروں کے ساتھ نیا گریڈنگ فارمولا متعارف
اشاعت کی تاریخ: 7th, October 2025 GMT
فیڈرل بورڈ کا نیا گریڈنگ سسٹم 2026ء سے ایس ایس سی امتحانات پر لاگو ہوگا، ایف اے اور ایف ایس سی کے لیے نیا فارمولا 2027ء سے نافذ ہوگا، 96 سے 100 فیصد نمبر لینے والے طلبہ کو A++ گریڈ ملے گا۔ اسی طرح 91 سے 95 فیصد نمبر پر A+ گریڈ دیا جائے گا۔ اسلام ٹائمز۔ فیڈرل بورڈ نے نیا گریڈنگ فارمولا جاری کر دیا۔ نیا گریڈنگ سسٹم 2026ء سے ایس ایس سی امتحانات پر لاگو ہوگا، ایف اے اور ایف ایس سی کے لیے نیا فارمولا 2027ء سے نافذ ہوگا، 96 سے 100 فیصد نمبر لینے والے طلبہ کو A++ گریڈ ملے گا۔ اسی طرح 91 سے 95 فیصد نمبر پر A+ گریڈ دیا جائے گا، 86 سے 90 فیصد نمبر لینے والوں کے لیے A گریڈ جب کہ 81 سے 85 فیصد کے لیے B++،اور 76 سے 80 فیصد کے لیے B+ گریڈ مقرر کیا گیا۔
علاوہ ازیں 71 سے 75 فیصد نمبر پر B گریڈ قرار دیا گیا، 61 سے 70 فیصد کے لیے C+، اسی طرح 51 سے 60 فیصد کے لیے C گریڈ، 40 سے 50 فیصد نمبر پر D گریڈ دیا جائے گا۔ 40 فیصد سے کم نمبر لینے والے طلبہ کو "Ungraded" قرار دیا جائے گا، ناکام طلبہ دوبارہ امتحان دینے کے اہل ہوں گے، اگر وہ دیگر شرائط پوری کریں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصد نمبر پر دیا جائے گا فیصد کے لیے نیا گریڈنگ نمبر لینے ایس سی
پڑھیں:
گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔
انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔
گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔